سندھ بلڈنگ خلاف ضابطہ تعمیرات کی روک تھام میں ناکام
شیئر کریں
آصف شیخ کے زیرِ اثر نظام میں تعمیراتی لاقانونیت عروج پر، اے ڈی امتیاز ملوث
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کے رہائشی پلاٹس 2X اور 5T پر کمرشل تعمیرات تیز
سندھ میں خلاف ضابطہ تعمیرات کی روک تھام کیلئے قائم ادارہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام میں ناکام دکھائی دیتا ہے ۔اتھارٹی میں مبینہ طور پر بااثر افسران کی سرپرستی میں تعمیراتی
قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے ، جہاں سندھ بلڈنگ پر قابض آصف شیخ کے اثر و رسوخ کے باعث غیر قانونی تعمیرات کو مکمل آزادی حاصل ہو چکی ہے ۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل
اطلاعات کے مطابق متعلقہ افسران مبینہ مالی فوائد کے عوض قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ شہری حلقوں میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اے ڈی
امتیاز مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات سے حاصل ہونے والی رقوم کی بندر بانٹ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس کے باعث شرقی کے مختلف علاقوں میں رہائشی پلاٹس پر کمرشل سرگرمیوں اور غیر منظور شدہ
تعمیرات کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ۔ علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کراچی میں بڑھتی ہوئی تعمیراتی لاقانونیت کو روکا جا سکے ۔ذرائع
کے مطابق پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 میں واقع رہائشی پلاٹس نمبر 2X اور 5T پر مبینہ طور پر کمرشل نوعیت کی تعمیرات جاری ہیں، حالانکہ متعلقہ قوانین کے تحت ان پلاٹس کا استعمال رہائشی مقاصد کے لیے مختص
ہے ۔ مقامی مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات کے باوجود متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے غیر قانونی تعمیرات میں ملوث عناصر کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔شہری و سماجی حلقوں نے
متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں جاری غیر قانونی تعمیرات، سرکاری افسران کی مبینہ ملی بھگت اور قوانین کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات کر کے
قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔


