میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جنتر منتر مودی کے لیے وبالِ جان بن گیا

جنتر منتر مودی کے لیے وبالِ جان بن گیا

جرات ڈیسک
هفته, ۱۷ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

بھارت میں گزشتہ دنوں شروع ہونے والے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے ۔ دارالحکومت نئی دہلی میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے متنازع عمل کے خلاف نوجوانوں کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج نے سیاسی ماحول کو کشیدہ کر دیا ہے ۔ انتخابی شفافیت، شہریوں کے حقِ رائے دہی اور پُرامن احتجاج کی آزادی سے متعلق سوالات اب بھارتی سیاست میں اہم موضوع بن چکے ہیں۔ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور احتجاجی رہنماؤں کے خلاف پولیس کارروائی نے اس تنازعے کو مزید نمایاں کر دیا ہے ۔

بھارت میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا معاملہ محض سرکاری ریکارڈ کی درستگی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے انتخابی نظام پر اعتماد اور
جمہوری حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں اور احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا مؤقف ہے کہ
انتخابی فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے طریقۂ کار اور اس عمل میں شفافیت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ ان حلقوں کو
خدشہ ہے کہ اگر کسی اہل ووٹر کا نام غلطی سے فہرست سے خارج ہو جائے تو اس کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ دوسری جانب
انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ نظرثانی کا مقصد فہرستوں کو درست بنانا ہے اور جن اہل ووٹروں کے نام خارج ہوئے ہوں، وہ دوبارہ اندراج کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔اس تنازع نے اس وقت مزید شدت اختیار کر لی جب کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما سورَو داس اور اشوتوش رانکا کو نئی دہلی کے جنتر منتر میں داخل ہونے کے واقعے کے بعد پانچ روزہ عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق، دونوں رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ مظاہرین نے رکاوٹیں عبور کرکے جنتر منتر میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں احتجاج کی اجازت ختم کی جا چکی تھی۔

جنتر منتر نئی دہلی میں طویل عرصے سے پُرامن احتجاج کے لیے مقرر مقام رہا ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے مختلف سیاسی جماعتوں، طلبہ
تنظیموں اور سماجی گروہوں نے یہاں اپنے مطالبات حکام تک پہنچانے کے لیے مظاہرے کیے ہیں، لیکن مودی سرکار نے جنتر منتر کے
مقام کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے ۔ جنتر منتر کے اطراف میں پولیس، فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد تعینات ہے ، جبکہ مظاہروں کو
روکنے کے لیے شہر بھر میں ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کے مرکز جنتر منتر
کا باضابطہ طور پر احتجاجی مقام کا درجہ ختم کیے جانے پر نوجوانوں اور اپوزیشن حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج
کے بعد جنتر منتر پر پابندیوں کا معاملہ مزید نمایاں ہوا ہے ۔ اس تحریک کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ گزشتہ ماہ یہاں ہونے
والے احتجاج کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا تھا۔ جنتر منتر پر احتجاج کے حق اور وہاں عائد پابندیوں نے دہلی میں جاری
سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے ۔

دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات، پولیس کی بھاری نفری اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی نے احتجاج کے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے ۔
اپوزیشن جماعتوں اور نوجوان مظاہرین کی جانب سے انتخابی کمیشن کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی
نے بھی کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری اور جنتر منتر پر پابندی کے خلاف آواز اٹھائی ہے ۔ دہلی میں انتخابی فہرستوں میں مبینہ
بے ضابطگیوں کے خلاف راہول گاندھی کے احتجاج میں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے نمایاں رہنماؤں نے شرکت کی۔ ان میں
راہول گاندھی، قائدِ حزبِ اختلاف؛ ملکارجن کھڑگے ، صدر کانگریس؛ پرینکا گاندھی واڈرا، کانگریس رہنما؛ اکھلیش یادو، سربراہ سماج وادی
پارٹی؛ ممتا بنرجی، سربراہ ترنمول کانگریس؛ اور تیجسوی یادو، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما شامل تھے ۔ ان رہنماؤں کی شرکت نے انتخابی عمل اور
ووٹروں کے حقوق سے متعلق اپوزیشن کے احتجاج کو نمایاں کیا۔وہ انتخابی نظام کی شفافیت اور شہریوں کے جمہوری حقوق کے تحفظ کا مطالبہ
کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں راہول گاندھی کی سرگرمیاں نوجوانوں کے
سیاسی مباحثے میں بھی اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے حوالے سے اپوزیشن کے اعتراضات کا بنیادی تعلق اس بات
سے ہے کہ اہل ووٹروں کے ناموں کا اخراج کس طریقے سے کیا جا رہا ہے اور متاثرہ شہریوں کو اپنی شکایات دور کرانے کے لیے کتنی سہولت
حاصل ہے ۔ انتخابی حکام کے لیے فہرستوں کی درستگی ضروری ہے ، لیکن اس عمل میں کسی اہل شہری کو حقِ رائے دہی سے محروم ہونے سے بچانا
بھی اتنی ہی اہم ذمہ داری ہے ۔ واضح اطلاعات، قابلِ رسائی طریقۂ کار، اعتراضات کی سماعت اور غلطیوں کی بروقت اصلاح انتخابی نظام
پر اعتماد برقرار رکھنے کے بنیادی تقاضے ہیں۔ حکومت اور انتخابی کمیشن کو ان سوالات کا جواب شفاف انداز میں دینا چاہیے تاکہ سیاسی
اختلافات کے باوجود شہریوں کا انتخابی اداروں پر اعتماد قائم رہے ۔

کسی بھی جمہوری معاشرے میں شہریوں کے حقوق اور انتظامی ذمہ داریوں کے درمیان منصفانہ توازن ضروری ہوتا ہے ۔بھارت کے نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ نوجوان نسل تعلیم، روزگار، مہنگائی، سیاسی نمائندگی اور حکومتی جواب دہی جیسے معاملات سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے ۔ جب نوجوان اپنے مطالبات کے لیے منظم ہوتے ہیں تو ان کی سرگرمیاں ملک کے سیاسی مباحثے کو نئی سمت دے سکتی ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت اور اس کے احتجاج نے سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کی ہے ۔ اس تحریک کے ذریعے نوجوان طنز، سیاسی اظہار اور اجتماعی احتجاج کو یکجا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم احتجاجی تنظیموں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے مطالبات قانونی اور پُرامن طریقوں سے پیش کریں تاکہ تصادم کے بجائے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو۔

سوشل میڈیا پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بعد اب طنزیہ انداز میں مَکھی جنتا پارٹی (MJP) کے نام سے ایک نئی ڈیجیٹل مہم کا ذکر بھی سامنے
آ رہا ہے ۔ اس طرح کے طنزیہ نام سیاسی صورتِ حال پر عوامی ردِعمل اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے اظہار کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل
پلیٹ فارم نوجوانوں کو اپنے خیالات پھیلانے ، احتجاجی سرگرمیوں کی تشہیر کرنے اور سیاسی معاملات پر گفتگو کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
دہلی کی صورتِ حال نے بھارت میں انتخابی شفافیت، اختلافی آوازوں اور پُرامن احتجاج کے حق سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے ۔ حکومت اور انتخابی کمیشن کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتخابی فہرستوں کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کا واضح جواب دیں اور شہریوں کو شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر راستے فراہم کریں۔ اسی طرح پولیس کارروائیوں میں قانونی تقاضوں، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا بھی اہم ہے ۔ احتجاج کرنے والے گروہوں کو بھی قانون کی پابندی اور پُرامن طریقۂ کار اختیار کرنا چاہیے ۔

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا انعقاد ہی جمہوریت کی کامیابی کا واحد معیار نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر اہل شہری کو اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کا حقیقی موقع ملے ، انتخابی اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رہے اور اختلاف رکھنے والوں کو اپنے مطالبات پیش کرنے کے قانونی مواقع حاصل ہوں۔ دہلی میں جاری احتجاج کا مستقبل اسی بات سے جڑا ہے کہ متعلقہ ادارے انتخابی شفافیت کے سوالات، نوجوانوں کے تحفظات اور احتجاج کی آزادی سے متعلق معاملات کو کس سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ اختلاف کو محض تصادم کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے جواب دہی، شفافیت اور اصلاح کے مواقع میں تبدیل کیا جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں