مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان
شیئر کریں
پاکستان میں آج کا سب سے تلخ اور بھیانک سچ اگر کچھ ہے ، تو وہ روز بروز بڑھتی ہوئی ہوشربا مہنگائی ہے ۔ ملک کی معاشی فضا اتنی تاریک ہو چکی ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک ناممکن خواب بنتا جا رہا ہے ۔ مہنگائی کا یہ طوفان صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے ، بلکہ یہ عام انسان کی روزمرہ زندگی کی وہ اذیت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہری ہوتی جا رہی ہے ۔ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے پالیسی ساز شاید اس زمین کی حقیقت سے کوسوں دور ہیں، لیکن گلی محلوں، بازاروں اور چوراہوں پر سسکتی ہوئی انسانیت اس بدترین مہنگائی کے تند و تیز تھپیڑے روزانہ کی بنیاد پر سہہ رہی ہے ۔
مہنگائی کے اس سیلاب میں سب سے پہلا اور کاری ضرب لگانے والا عنصر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والا
اضافہ ہے ۔ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں اب آسمان کو چھو رہی ہیں، اور اس کا براہ راست اثر ہر اس شے پر پڑتا ہے جو ایک عام آدمی
استعمال کرتا ہے ۔ جب گاڑیوں اور موٹر سائیکل کی ٹینکی فل کروانا کسی غریب یا تنخواہ دار ملازم کی بساط سے باہر ہو جائے ، تو اس کی روزمرہ نقل
و حرکت مفلوج ہو جاتی ہے ۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے بے لگام ہو چکے ہیں۔ فیکٹری مزدور،
اسکول جانے والے بچے ، اور چھوٹے ملازم روزانہ مہنگے کرایوں کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ایک طرف تنخواہیں جمود کا شکار ہیں اور دوسری
طرف فیول ایڈجسٹمنٹ اور پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر مہنگائی کا اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے اور ان کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔
کسی بھی معاشرے میں روٹی کا حصول انسان کا بنیادی ترین حق مانا جاتا ہے ، لیکن موجودہ پاکستان میں دو وقت کے آٹے کی روٹی کا
حصول بھی ایک کڑا امتحان بن چکا ہے ۔ آٹے کی قیمتیں آج اس سطح پر پہنچ چکی ہیں جہاں غریب آدمی کے لیے بچوں کا پیٹ بھرنا محال ہو گیا
ہے ۔ سبسڈی والے آٹے کے حصول کے لیے سڑکوں پر لگنے والی لمبی قطاریں، دھکم پیل اور بعض اوقات بدترین انتظامات کی وجہ سے
ہونے والے حادثات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ریاست اپنے شہریوں کو روٹی جیسی بنیادی نعمت فراہم کرنے میں کس قدر ناکام ہو
چکی ہے ۔ چکی کا آٹا ہو یا تھیلے والا آٹا، دونوں کی قیمتیں قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ جو غریب کل تک عزت سے اپنے گھر کا چولہا جلاتا
تھا، وہ آج فاقہ کشی یا ادھار کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔
تندور پر نان اور چپاتی کی قیمتوں میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے . اگر پیٹرول اور آٹے نے جینا محال کیا ہے ، تو بجلی کے بھاری بھرکم بلوں نے
تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے ۔ موسم گرما ہو یا سرما، بجلی کے بل اب کسی بم سے کم معلوم نہیں ہوتے ۔ بنیادی ٹیرف کے ساتھ ساتھ
ظالمانہ ٹیکسز، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، اور مختلف قسم کے چارجز نے عام صارف کی کمر توڑ دی ہے ۔ ہزاروں روپے ماہانہ کمانے والے ایک
مزدور یا کلرک کے گھر جب چالیس پچاس ہزار روپے کا بجلی کا بل آتا ہے ، تو اس کے پاس خودکشی کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔ کارخانوں،
چھوٹے کارپوریشنز اور گھریلو صارفین سب کا ایک ہی رونا ہے ۔ بجلی کی ہوشربا قیمتوں نے نہ صرف گھریلو سکون غارت کیا ہے بلکہ صنعتوں کو
بھی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ، جس سے ملک میں پروڈکشن رک چکی ہے ۔اب صرف روٹی اور بجلی کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ کچن کا پورا
نظام درہم برہم ہو چکا ہے ۔ سبزیاں، دالیں، مرغی کا گوشت، انڈے ، اور پھل یہ سب اب عام انسان کے دسترخوان سے غائب ہو چکے
ہیں۔ بازار میں جائیں تو سبزیوں کے دام سن کر انسان دنگ رہ جاتا ہے ۔ ٹماٹر، پیاز، آلو جو کہ غریب کی ہنڈیا کی بنیادی ضرورت ہیں، اب
عیش و آرام کی چیزیں بن چکی ہیں۔ دالیں جو کبھی غریب کی پروٹین کا سب سے بڑا ذریعہ تھیں، اب سونے کے بھاؤ بک رہی ہیں۔ مرغی کا
گوشت اور انڈے جو صحت مند غذا کے لیے ضروری ہیں، اب صرف امیر طبقے کی پلیٹوں کی زینت بن سکتے ہیں۔ پھلوں کی خریداری تو
غریب والدین اپنے بیمار بچوں کے لیے بھی اب سوچ نہیں سکتے ۔ غریب عوام اب صرف زندہ رہنے کے لیے کسی نہ کسی طرح پیٹ بھرنے کی
جنگ لڑ رہے ہیں، غذائیت تو بہت دور کی بات ہے ۔مہنگائی کے اس عفریت کے ساتھ ساتھ بے روزگاری نے بھی تمام ریکارڈ توڑ دیے
ہیں۔ ملک میں صنعتی پہیہ سست روی کا شکار ہونے اور مہنگائی کی وجہ سے کاروبار بند ہونے کی وجہ سے نوکریوں کے مواقع ختم ہو چکے ہیں۔
لاکھوں نوجوان جو اعلیٰ ڈگریاں لے کر روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں، وہ اب شدید ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہیں۔ جب
روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا اور مہنگائی آسمان پر ہوگی، تو جرائم کی شرح میں اضافہ ہونا فطری ہے ۔ چوری، ڈکیتی، چھیننے کی وارداتیں اور
خودکشیاں اب روز کا معمول بن چکی ہیں کیونکہ بھوکا انسان کیا کچھ نہیں کرتا۔ ڈگری یافتہ نوجوان سڑکوں پر ریڑھیاں لگانے یا مزدوری کرنے
پر مجبور ہیں، اور یہ ریاست کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا المیہ ہے ۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس تمام تر بحران میں حکومت وقت کی مجرمانہ خاموشی اور عدم توجہی ہے ۔ حکومتی ایوانوں میں
بیٹھے حکمران یا تو زمینی حقائق سے لاتعلق ہیں یا پھر وہ اس سنگین صورتحال کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔ عوام کی آہ و فغاں ان کے کانوں
تک نہیں پہنچتی۔ ہر روز ٹیلی ویژن پر بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں کہ معیشت درست سمت میں جا رہی ہے ، لیکن گلی کوچوں میں بھوک
سے بلکتے بچے ان حکومتی دعووں کی قلعی کھول دیتے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام عملی طور پر موجود ہی نہیں۔ سرکاری
نرخ نامے صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہیں، اور عملاً دکاندار اور منافع خور اپنی من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوز اور مڈل
مین آزادانہ طور پر عوام کا خون چوس رہے ہیں، اور ضلعی انتظامیہ یا پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اس ظلم پر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔
مختصر یہ کہ پاکستان کا غریب اور محنت کش طبقہ اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے ۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے
شہریوں کو روٹی، کپڑا، مکان، صحت، اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہوتی ہے ، لیکن یہاں عوام کو زندہ رہنے کے بنیادی حق سے بھی
محروم کر دیا گیا ہے ۔ اگر فوری طور پر ملک میں ایک مؤثر پرائس کنٹرول میکانزم فعال نہ کیا گیا، پیٹرول، بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں ہنگامی
بنیادوں پر کمی نہ لائی گئی، اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی جامع معاشی پیکج کا اعلان نہ کیا گیا، تو یہ بے بسی کا عالم بغاوت اور
انارکی میں بدل سکتا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب پیٹ پر پتھر بندھ جائیں اور حکمران بے حس ہو جائیں، تو عوام کا صبر کا پیمانہ ٹوٹنے میں
زیادہ دیر نہیں لگتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں اور عوام کی چیخ و پکار کو سن کر فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔
٭٭٭


