میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
زہریلا اسدالدین اویسی، بی جے پی کی بی ٹیم

زہریلا اسدالدین اویسی، بی جے پی کی بی ٹیم

جرات ڈیسک
اتوار, ۱۸ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

بھارت کی سیاسی تاریخ میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی ایک ایسے سیاستدان کے طور پر سامنے آیا ہے جو اپنی شعلہ بیان تقریروں اور مسلمانوں سے متعلق معاملات پر سخت مؤقف اختیار کرنے کے باعث خبروں میں رہتا ہے ۔ اس کی تقاریر کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہیں اور بہت سے مسلمانوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی تو ہے جو ان کے مسائل پر آواز اٹھاتا ہے، کوئی تو ہے جو مسلمانوں کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ تاہم موجودہ سیاسی حالات میں اویسی کے کردار، اس کی جماعت کی حکمت عملی اور اپوزیشن کی احتجاجی تحریک سے دوری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بھارت میں ان دنوں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے متنازع عمل اور مبینہ ووٹ چوری کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر ناموں کی کمی اور دیگر بے ضابطگیوں نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اس معاملے پر مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں اور دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی انتخابی نظام میں شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس احتجاج میں شریک ہے، جن میں مسلمان نوجوان بھی شامل ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اسدالدین اویسی اور اس کی جماعت اس مشترکہ احتجاج کا حصہ کیوں نہیں بنے۔

اسدالدین اویسی نے 6 اکتوبر 2026ء کو حیدرآباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس سوال کا جواب دیا تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کی اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مارچ میں کیوں شریک نہیں ہوئے تو اس نے کہا کہ ان کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین انڈیا اتحاد کا حصہ نہیں ہے، اس لیے وہ اس احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔ اس نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ‘‘بیگانی شادی میں میرا کیا کام؟’’

اویسی نے انتخابی عمل پر تنقید بھی کی اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ اس کے باوجود اس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ جب معاملہ انتخابی شفافیت، ووٹ کے حق اور جمہوری نظام کے تحفظ کا ہو تو سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد کی حدود سے آگے بڑھ کر مشترکہ آواز اٹھانے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ ان کے نزدیک یہ محض انڈیا اتحاد کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر اس شہری کا مسئلہ ہے جو اپنے ووٹ کو جمہوریت کی بنیاد سمجھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں میں مجلس اتحاد المسلمین کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی بی ٹیم قرار دیا جاتا ہے۔ بعض مسلمان بھی یہ الزام لگاتے ہیں کہ اویسی کی سیاسی حکمت عملی بالواسطہ طور پر بی جے پی کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ تاہم یہ ایک سیاسی الزام ہے، جسے ثابت شدہ حقیقت قرار دینے کے بجائے جماعت کی انتخابی حکمت عملی، اس کے فیصلوں اور ان کے نتائج کی بنیاد پر پرکھنا ضروری ہے۔ اویسی کے حامی اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اپنی الگ سیاسی شناخت اور نمائندگی کے حق کے تحت فیصلے کرتی ہے۔ اس اختلاف کے باوجود یہ سوال برقرار ہے کہ جب انتخابی نظام کی شفافیت کا معاملہ سامنے ہو تو سیاسی جماعتوں کو اپنے مؤقف کی وضاحت کس طرح کرنی چاہیے۔

ووٹ چوری کے الزامات نے بھارتی سیاست میں ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب طلب کر رہی ہیں اور انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ دوسری جانب انتخابی حکام کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی جانچ ایک انتظامی عمل ہے اور غلط طور پر نام خارج ہونے کی صورت میں متعلقہ افراد دوبارہ اندراج کے لیے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری، ناموں کے اخراج اور ووٹروں کی شکایات کے ازالے کے طریقۂ کار کو واضح کیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد انتخابی اداروں پر برقرار رہے۔حالانکہ بھارت میں سب سے زیادہ مسلمانوں کے ووٹوں کی تعداد کم کی گئی ہے اور ووٹ چوری ہوئے ہیں. پھر بھی اویسی کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔اس احتجاجی تحریک کے دوران نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے اور اس کے ساتھی سورَو داس اور آشوتوش رنکا بھی خبروں میں آئے۔ اکتوبر 2026ء میں دہلی پولیس نے انہیں احتجاج کے سلسلے میں حراست میں لیا۔ اس واقعے نے نوجوانوں کے احتجاج، پولیس کے اختیارات اور شہریوں کے پُرامن اجتماع کے حق پر بحث کو مزید تیز کر دیا۔ نوجوانوں کی یہ سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ انتخابی شفافیت کا مسئلہ صرف روایتی سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ نئی نسل بھی اس پر اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔اس تناظر میں اویسی کی سیاست کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ وہ اپنی تقاریر میں مسلمانوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور امتیازی سلوک جیسے موضوعات اٹھاتا ہے ۔ اس کی گفتگو کا ایک بڑا حصہ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے متعلق بھی رہا ہے۔ اس نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے. یہ زہریلا سیاستدان ہے۔

