میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
انسانی نفسیات اور شناخت کی قید

انسانی نفسیات اور شناخت کی قید

جرات ڈیسک
پیر, ۱۹ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسانی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان نے دنیا کو سمجھنے کی کوشش کی، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کو سمجھنے کے بعد اس نے اپنے بنائے ہوئے تصورات کو آخری سچائی سمجھ لیا۔ اس نے انسانوں کو خانوں میں تقسیم کیا، کرداروں پر فیصلوں کی مہریں لگائیں، خوبصورتی کے پیمانے تراشے، اخلاقیات کے ضابطے بنائے اور پھر انہی پیمانوں کو کائنات کی اٹل حقیقت قرار دے دیا۔

آسکر وائلڈ کا پانچ لفظوں پر مشتمل قول، ‘‘تعریف کرنا دراصل محدود کرنا ہے’’، اسی انسانی فکری غرور پر ایک گہرا وار ہے۔ یہ محض ادب کا جملہ نہیں؛ یہ انسانی نفسیات، فلسفے، تاریخ اور اقتدار کے ان تمام نظاموں کے خلاف ایک سوال ہے جو انسان کو اس کی مکمل پیچیدگی کے بجائے کسی ایک شناخت میں قید کر دیتے ہیں۔وائلڈ کے ناولThe Picture of Dorian Grayمیں حسن، اخلاق، خواہش اور انسانی شخصیت کے درمیان موجود تضادات نمایاں ہوتے ہیں۔ ڈورین گرے کی غیرمعمولی خوبصورتی لوگوں کو اس کے باطن کے بارے میں ایسے فیصلے کرنے پر آمادہ کرتی ہے جن کی بنیاد حقیقت سے زیادہ ظاہری تاثر پر ہوتی ہے۔ اس کا چہرہ جوانی اور معصومیت کی علامت بن جاتا ہے، لیکن اس کے کردار کی داخلی تبدیلیاں اس ظاہری تصویر سے مختلف راستہ اختیار کرتی ہیں۔ یہاں وائلڈ ایک بنیادی حقیقت سامنے لاتے ہیں،انسان جس چیز کو دیکھتا ہے، ضروری نہیں کہ وہی پوری حقیقت ہو۔ چہرہ کردار کا مکمل تعارف نہیں، شہرت اخلاقی عظمت کا ثبوت نہیں اور خوبصورتی نیکی کی ضمانت نہیں۔انسانی دماغ پیچیدہ دنیا کو سمجھنے کے لیے درجہ بندی کرتا ہے۔ نفسیات میں اس عمل کو ذہنی درجہ بندی یا categorization کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے ہم معلومات کو منظم کرتے اور فوری فیصلے کرتے ہیں۔ لیکن یہی سہولت تعصب میں بدل سکتی ہے۔ ہم کسی کو ذہین، کسی کو احمق، کسی کو کامیاب، کسی کو ناکام، کسی کو مہذب اور کسی کو غیرمہذب قرار دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس کی حقیقت جان لی ہے۔ دراصل ہم نے اکثر اس کے بارے میں اپنی معلومات کی حدود کو اس کے وجود کی حدود سمجھ لیا ہوتا ہے۔

جرمن فلسفی فریڈرک نطشے نے روایتی اخلاقی تصورات اور مروجہ اقدار کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کیا۔ اس کی فکر ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ
جن چیزوں کو ہم ابدی اور غیرمتغیر حقیقتیں سمجھتے ہیں، ان کے پیچھے تاریخ، طاقت اور انسانی تعبیرات بھی کارفرما ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح
فریڈرک ہیگل کی فکر میں انسانی شعور اور شناخت کو جامد شے کے بجائے ایک تاریخی اور جدلیاتی عمل کے طور پر سمجھنے کی گنجائش موجود ہے۔
انسان اپنے تضادات، تجربات اور دوسروں سے تعلق کے ذریعے بدلتا ہے۔ اس لیے کسی شخص کو اس کے ایک فیصلے، ایک غلطی یا زندگی کے
کسی ایک دور سے ہمیشہ کے لیے متعین کر دینا اس تبدیلی کے امکان سے انکار ہے۔یہی مسئلہ تاریخ میں بھی بار بار سامنے آیا ہے۔

معاشروں نے انسانوں کو مذہب، نسل، طبقے، زبان اور قومیت کے خانوں میں بانٹ کر ان کے درمیان دیواریں تعمیر کیں۔ نوآبادیاتی
نظاموں نے مختلف معاشروں کو تہذیبی درجہ بندیوں میں تقسیم کیا اور بعض انسانوں کو کمتر قرار دینے کے لیے ایسے تصورات استعمال کیے
جنہیں بعد میں علم اور ترقی کی زبان میں پیش کیا گیا۔ بیسویں صدی میں نازی جرمنی نے نسلی برتری کے نظریے کو ریاستی پالیسی بنایا۔ انسان
کی انفرادی شخصیت کو ایک نسلی شناخت میں سمیٹنے کے اس عمل نے امتیاز، جبر اور اجتماعی قتل کے لیے نظریاتی جواز پیدا کیا۔

