مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا پھیلتا دائرہ اورسعودی عرب
شیئر کریں
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے خطرناک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک محاذ پر ہونے والی فوجی کارروائی دوسرے محاذ پر کشیدگی بڑھا رہی
ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ، یمن میں حوثی تحریک کی سرگرمیاں، سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے اور اہم
بحری گزرگاہوں کو لاحق خطرات نے پورے خطے کی سلامتی کو نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ بحران محض چند ممالک کے درمیان فوجی
تصادم نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی رسد، بین الاقوامی تجارت اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ اس صورتِ حال میں
سعودی عرب کا دفاع، یمن کا سیاسی مستقبل اور خطے میں سفارتی کوششوں کی کامیابی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
10 اکتوبر 2026ء بروز ہفتہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر یمن کے حوثی باغیوں کی
جانب سے ایک انتہائی ہولناک بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملہ کیا گیا، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران سعودی سرزمین پر ہونے والی سب
سے بڑی عسکری کارروائیوں میں سے ایک ہے۔ تحقیقی شواہد اور سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی رپورٹس کے مطابق، اس حملے کا بنیادی
ہدف ائرپورٹ کے ٹرمینل 3 اور 4 کی حساس تنصیبات اور ایندھن کے ذخائر تھے، جہاں کروز میزائلوں کے گرنے سے شدید دھماکے ہوئے
اور آگ بھڑک اٹھی۔ اس خونی حملے کے نتیجے میں اب تک 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 4 سعودی شہریوں کے علاوہ
امریکہ، مصر، بنگلہ دیش، اردن اور بھارت سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافر اور ائرپورٹ عملہ شامل ہیں،جبکہ309 سے
زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس میں 6 پاکستانی بھی شامل ہیں۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سعودی حکام نے فوری طور پر فلائٹ آپریشن معطل کر دیا تھا، جس کی بندش میں اب 17 اکتوبر 2026ء
تک توسیع کر دی گئی ہے۔ اس واقعے کے اگلے ہی دن (11 اکتوبر) کو ہونے والے ایک اور فالو اپ حملے میں مزید 11 افراد زخمی ہوئے
اور 1 پاکستانی شہری بھی جاں بحق ہوا، جس نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور بین الاقوامی فضائی سفر کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر
دیے ہیں۔مسلسل حملوں کے باعث ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل ہوئیں اور فضائی سفر میں خلل پیدا ہوا۔ شہری ہوائی اڈے جیسے اہم مقام
پر حملوں نے سعودی عرب کے فضائی دفاع اور شہری تنصیبات کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات بھی اٹھائے ہیں۔سعودی عرب کے لیے یہ
صورتِ حال محض دفاعی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے معاشی مستقبل سے بھی براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ مملکت اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے
نکالنے، سیاحت کو فروغ دینے، غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن جب
دارالحکومت کے اہم ہوائی اڈے کو بار بار نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں تو کاروباری اعتماد، فضائی رابطوں اور سرمایہ کاری
کے ماحول پر منفی اثرات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
11 اکتوبر 2026ء کو خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ کی معروف بین الاقوامی توانائی کمپنی برٹش پیٹرولیم کی
چیف ایگزیکٹو میگ او نیل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی عالمی توانائی کونسل کی کانگریس میں سفری تعطل کے
باعث بالمشافہ شرکت نہیں کر سکیں۔ کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ بی پی نے کانفرنس میں شرکت کے لیے ہر ممکن کوشش کی، تاہم سفری
مشکلات کے باعث اس کی سربراہ وہاں ذاتی طور پر موجود نہیں ہو سکیں۔ یہ کانفرنس ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والے مہلک حملے اور
اس کے بعد پروازوں میں تعطل کے باوجود اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق جاری رہی۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقائی کشیدگی اور
سلامتی کے خطرات صرف سیاسی اور عسکری معاملات تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی توانائی کی صنعت، کاروباری روابط اور اہم بین الاقوامی
تقریبات میں شرکت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔اس بحران کا ایک اہم مرکز یمن ہے، جہاں برسوں سے جاری خانہ جنگی نے سیاسی نظام،
معیشت اور عوامی زندگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حوثی تحریک ملک کے بڑے حصوں پر اپنا اثر و رسوخ رکھتی ہے، جبکہ بین الاقوامی طور پر
تسلیم شدہ یمنی حکومت کو سعودی عرب کی حمایت حاصل رہی ہے۔ یمن میں سعودی حمایت یافتہ افواج اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں
شدت نے یہ خدشہ بڑھا دیا ہے کہ جنگ کا خاتمہ جلد ممکن نہیں ہوگا۔ یمن کا دشوار گزار جغرافیہ، مختلف مخالف گروہوں کے درمیان اختلافات
اور حوثیوں کی میزائل و ڈرون صلاحیت اس تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ایسے حالات میں کسی ایک فوجی کارروائی سے فیصلہ کن کامیابی
حاصل ہونے کی توقع رکھنا مشکل ہے۔ اگر سیاسی تصفیے کی کوششیں مؤثر نہ ہوئیں تو یمن ایک بار پھر طویل جنگ اور انسانی بحران کی لپیٹ میں
رہ سکتا ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہمیت بھی اس تنازعے کو علاقائی حدود سے آگے لے جاتی ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیجِ عدن اور
بحرِ ہند سے ملانے والی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ یہاں عدم تحفظ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت، مال برداری کے اخراجات اور عالمی
تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتی ہے اور عالمی تیل و مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے اہم
ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ امریکی ادارہ اطلاعاتِ توانائی کے مطابق، 2024ء میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی مائع قدرتی گیس
کی تجارت آبنائے ہرمز سے گزری، جبکہ عالمی بحری تیل کی تجارت کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ بھی اسی راستے سے منتقل ہوا۔ اس راستے
میں رکاوٹ یا مسلسل خطرات عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی لیے دونوں بحری گزرگاہوں کا تحفظ محض خلیجی ممالک کا مسئلہ نہیں
بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت کی ضرورت ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس جنگ کے معاشی اثرات خاص طور پر اہم ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں، مال برداری کے اخراجات اور توانائی کی فراہمی میں غیر یقینی صورتِ حال درآمدی معیشتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ پاکستان اپنی ضروریات کے لیے درآمدی
توانائی پر انحصار کرتا ہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں پائیدار اضافہ ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم ہر حملے کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں لازماً اضافہ نہیں ہوتا۔ قیمتوں کا انحصار رسد، طلب،
متبادل ذرائع اور سفارتی پیش رفت سمیت کئی عوامل پر ہوتا ہے۔ 12 اکتوبر کی عالمی مارکیٹ رپورٹوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
سامنے آیا۔ اس لیے اصل خطرہ کسی ایک دن قیمتوں میں اضافے یا کمی سے زیادہ توانائی کی رسد میں طویل غیر یقینی صورتِ حال ہے، جو
پاکستان سمیت درآمدی معیشتوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
اس کشیدگی کے باوجود سفارت کاری کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ 12 اکتوبر کی رپورٹوں کے مطابق، ایران نے آبنائے
ہرمز کھولنے سے متعلق امریکی جواب کا جائزہ لینے اور ثالثوں کے ذریعے اپنا ردعمل دینے کا عندیہ دیا۔ ایران نے سعودی عرب اور یمن کے
حوثیوں کے درمیان تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت بھی ظاہر کی۔ تاہم یہ بیانات کسی حتمی معاہدے یا جنگ بندی کا
ثبوت نہیں ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام، بحری سلامتی اور مذاکرات کی ترجیحات پر اختلافات برقرار ہیں۔ پائیدار
امن کے لیے ضروری ہے کہ فریقین محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ قابلِ عمل شرائط پر اتفاق کریں۔ اسی طرح یمن میں سیاسی تصفیے کے
لیے سعودی عرب، حوثیوں اور دوسرے متعلقہ فریقوں کو ایسی مفاہمت کی طرف بڑھنا ہوگا جو جنگ کی بنیادی وجوہات کو حل کر سکے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات، دفاعی تعاون، اقتصادی روابط اور
خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد اسلام آباد کے لیے خطے کے امن کو ناگزیر بناتی ہے۔ 11 اکتوبر کو پاکستان، ترکیہ، مصر
اور سعودی عرب کے مشترکہ بیان میں ریاض کے ہوائی اڈے پر حوثی حملوں کی مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ مشترکہ بیان میں حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور علاقائی و بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق اپنے مؤقف کے ساتھ ساتھ جنگ کو وسیع تر علاقائی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھنی چاہئیں۔ مذاکرات کی حمایت، کشیدگی میں کمی اور شہری آبادی کے تحفظ پر زور دینا پاکستان کے قومی مفاد اور علاقائی امن دونوں کے لیے اہم ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ موجودہ تنازعے کو محدود کرنے اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کے لیے کتنی سنجیدہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ اگر میزائل اور ڈرون حملوں، جوابی کارروائیوں اور بحری راستوں کو لاحق خطرات کا سلسلہ جاری رہا تو مزید ممالک اس کشمکش کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس یمن میں سیاسی مفاہمت، بحری گزرگاہوں کا تحفظ اور ایران و امریکا کے درمیان بامعنی مذاکرات حالات کو بہتر بنانے کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور خطے کے دوسرے ممالک کے لیے سلامتی اور معاشی ترقی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ امن کے بغیر سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی منصوبے خطرے میں رہیں گے، جبکہ سیاسی تصفیے کے بغیر فوجی کارروائیاں پائیدار استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتیں۔ مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑے اور طویل تصادم سے بچانے کا راستہ طاقت کے مسلسل استعمال کے بجائے سفارت کاری، باہمی احترام اور قابلِ عمل سیاسی حل سے نکل سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