اپریل اور مئی 2025ء میں پہلگام حملے کے بعد اس نے پاکستان کے خلاف متعدد سخت بیانات دیے۔ بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے اور
نیوز چینل این ڈی ٹی وی کی رپورٹوں کے مطابق، 3 مئی 2025ء کو حیدرآباد میں خطاب کرتے ہوئے اس نے پاکستان کو ‘‘ناکام ریاست’’
قرار دیا ۔ 10 مئی کو پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرض پر ردعمل دیتے ہوئے بھی اس نے پاکستانی قیادت کے خلاف سخت
زبان استعمال کی۔ ناقدین کا اعتراض یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف سخت بیانات دینے والا اویسی بھارتی مسلمانوں کے داخلی مسائل اور مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اسی شدت سے آواز کیوں نہیں اٹھاتا۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد، مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے، مساجد اور مزارات کے انہدام، تاریخی عمارات کے تحفظ اور مذہبی آزادی سے متعلق معاملات پر اس کی سیاسی حکمت عملی مسلسل بحث کا موضوع رہی ہے۔ مسلمانوں کے حقوق کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی جماعت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسے معاملات پر واضح مؤقف اختیار کرے اور پارلیمنٹ سمیت ہر دستیاب جمہوری فورم پر اپنے مطالبات پیش کرے۔

بھارت میں مسلمانوں کو درپیش مسائل محض تقریروں سے حل نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے قانونی جدوجہد، مؤثر سیاسی نمائندگی، سماجی اتحاد اور جمہوری اداروں سے جواب طلبی ضروری ہے۔ اگر کسی علاقے میں مسجد یا تاریخی عمارت کے انہدام کا معاملہ سامنے آتا ہے، کسی شہری کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنائے جانے کا الزام لگتا ہے یا کسی خاندان کو ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شواہد کی بنیاد پر معاملے کو متعلقہ اداروں کے سامنے اٹھائیں۔ اسی طرح انتخابی فہرستوں سے نام خارج ہونے کی شکایات کا شفاف اور قابلِ اعتماد طریقے سے ازالہ ہونا چاہیے۔
کانگریس کے رہنما راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنما انتخابی شفافیت کے معاملے پر احتجاج میں سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ اس تحریک میں نوجوانوں کی شرکت بھی قابلِ توجہ ہے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے، پُرامن احتجاج اور حکومت سے سوال کرنے کا حق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی کارکردگی کا جائزہ اس کے نعروں کے ساتھ ساتھ اس کے عملی اقدامات سے لیا جانا چاہیے۔ یہی اصول مجلس اتحاد المسلمین سمیت تمام جماعتوں پر لاگو ہوتا ہے۔

اسدالدین اویسی کے سیاسی کردار پر بحث کرتے ہوئے یہ سوال نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی جماعت اپنے سیاسی فیصلوں کی وضاحت کس حد تک عوام کے سامنے کرتی ہے۔ اگر اویسی سمجھتا ہے کہ انڈیا اتحاد کے احتجاج میں شرکت ضروری نہیں تھی تو اسے اپنے مؤقف اور سیاسی حکمت عملی کی وضاحت کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اس کے ناقدین کو بھی یہ پوچھنے کا حق ہے کہ انتخابی شفافیت اور شہری حقوق جیسے مشترکہ معاملات پر اس کی جماعت دوسرے سیاسی فریقوں سے کس بنیاد پر الگ کھڑی ہے۔

بھارت کی جمہوریت کا مستقبل اس بات سے وابستہ ہے کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے، مذہبی اور سیاسی اختلاف کے باوجود شہریوں کے حقوق محفوظ ہوں اور حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے جواب دہ رہیں۔

اسدالدین اویسی ہو یا کوئی دوسرا رہنما، مسلمانوں سمیت تمام شہریوں کے مسائل پر ان کی کارکردگی کو تقریروں کے بجائے عملی اقدامات کی روشنی میں جانچنا چاہیے۔ ووٹ کی حرمت، مذہبی آزادی، قانون کی بالادستی اور جمہوری حقوق ایسے معاملات ہیں جن پر واضح مؤقف اور قابلِ عمل جدوجہد ہی کسی سیاسی نمائندگی کی حقیقی قدر متعین کرتی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں