اب بھی وقت ہے خیبرپختونخوا میں کیے گئے اقدامات واپس لیں، محمود خان اچکزئی
شیئر کریں
قیدی سے ملاقات نہ کرانا مجرمانہ فعل ہے، خدا کو مانیں لوگوں کو تنگ نہ کریں، یہ رویہ بربادی کا ہے، اپوزیشن لیڈر
آپ لوگ خوشیاں منا رہے تھے معاہدہ ہو گیا، اچانک علامہ ناصر عباس نے آ کر کہا افسوس ہے معاہدہ نہیں ہو سکتا، اسپیکر سر دار ایاز صاد ق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے خیبر پختون خوا میں کیے گئے اقدامات واپس لیں،قیدی سے ملاقات نہ کرانا مجرمانہ فعل ہے، خدا کو مانیں لوگوں کو تنگ نہ کریں، یہ رویہ بربادی کا ہے۔
بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی قیدی سے ملاقات نہ کرانا مجرمانہ فعل ہے، خدا کو مانیں لوگوں کو تنگ نہ کریں، یہ رویہ بربادی کا ہے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ رضاکارانہ فیڈریشن ہے، جو کہتے ہیں ہم امن لائینگے، انہوں نے 35سال حکومت کی، جنرل ایوب 10سال ،ضیاالحق11سال۔پرویز مشرف 11سال رہے، اس کے بعد پاکستان دہشت گردوں کا اڈا بنا، پاکستان کو آپ نے دہشت گردوں کا اڈا بنایا، دہشت گردوں کو یہاں تربیت دی جاتی رہی۔
اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف بھی ایوان میں پہنچے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وزیر ستان میں آپ معدنیات پر قبضہ کر رہے ہیں، آپ لوگوں کو مار رہے ہیں لوگ آپ کو مار رہے ہیں، سیدھی بات کریں، اس پارلیمنٹ میں کرسیاں لگائیں وزیر اعظم کیساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں، آپ کی حکومت غیر آئینی غیر قانونی ہے، آپ لوگوں کو دہشت زدہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ آپ کا وزیر اعظم کسی اور کو جواب دہ ہے اور وہ کسی اور کو جواب دہ ہے ، فاٹا میں بارہ سو سماجی شخصیات کو قتل کیا گیا، ایران جنگ کے باجود پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،
پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ اپنے لیڈر سے ملنے دو، کسی سے ملاقات نہ کرانا بہت بڑا مجرمانہ فعل ہے، آپ نے نواز شریف اور بینظیر کو بھی مجبور کیا، عمران خان سے ملاقات پر آپ کی بات اٹک گئی تھی، وعدہ کرتے ہیں عمران سے ملاقات کی بات کسی کو نہیں کریں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کاہ کہ گورنمنٹ کا وفد میرے چیمبر میں تھا اپوزیشن کا وفد کمیٹی روم میں تھا۔انہوں نے کہا کہ آپ لوگ خوشیاں منا رہے تھے کہ معاہدہ ہو گیا، اچانک علامہ ناصر عباس نے آ کر کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ معاہدہ نہیں ہو سکتا۔
ایاز صادق نے کہا کہ ہم آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مذاکرات کو سبوتاژ کس نے کیا سب کو پتہ ہے، اس معاملے پر جتنا کم بولیں اچھا ہے۔


