جین زی پر پولیس تشدد، عالمی میڈیا میں مودی سرکار پر تنقید
شیئر کریں
بھارت میں 16 ؍اکتوبر 2026ء کی سیاسی صورتِ حال نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال نمایاں کر دیا ہے کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے، احتجاج اور حکومتی نظم و ضبط کے درمیان توازن کس طرح برقرار رکھا جائے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں اشوتوش رانکا اور سورَو داس کو نئی
دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لے کر عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔
اس کارروائی کے خلاف پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ‘‘لہرا دو ترنگا’’ مہم شروع کی، جس میں قومی پرچم لہرانے کو شہریوں کے جمہوری حق
اور پُرامن احتجاج کی علامت قرار دیا گیا۔
نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں واقع سینٹرل پارک میں کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے اعلان کردہ ‘‘ترنگا مارچ’’ اور احتجاج سے قبل ہی
پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ نئی دہلی میونسپل کونسل نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر 16 اور 17 اکتوبر
کے لیے سینٹرل پارک مکمل طور پر بند کر دیا، جس کے باعث احتجاج کے مقام اور انتظامی اقدامات پر نئی بحث شروع ہوگئی۔اس صورتِ حال
میں اہم بات محض مظاہرین کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہے کہ انتخابی نظام اور سیاسی جواب دہی کے سوالات اب نوجوانوں کی احتجاجی سرگرمیوں کا
حصہ بن چکے ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، جمعہ 16 اکتوبر کو دہلی پولیس نے احتجاجی مارچ سے پہلے ابھیجیت دِپکے کو حراست
میں لے لیا۔ طلبہ رہنما نیہا بورا کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے باوجود مظاہرین مختلف مقامات پر جمع
ہوئے، قومی پرچم لہرائے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ممبئی، بنگلورو اور پٹنہ میں بھی احتجاجی سرگرمیوں کی
اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ تحریک کا دائرہ صرف دہلی کے ایک مقام تک محدود نہیں رہا، اگرچہ مختلف شہروں میں
احتجاج کی نوعیت اور حجم یکساں نہیں۔
16 ؍اکتوبر کے احتجاج میں قومی پرچم کی علامت بھی نمایاں رہی۔ تحریک کے کارکنوں نے مارچ کے لیے ‘‘لہرا دو ترنگا’’ کا نعرہ استعمال کیا۔ اس کا سیاسی مفہوم قابلِ توجہ ہے، کیونکہ مظاہرین اپنی سرگرمی کو قومی اداروں اور جمہوری حقوق کے دفاع سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ
حکومت کے بعض نمائندے اسے اپوزیشن کی جانب سے نوجوانوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ دونوں
مؤقفوں کے درمیان اصل سوال یہ ہے کہ کسی شہری کی حب الوطنی یا قومی وفاداری کا فیصلہ اس بنیاد پر کیسے کیا جاسکتا ہے کہ وہ حکومت کی
حمایت کرتا ہے یا اس کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتا ہے۔ قومی پرچم ریاست کی علامت ہے، کسی ایک جماعت کی ملکیت نہیں۔دہلی میں احتجاجی مقامات کی تبدیلی نے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جنتر منتر طویل عرصے سے سیاسی اور سماجی احتجاج کا معروف مقام رہا ہے، لیکن انتظامیہ نے اسے مقررہ احتجاجی مقام کی حیثیت سے ہٹانے کے بعد رام لیلا میدان، براری گراؤنڈ اور سی بی ڈی گراؤنڈ جیسے متبادل مقامات نامزد کیے۔ انتظامیہ کے لیے ٹریفک، عوامی سلامتی اور شہریوں کی روزمرہ زندگی کا تحفظ اہم ذمہ داریاں ہیں، مگر مظاہرین کا
اعتراض ہے کہ اگر احتجاج کو شہر کے مرکزی مقامات سے دور کردیا جائے تو ان کی آواز متعلقہ حکام اور عام لوگوں تک پہنچانے میں دشواری
ہوسکتی ہے۔سپریم کورٹ نے انتخابی نظرثانی، پولیس کی کارروائی اور جنتر منتر کی حیثیت سے متعلق درخواستوں پر متعلقہ حکام سے جواب
طلب کیا اور احتجاج کے دوران کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ محفوظ رکھنے کی ہدایت دی۔ عدالت کے سامنے ایک طرف احتجاج کے حق اور
دوسری طرف تاجروں، چھوٹے کاروباریوں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے معاشی مفادات کا سوال بھی موجود ہے۔ اس لیے
عدالتی کارروائی کو کسی ایک فریق کی مکمل کامیابی یا ناکامی سمجھنے کے بجائے جاری قانونی عمل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ عدلیہ کا بنیادی کردار یہ
یقینی بنانا ہے کہ انتظامی فیصلے قانون کے مطابق ہوں اور شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
بھارت میں اس وقت ایک اور اہم پہلو نوجوانوں کی معاشی بے چینی ہے۔ روزگار کی تلاش، مسابقتی امتحانات میں بے ضابطگیوں کی شکایات اور تعلیم کے بعد مناسب ملازمت حاصل کرنے میں مشکلات نے نوجوانوں کے سیاسی رویوں پر اثر ڈالا ہے۔ اس سے پہلے امتحانی
پرچوں کے افشا کے خلاف ہونے والے احتجاج نے بھی حکومت پر دباؤ بڑھایا تھا۔ موجودہ تحریک میں انتخابی نظام کا مسئلہ نمایاں ہے، لیکن
