میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پشاور، نجی اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور ایک ٹیچر جاں بحق، 50 زخمی

پشاور، نجی اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور ایک ٹیچر جاں بحق، 50 زخمی

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

گورنرکا شہدا کیلئے 10 لاکھ زخمیوں کیلئے دو لاکھ کا اعلان، تحقیقات کیلیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم،اجتماعی نماز جنازہ ادا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے طلبہ اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے، نتیجے میں 34 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہوگئے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق دیر کالونی کے علاقے میں واقع الخیر اسکول سسٹم کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں متعدد بچے چھت تلے دب گئے، جن میں جاں بحق ہونے والوں کے علاوہ 50 سے زیادہ زخمی بھی شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق ایمبولینسز اور ڈیزاسٹر وہیکلز نے موقع پر پہنچ کر امدادی کاروائیاں کیں۔ 8 سے زائد زخمی بچوں کو ابتدائی طور پر طبی امداد فراہم کرتے ہوئے اسپتال منتقل کیا گیا۔

بعد ازاں ریسکیو 1122 نے ایمبولینسز کے ذریعے 40 سے زائد زخمی طلبہ اور اساتذہ کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا۔

اسپتال انتظامیہ نے پہلے 6 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی، جبکہ مزید زخمیوں کی اسپتال منتقلی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

بعد ازاں اسپتال ذرائع نے چھت گرنے کے واقعے میں 33 ہلاکتوں کی تصدیق کردی، جن میں بچے اور 2 خواتین ٹیچرز شامل ہیں، جن کی شناخت 25 سالہ ثمرین اور 27 سالہ مہوش کے نام سے ہوئی ہے۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال محمد عاصم کے مطابق پہلے 17 بچوں کو مردہ حالت میں ایل آر ایچ لایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صورت حال اور بچوں کی لاشیں دیکھ کر اسپتال کی انتظامیہ بھی غمزدہ ہے، جہاں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، تاہم کچھ زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

ترجمان کے مطابق تمام بچوں کی عمریں 13 سال تک ہیں جب کہ ایک خاتون ٹیچر کو بھی مردہ حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ایک لاش اور 33 زخمی نصیراللہ بابر میموریل اسپتال لائے گئے

دیر کالونی اسکول گرنے کے واقعے میں جاں بحق ایک بچے کی لاش اور 33 زخمی بچوں کو نصیر اللہ بابر میموریل اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے بعد واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

بعد ازاں نصیر اللہ بابر اسپتال سے 33 بچوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا۔

وزیراعظم اور گورنر خیبر پختونخوا کا اظہار افسوس

وزیراعظم شہباز شریف نے اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے افسوس اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے معصوم بچوں سمیت جاں بحق ہونے والوں کی بلندی درجات کی دعا کی۔

انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور ان کے لیے صبر جمیل و زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ وزیراعظم نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔

دریں اثنا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی دردناک سانحہ ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے متعلقہ حکام سے اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ریسکیو آپریشن

پشاور میں الخیر اسکول کی چھت گرنے کے افسوس ناک واقعے کے بعد فوج اور دیگر ریسکیو اداروں نے امدادی کارروائیاں کیں۔ پاک فوج کے جوانوں نے ریسکیو اور دیگر ریلیف اداروں کے شانہ بشانہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔

ملبے میں دبے بچوں اور دیگر اسکول اسٹاف کو ریسکیو کرکے اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا

سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید نے کہا ہے کہ متاثرہ اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول کی چھتیں خستہ بنائی گئی تھیں۔ اس افسوس ناک واقعے پر مقدمہ درج ہوگا۔

سی سی پی او کے مطابق اسکول تنگ گلیوں میں بنایا گیا تھا، جس کی وجہ سے ریسکیو میں بھی مشکلات پیش آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول میں 110 بچے زیر تعلیم تھے۔

ایک ہی خاندان کے پانچ بچے جاں بحق

دیر کالونی پشاور میں نجی اسکول کی عمارت گرنے کے واقعے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی زندگی کے بازی ہار گئے پانچوں بچے آپس میں قریبی رشتے دار تھے۔

دیر کالونی کے رہائشی منگل خان کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں اس کا 9 سالہ بچہ عامر خان جبکہ اس کی بھتیجی رومیسا جاں بحق ہوگئی، جاں بحق عامر اور رومیسہ دونوں اسی سکول میں پڑھ رہے تھے۔

بچی کے چچا کا کہنا ہے کہ اس کے دیگر تین رشتہ دار بھی اس حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ اسکول کی عمارت جب گرگئی تو انہیں اطلاع ملی اور وہ امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے پہنچ گئے تاہم کچھ دیر بعد انہیں اطلاع ملی کہ اس کے گھر کے بچے اسپتال میں ہیں اور وہ جاں بحق ہوگئے ہیں۔

اجتماعی نماز جنازہ ادا

جاں بحق بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے جس میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

گورنر کا شہدا کیلئے فی کس 10 لاکھ، زخمیوں کیلئے دو لاکھ کا اعلان

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیرکالونی سانحہ میں شہداء بچوں کیلئے 10، 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کیلئے 2 لاکھ روپے دینے کا اعلان کر دیا اور کہا ہے کہ خستہ حال عمارت کو گزشتہ دور حکومت میں این او سی کس نے دی جو بھی ملوث پایا گیا اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

مقامی شہری کے دو بچے جاں بحق

اسکول گرنے کے واقعے میں ذاکر اللہ کے دو بچے جاں بحق ہوگئے۔ ذاکر اللہ نے کا کہنا ہے کہ اسکول میں ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی زیر تعلیم تھے، ان کے دو بیٹے ابوبکر اور محمد ایک کلاس میں تھے جبکہ بیٹی دوسرے کلاس میں تھی۔