تاریخ کا یہ سبق واضح ہے، جب کسی انسان کی مکمل انسانیت کو ایک محدود تعریف کے حوالے کر دیا جائے تو اس کے بنیادی حقوق بھی
خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ تاہم مسئلہ صرف ظالم نظاموں کا نہیں؛ روزمرہ زندگی میں بھی یہی نفسیاتی عمل ہماری سوچ پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ہم
کسی شخص کو ایک مرتبہ ناکام دیکھ کر اسے ناکام انسان سمجھ لیتے ہیں۔ کسی کی خاموشی کو کمزوری، اختلاف کو دشمنی، غربت کو نااہلی اور اقتدار کو
قابلیت کی علامت قرار دے دیتے ہیں۔ یہ فیصلے اکثر اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ انسان کے حالات، مواقع، خوف، محرومیاں اور
تجربات اس کے رویوں پر اثر ڈالتے ہیں۔ کسی شخص کے عمل پر تنقید کرنا ضروری ہو سکتا ہے، لیکن اس عمل کو اس کی پوری شخصیت کا آخری
فیصلہ بنا دینا الگ بات ہے۔ادب اسی محدود نگاہ کے خلاف انسانی تجربے کی وسعت محفوظ کرتا ہے۔ دوستوئیفسکی کے کردار اپنے اندر نیکی
اور بدی، جرم اور ندامت، عقل اور جنون کے پیچیدہ تصادم لیے ہوئے ہیں۔ شیکسپئر کا ہیملٹ فیصلہ کرنے سے پہلے سوال کرتا ہے، شیکسپئر کا
میکبتھ اقتدار کی خواہش کے ہاتھوں اپنے اخلاقی وجود کو بدلتا دیکھائی دیتا ہے، جبکہ چیخوف کے کردار اپنی خواہشات، کمزوریوں اور نامکمل خوابوں کے درمیان زندگی گزارتے ہیں۔

عظیم ادب ہمیں تیار شدہ فیصلے نہیں دیتا۔ وہ ہمیں انسان کے اندر اترنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کردار کوئی سیدھی لکیر نہیں بلکہ تضادات، محرکات اور نتائج سے بنی ایک پیچیدہ دنیا ہے۔آسکر وائلڈ کا قول خود شناسی کے لیے بھی ایک غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم دوسروں کے بارے میں ہی نہیں، اپنے بارے میں بھی ایسی تعریفیں تخلیق کرتے ہیں جو آہستہ آہستہ ذہنی قید بن جاتی ہیں۔ ‘‘میں تخلیقی نہیں ہوں’’، ‘‘میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا’’، ‘‘میں ایسا ہی ہوں’’، ‘‘میرے حالات کبھی نہیں بدل سکتے’’۔ جب یہ جملے بار بار دہرائے جاتے ہیں تو وہ محض خیالات نہیں رہتے؛ وہ ہمارے فیصلوں، کوششوں اور امکانات کی حدود متعین کرنے لگتے ہیں۔ انسان اپنی شناخت کے بارے میں بنائے گئے تصور کا اسیر ہو سکتا ہے اور پھر اسی تصور کو اپنی قسمت سمجھ بیٹھتا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر تعریف غلط ہے یا ہر فیصلہ غیرضروری۔ انصاف کے لیے حقائق کی شناخت ضروری ہے، علم کے لیے تصورات درکار ہیں اور معاشرے کے لیے اخلاقی اصول اہم ہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے محدود علم کو مکمل حقیقت کا درجہ دے دیتے ہیں۔ کسی عمل کو غلط کہنا اور کسی انسان کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ اصلاح قرار دینا ایک ہی بات نہیں۔ کسی کی صلاحیت کا اندازہ لگانا اور اس کے مستقبل کے تمام دروازے بند کر دینا بھی مختلف رویے ہیں۔ فہم کی پختگی یہ ہے کہ ہم اپنے فیصلوں کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی حدود سے بھی واقف رہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں بھی سیاسی اور سماجی شناختوں کو مستقل خانوں میں بند کرنے کے نتائج دیکھے جا سکتے ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی،
سیاسی وابستگی کو مکمل کردار اور تنقید کو غداری سمجھنے کا رویہ معاشرتی مکالمے کو کمزور کرتا ہے۔ کسی شہری کی وفاداری کا فیصلہ محض اس کے سوال، زبان یا سیاسی موقف سے نہیں کیا جا سکتا؛ اس کے لیے شواہد، انصاف اور آئینی اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک معاشرہ اسی وقت
مضبوط ہوتا ہے جب وہ اپنے شہریوں کو اندھی تعریفوں اور دائمی الزامات کے بجائے دلیل اور قانون کے پیمانے پر پرکھتا ہے۔ آخرکار،
آسکر وائلڈ کا جملہ ہمیں ایک بنیادی فکری ذمہ داری سونپتا ہے: انسان کو سمجھنے کی کوشش کرو، اسے اپنی سمجھ کی حدود میں قید مت کرو۔ تعریفیں
دنیا کو قابلِ فہم بناتی ہیں، مگر جب انہیں آخری سچائی سمجھ لیا جائے تو وہ امکان کے دروازے بند کر دیتی ہیں۔ انسان اپنی غلطیوں سے بڑا، اپنی
کامیابیوں سے زیادہ پیچیدہ اور اپنی موجودہ شناخت سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔کیونکہ کسی انسان کو ایک لفظ میں بند کر دینا آسان ہے،
مگر اس کے اندر موجود پوری کائنات کو سمجھنے کے لیے علم کے ساتھ عاجزی بھی درکار ہوتی ہے۔ اور شاید آزادی کی ابتدا اسی لمحے ہوتی ہے
جب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انسان وہی نہیں جو وہ آج ہے؛ وہ وہ بھی ہو سکتا ہے جس کا امکان ابھی تک ہماری نگاہ سے اوجھل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں