28ویں آئینی ترمیم روکنے کیلئے پی ٹی آئی متحرک، سہیل آفریدی کے نام بلاول کا خصوصی پیغام
شیئر کریں
وزیر اعلیٰ کی گزشتہ ایک ہفتے میںگورنر خیبر پختونخوا کیساتھ مسلسل تین اہم ملاقاتیں،مولانا فضل الرحمان سے تبادلہ خیال،اپوزیشن کا ممکنہ اتحاد آئینی ترمیم کی راہ میںبڑی رکاوٹ
پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان یکساں موقف اختیار کرنے کی کوشش ، دونوں جماعتیںکافی حد تک قریب آچکی ہیں اور متعدد نکات پر اتفاق رائے ہوگیا ،ذرائعکا دعویٰ
پاکستان تحریک انصاف نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم روکنے کیلئے سیاسی رابطے تیز کردیٔے ہیں، اور اس سلسلے میں پہلے پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ اب جمعیت علمائاسلام سے بھی رابطے کئے گئے ہیں۔ ذرائع کے
مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اس تمام عمل میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک متفقہ حکمت عملی پر لانے کیلئے سرگرم ہیں۔وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے گزشتہ ایک
ہفتے کے دوران گورنر خیبر پختونخوا کے ساتھ مسلسل تین اہم ملاقاتیں کیں، جن میں پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان 28ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر یکساں موقف اختیار کرنے کی کوشش کی
گئی۔ذرائع کے مطابق دونوں جماعتیں اس معاملے پر کافی حد تک قریب آچکی ہیں اور متعدد نکات پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے، گورنر خیبرپختونخوا نے دو روز قبل چیٔرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری
سے ملاقات کرکے انہیں صوبے میں ہونے والی سیاسی پیش رفت سے آگاہ کیا، جس کے بعد بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی پیغام گزشتہ روز وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی تک بھی پہنچایا گیا۔ادھر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گزشتہ روز جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے اہم ملاقات بھی کی، ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کے بھائی ضیائالرحمان اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان بھی موجود تھے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی اور علاقائی سیاسی صورتحال کے علاوہ 28ویں آئینی ترمیم کے ممکنہ اثرات اور اس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماوں کے درمیان ہونے والی یہ پہلی باضابطہ ملاقات تھی جس میں اگرچہ کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا تاہم بات چیت مثبت رہی اور آئندہ رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔سیاسی حلقوں کے مطابق اگر اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر مشترکہ موقف اختیار کرنے میں کامیاب ہوگئیں تو وفاقی حکومت کیلئے آئینی ترمیم کی منظوری آسان نہیں رہے گی۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مجوزہ ترمیم عیدالاضحی کے بعد جون کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے اور مختلف جماعتوں کے درمیان پس پردہ رابطے بھی بڑھ گئے ہیں۔


