میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
محمد علی جناح یونیورسٹی، متاثرہ طلبہ کا داخلے بحال کرنے اور مبینہ بدانتظامی کی تحقیقات کا مطالبہ

محمد علی جناح یونیورسٹی، متاثرہ طلبہ کا داخلے بحال کرنے اور مبینہ بدانتظامی کی تحقیقات کا مطالبہ

جرات ڈیسک
اتوار, ۱۸ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

چار طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی، فیس واؤچرز روکنے اور دھمکیاں دینے کے الزامات

طلبہ کی ایچ ای سی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مداخلت کی اپیل

محمد علی جناح یونیورسٹی کے متاثرہ طلبہ نے انتظامیہ پر داخلے منسوخ کرنے، تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالنے، ہراساں کرنے اور مبینہ دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے اپنے تعلیمی حقوق کی مکمل بحالی اور معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ اپریل 2026 سے اپنے مسائل کے حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، تاہم چھ ماہ گزرنے کے باوجود انہیں مکمل انصاف نہیں مل سکا۔متاثرہ طلبہ کے مطابق اپریل میں چار طلبہ کے داخلے منسوخ کرنے اور انہیں یونیورسٹی سے خارج کرنے کی کارروائی کی گئی۔

ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں شوکاز نوٹس جاری نہیں کیے گئے اور نہ ہی اپنا دفاع پیش کرنے کے لیے منصفانہ سماعت کا موقع دیا گیا۔ طلبہ کے مطابق مسلسل کوششوں کے بعد تین طلبہ بحال ہوئے، تاہم ایک طالب علم کا داخلہ تاحال منسوخ ہے، جبکہ بحال ہونے والے دو طلبہ کو بھی کیمپس میں داخلے اور کلاسوں میں شرکت کے حوالے سے پابندیوں کا سامنا ہے۔

طلبہ نے مؤقف اختیار کیا کہ کلاسوں میں باقاعدہ شرکت اور امتحانات کی تیاری کے لیے مناسب موقع فراہم کیے بغیر امتحانات میں شرکت کرنا پڑی، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی اور مستقبل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جزوی بحالی ان کے تعلیمی حقوق کی مکمل بحالی نہیں ہے۔ متاثرہ طلبہ نے یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن نوید اختر پر دھمکیاں دینے اور دباؤ ڈالنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

ان کے مطابق انہیں یونیورسٹی میں تعلیم جاری نہ رکھنے اور کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے کا کہا گیا۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ دیگر طلبہ کو بھی داخلے منسوخ کرنے کی دھمکیاں دے کر حلف ناموں پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

انہوں نے ان واقعات میں امتیازی سلوک اور نسلی و لسانی بنیادوں پر طلبہ کی درجہ بندی کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ طلبہ کے مطابق تازہ واقعے میں وہ یونیورسٹی کی ہدایات کے مطابق فیس جمع کرانے اور مضامین میں اندراج کے لیے پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کی ہدایات پر فیس واؤچرز جاری نہیں کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانے کی کوشش پر انہیں مزید رکاوٹوں اور مبینہ دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔متاثرہ طلبہ نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران انتظامیہ سے مذاکرات، منصفانہ سماعت اور تعلیمی حقوق کی بحالی کے لیے متعدد بار رجوع کیا گیا، لیکن اب تک کوئی تسلی بخش حل سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ، ہائر ایجوکیشن کمیشن، متعلقہ تعلیمی حکام، قانونی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی معاملے کا فوری نوٹس لیں اور داخلوں کی منسوخی سمیت تمام انتظامی اقدامات کا قانونی و ضابطہ جاتی جائزہ لیا جائے۔

طلبہ نے منسوخ شدہ داخلہ بحال کرنے، تمام متاثرہ طلبہ کو کیمپس میں داخلے، کلاسوں میں شرکت، فیس واؤچرز کے اجرا، مضامین میں اندراج اور دیگر تعلیمی سہولتوں تک بلا رکاوٹ رسائی دینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کلاسوں اور امتحانات کی تیاری سے محروم رہنے والے طلبہ کے لیے مناسب تعلیمی سہولت اور ریلیف فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔ان کا مطالبہ ہے کہ طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی سے متعلق شکایات، شوکاز نوٹسز، انکوائری کارروائی اور فیصلوں کا ریکارڈ سامنے لایا جائے اور یہ جانچا جائے کہ متعلقہ اقدامات یونیورسٹی کے قواعد، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی قابلِ اطلاق پالیسیوں اور ملکی قوانین کے مطابق تھے یا نہیں۔

طلبہ نے مبینہ دھمکیوں اور ہراسانی کا سلسلہ روکنے، کیمپس میں محفوظ تعلیمی ماحول قائم کرنے، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن نوید اختر کو عہدے سے ہٹانے اور طلبہ کو ممکنہ انتقامی کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

متاثرہ طلبہ نے کہا کہ وہ اپنے تعلیمی حقوق کی مکمل بحالی، شکایات کی منصفانہ سماعت اور مبینہ بدانتظامی کے ذمہ داروں کے احتساب تک پْرامن اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں