معدنیات سے متعلق کوئی ٹھیکا کوئی مائن امریکا کے حوالے نہیں کی گئی، خواجہ آصف
شیئر کریں
جو گورنر راج کی مخالفت کررہے ہیں وہ چاہتے تھے اس سیٹ اپ میں ان کا بھی کردار ہو جو انہیں نہیں ملا، وزیردفاع
صوبائی حکومت کی خاموشی کی وجہ سے دہشتگردی بہت بڑھ گئی تھی، ڈیڑھ سال میں دہشتگردوں کی کارروائی میں زیادہ جانی نقصان ہوا
مشرف دور میں مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر تھے، ساتھ ایم ایم اے کی حکومت تھی، اس وقت پیپلزپارٹی اور ن لیگ چاہتی تھی اپوزیشن ہمیں ملے ، نہیں ملی، بیان
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ معدنیات سے متعلق کوئی ٹھیکا کوئی مائن امریکا کے حوالے نہیں کی گئی،بیرونی سرمایہ کاری کے بغیر ہم یہ معدنیات نہیں نکال سکتے، جو گورنر راج کی مخالفت کررہے ہیں وہ چاہتے تھے اس سیٹ اپ میں ان کا بھی کردار ہو جو انہیں نہیں ملا، صوبائی حکومت کی خاموشی کی وجہ سے دہشتگردی بہت بڑھ گئی تھی، ڈیڑھ سال میں دہشتگردوں کی کارروائی میں زیادہ جانی نقصان ہوا،مشرف دور میں مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر تھے اور ساتھ ایم ایم اے کی حکومت تھی، اس وقت پیپلزپارٹی اور ن لیگ چاہتی تھی کہ اپوزیشن ہمیں ملے لیکن نہیں ملی ۔
ایک بیان میں وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ معدنیات سے متعلق ابھی صرف بات چیت کے حد تک ہے کوئی ٹھیکا کوئی مائن امریکا کے حوالے نہیں کی گئی۔خواجہ آصف نے بتایا کہ دنیا کو پتا ہے پاکستان کے پاس یہ قیمتی معدنیات ہیں، کینڈا،چین ، آسٹریلیا، امریکا سب کو دلچسپی ہے، ان ممالک میں جس کے ساتھ ہم محفوظ ہوں گے ان کے ساتھ ضرور کام کریں گے، بیرونی سرمایہ کاری کے بغیر ہم یہ معدنیات نہیں نکال سکتے۔
وزیردفاع نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں وفاق سے تعاون نہیں کررہی تھی، دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کا معلوم ہونے کے باوجود سابق صوبائی حکومت کارروائی نہیں کرتی تھی، صوبائی حکومت کی خاموشی کی وجہ سے دہشتگردی بہت بڑھ گئی تھی، ڈیڑھ سال میں دہشتگردوں کی کارروائی میں زیادہ جانی نقصان ہوا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحاد کی ضرورت ہے، اب ایک متحرک حکومت وہاں دہشتگردی کے خلاف کردار ادا کرے گی، اب ایک ہی مقصد ہوگا کہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی سے نجات دلانی ہے، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے بعد اگر صوبائی حکومت رٹ قائم نہ کرے تو وہی بیماری واپس آجاتی ہے، اب دہشتگردی کے خلاف کارروائی کے بعد صوبائی حکومت رٹ کے قیام کیلئے متحرک کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو گورنر راج کی مخالفت کررہے ہیں وہ چاہتے تھے اس سیٹ اپ میں ان کا بھی کردار ہو جو انہیں نہیں ملا۔وزیردفاع نے کہاکہ صوبے میں گورنر راج لگانے کا منصوبہ پہلے سے نہیں تھا، سارے آپشن استعمال کرلیے جائیں تو اس کے بعد آخری آپشن ہی بچتا ہے اور یہی ہوا، سیدھی انگلیوں سے گھی نکلے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر انگلیاں ٹیڑھی کرنی پڑتی ہیں،مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا وہ ایک شخص کی سیاست کر رہے تھے صوبے کے عوام ان کے ایجنڈے پر نہیں تھے۔خواجہ آصف نے کہا کہ جو اس اقدام کی مخالفت کررہے ہیں وہ چاہتے تھے کہ اس سیٹ اپ میں ان کا بھی کردار ہو جو نہیں ملا، نئے سیٹ اپ میں جن کو کردار نہیں ملا اب ایسی باتیں کرکے صوبیکا نقصان کررہے ہیں۔
خواجہ آصف نے محسن نقوی کی پارلیمنٹ میں کی گئی گفتگو کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں محسن نقوی کی آواز سے خلوص ٹپک رہا تھا۔خواجہ آصف نے کہا کہ سہیل آفریدی کو مراد سعید کے کہنے پروزیراعلیٰ لگایا گیا تھا، مراد سعید اور بانی پی ٹی آئی ایک سکے کے دو رخ ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت بننے کے بعد ایک میٹنگ بلائی گئی اس میں یہ سارے لوگ شامل تھے، اس میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ فوری الیکشن کرایا جائے ، ن لیگ بھی فوری الیکشن کے حق میں تھی، یہ لوگ فوری الیکشن کے حق میں نہیں تھے کہتے تھے سال یہ میٹر چلانے ہیں اور چلائے، اس ایک سال میں ساری سیاست کی کھایا پلٹ گئی، ہم فوری الیکشن کے حق میں تھے، عدم اعتماد کے بعد میں نے خود شہباز شریف سے کہا کہ ایک ماہ میں الیکشن کرادیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ان لوگوں کی نظریں اس وقت بھی مال پر تھیں اب بھی ان کا رونا اقتدار کا ہے، اب بھی ان کا دکھ یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ختم ہوئی ان کو کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے تھا جو نہیں ملا۔خواجہ آصف نے کہاکہ مشرف دور میں مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر تھے اور ساتھ ایم ایم اے کی حکومت تھی، اس وقت پیپلزپارٹی اور ن لیگ چاہتی تھی کہ اپوزیشن ہمیں ملے لیکن نہیں ملی ، دو ڈھائی سال قبل ایک سال کی حکومت میں مولانا فضل الرحمان ہمارے ساتھی تھے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی نے اسمبلی میں کہا تھا کہ کیا بھارت کے ساتھ جنگ کا اعلان کردیتا، اس بیان کے بعد آج تک کیا پی ٹی آئی یا جے یو آئی کی طرف سے شہدا کے ساتھ کوئی کھڑا ہوا ؟ ان میں سے کوئی جنازہ پڑھنے نہیں آیا، ان کو تو ان جنازوں کی امامت کرنی چاہیے تھی۔