نوجوانوں کی شرکت کو سمجھنے کے لیے ان کے وسیع تر معاشی اور سماجی خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی جماعتوں کے لیے محض
نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنے کے دعوے کافی نہیں؛ انہیں روزگار، تعلیم اور شفاف حکومتی نظام کے بارے میں قابلِ عمل تجاویز بھی پیش
کرنا ہوں گی۔
حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے موجودہ صورتِ حال ایک امتحان ہے۔ اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ الزامات کو ٹھوس شواہد کے
ساتھ پیش کرے، احتجاج کو پُرامن رکھے اور انتخابی اصلاحات کے لیے واضح مطالبات سامنے لائے۔ اسی طرح حکومت اور انتظامیہ کو یہ
یقینی بنانا چاہیے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے اقدامات غیر ضروری طور پر شہری آزادیوں کو محدود نہ کریں۔ پولیس کی کارروائی، حراستوں
اور صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی سے متعلق شکایات کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور ذمہ داری کا تعین
ہوسکے۔بھارتی جمہوریت کی مضبوطی کا پیمانہ یہ نہیں کہ حکومت کے خلاف کتنے مظاہرے ہوتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ریاست اختلافِ رائے
کے ساتھ کس طرح پیش آتی ہے، ادارے تنقید کا جواب کس انداز میں دیتے ہیں اور شہریوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے کتنے مؤثر قانونی
راستے میسر ہیں۔ موجودہ احتجاج نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ کیا نوجوانوں کے خدشات کو محض سیاسی مخالفت قرار دے کر مسترد کیا جاسکتا
ہے، یا ان کا جواب دلیل، شفافیت اور عملی اقدامات سے دینا ہوگا؟ اس سوال کا جواب صرف موجودہ احتجاج کا رخ نہیں بلکہ بھارت میں
جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد بھی متعین کرے گا۔
بھارت میں ووٹر لسٹوں میں مبینہ ردو بدل اور انتخابی شفافیت کے خلاف نوجوانوں (جنریشن زی) اور اپوزیشن اتحاد کے احتجاج نے
عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ عالمی اخبارات اور جریدوں نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وزیراعظم
نریندر مودی کی حکومت کو اس وقت ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی اور عوامی چیلنج کا سامنا ہے۔واشنگٹن پوسٹ اور دی فنانشل ٹائمز کے
مطابق مودی کی آہنی گرفت اب کمزور پڑ رہی ہے اور نوجوان طبقہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا ہے۔ دوسری جانب دی
نیویارکر، دی اکنامسٹ اور ٹائم میگزین نے ووٹر لسٹوں سے مبینہ طور پر نام خارج کیے جانے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف
جاری مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ ہیومن
رائٹس واچ نے بھی دارالحکومت نئی دہلی میں مظاہرین اور صحافیوں کے ساتھ سختی اور گرفتاریوں کے واقعات کی سخت مذمت کی ہے۔عالمی
میڈیا کے مطابق، انتخابی شفافیت پر اٹھنے والے ان سوالات اور نوجوانوں کے احتجاج نے نریندر مودی کی حکومت کے لیے ملکی تاریخ کا
سب سے بڑا سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔
امریکا کے معروف ہفت روزہ جریدے دی نیویارکر (The New Yorker) نے 13 اکتوبر 2026ء کو شائع ہونے والے اپنے مضمون ‘‘کیا یہ بھارتی جمہوریت کے خاتمے کی ابتدا ہے؟’’ (Is This the Beginningof the End of Indian Democracy) میں بھارت کی جمہوری صورتِ حال پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ صحافی آئزک چوٹینر نے اس مضمون میں سیاسی
کارکن، سیاسیات کے ماہر اور بھارت جوڑو ابھیان کے قومی کنوینر یوگیندر یادو سے گفتگو کی، جس میں بھارتی جمہوریت، انتخابی شفافیت اور
نریندر مودی حکومت کے طرزِ حکمرانی سے متعلق خدشات کا جائزہ لیا گیا۔ نوجوانوں کے احتجاج اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی پر جاری تنازع
کے تناظر میں اس مضمون نے بھارت کے جمہوری اداروں، شہری آزادیوں اور اختلافِ رائے کے حق سے متعلق بحث کو بین الاقوامی توجہ کا
حصہ بنایا ہے۔رائٹرز کے مطابق، اتر پردیش کے شہر بریلی سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ آئی ٹی ماہر سورج کشواہ نے ‘‘جنتر منتر چلو’’
(Jantar Mantar Chalo) کے نام سے ایک آن لائن ویڈیو گیم تیار کی، جو 14 اکتوبر کو جاری ہونے کے بعد مقبول ہوئی۔ اس گیم
میں کھلاڑی پولیس کی رکاوٹوں سے بچتے ہوئے دہلی کے احتجاجی مقام جنتر منتر تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کھلاڑی چاہیں تو مظاہرین یا
پولیس اہلکار کا کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔ گیم میں پولیس کی رکاوٹوں، لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گرفتاریوں کو طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا
ہے۔ اس کے تخلیق کار کے مطابق، گیم کے بیک وقت کھلاڑیوں کی تعداد دو ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ یہ گیم بھارت میں نوجوانوں کی ڈیجیٹل مزاحمت اور سیاسی طنز کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئی ہے۔
٭٭٭