انہوں نے کہا کہ اسکول گرنے کے بعد ان کی بیٹی بھاگ کر گھر آئی اور بتایا کہ اسکول کی چھت گر گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ اسکول پہنچے تو ان کے دونوں بچے دوسری جماعت میں تھے اور کلاس کی چھت گرچکی تھی جس کے باعث ان کے دو بیٹے اس حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ اسکول کی عمارت کمزور تھی تو جن لوگوں نے اسکول کو این او سی جاری کیا ان کے خلاف کارروائی کی جائے، چونکہ یہ اسکول گھر کے قریب تھا اس لیے انہوں نے تینوں بچوں کو اسی سکول میں داخل کرایا تھا انہیں کیا معلوم تھا کہ ایسے حادثے میں ان کے بچے ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جائیں گے۔

پشاور میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ

واقعے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے ضلع پشاور میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی جبکہ بڑے سرکاری اسپتالوں کو بھی ہائی الرٹ رہنے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق الخیر پبلک اسکول میں چھت گرنے کے واقعے کے بعد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے متعلقہ اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر مجاز حکام نے ضلع پشاور میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ صحت نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن خیبر ٹیچنگ اسپتال (کے ٹی ایچ) اور لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) کی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کے فوری علاج کے لیے تمام ضروری انتظامات یقینی بنائے جائیں اور ڈاکٹرز، طبی عملے، ادویات، طبی آلات اور ایمبولینسوں کی چوبیس گھنٹے دستیابی برقرار رکھی جائے۔

اعلامیے کے مطابق تمام متعلقہ سرکاری اسپتالوں، میڈیکل ٹیچنگ اداروں اور ریسکیو و طبی ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی زخمی کو طبی امداد کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔

تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم

واقعے کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی گئی ہے جسے فوری اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کے چیئرمین خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (کے پی پی ایس آر اے) کے منیجنگ ڈائریکٹر جاوید اقبال ہوں گے جبکہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ڈپٹی سیکرٹری (پرائمری) محمد فاروق کمیٹی کے رکن ہوں گے کمیٹی تیسرے رکن کو خود نامزد کرے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کلاس روم کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی تحقیقات کرے گی اور حادثے کے اسباب، ممکنہ غفلت، عمارت کی تعمیر میں ساختی نقائص یا دیگر عوامل کا تعین کرے گی۔ کمیٹی کو مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات تجویز کرنے اور مناسب سفارشات پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

ممبر ایڈوائزری کونسل برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور کا دورہ

ممبر ایڈوائزری کونسل برائے اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلورنے دیر کالونی میں اسکول کا دورہ کیا اور گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک سانحہ ہے، عمارت کی حالت سے بظاہر انتظامی غفلت کا پہلو سامنے آتا ہے، عمارت کا باقاعدہ معائنہ اور نگرانی کیوں نہیں کی گئی؟ تین منزلہ عمارت کو ناقص تعمیر کے باوجود استعمال میں لانا بھی غفلت ہے جس کی وجہ سے ہمارے بچے اتنے بڑے سانحے کا شکار ہوئے۔

ثمر ہارون بلور نے واضح کیا کہ سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ سیکرٹری تعلیم نے واقعے کی بڑے پیمانے پر انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

نیشنل ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ اس میں مدارس کی رجسٹریشن اور ضابطہ بندی بھی شامل تھی مگر افسوس کہ اس پر صوبے میں مؤثر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

زخمی بچوں کی عیادت اور ان کے علاج معالجے کا جائزہ لینے کے لیے ممبر ایڈوائزری کونسل ثمر ہارون بلور نے لیڈی ریڈنگ اسپتال کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے زیرِ علاج بچوں کی خیریت دریافت کی اور ان کے لیے دعائے صحت کی۔

واقعہ حادثاتی تھا بلڈنگ غیر معیاری نہیں تھی، گرفتار اسکول مالک

گرفتار اسکول مالک خان محمد کا بیان سامنے آیا ہے جس نے کہا ہے کہ حادثے کے وقت میں خود اسکول میں موجود تھا، اسکول کا نقشہ پاس کروایا تھا، آخری چھت سے دوسری منزل پر کلاس کی چھت بھی گری، واقعہ حادثاتی تھا بلڈنگ ناقص میٹیریل کی نہیں تھی۔

بلڈنگ خستہ حال ہونے کے باوجود اسکول کو رجسٹرڈ کیا گیا

ذرائع نے بتایا ہے کہ متاثرہ نجی اسکول کی بلڈنگ کا انسپکشن نہیں ہوا تھا۔

ایم ڈی پی ایس آر اے جاوید اقبال نے بتایا کہ نجی اسکول مارچ 2026ء میں پی ایس آر اے کے ساتھ رجسٹرڈ ہوا تھا، بلڈنگ خستہ حال ہونے کے باوجود اسکول کو رجسٹرڈ کیا گیا تھا، پی ایس ار اے کے پاس ٹیکنیکل ٹیم موجود نہیں، پی ایس آر اے کے کلاس رومز اور دیگر معیار پر پورا اترنے پر اسکول کو رجسٹرڈ کیا تھا، ہمارے پاس خستہ حال بلڈنگ کو جرمانے کا اختیار ہے بند کرنے کا نہیں۔

اسکول مالک پر دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی جاسکتی ہیں، آئی جی

آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ اسکول مالک پر مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی جاسکتی ہیں، ایف آئی آر اسٹیٹ کی جانب سے درج کی جائے گی، جن اداروں کی غفلت ہوئی، اسپیشل برانچ کو ان کے خلاف رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی ہے، جن جن اداروں کی کوتاہی ہوئی ، سرکاری رپورٹ جاری کریں گے، اسکول مالک کو قرار واقعی سزا دلائی جائے گی، واقعے کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں