محکمہ تعلیم حیدرآباد میں کرپشن، اہم ریکارڈ طلب
شیئر کریں
بے ضابطگیوں، اختیارات کے غلط استعمال، جعلی پنشن کیسز، غیر قانونی ترقیوںکے الزامات
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پرائمری حیدرآباد کو مراسلہ
(رپورٹ: عبدالغفور سروہی) اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حیدرآباد ڈویژن نے محکمہ تعلیم اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس حیدرآباد میں مبینہ بے ضابطگیوں، اختیارات کے غلط استعمال، جعلی پنشن کیسز، غیر قانونی ترقیوں اور بقایاجات کی ادائیگی کے عوض رشوت طلبی کے الزامات پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ۔اس سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حیدرآباد ڈویژن کی جانب سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پرائمری حیدرآباد کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے ، جس میں تعلقہ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) قاسم آباد مس رافیہ، اکاؤنٹس آفیسر، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس حیدرآباد اور دیگر متعلقہ افسران و اہلکاروں کو طلب کرتے ہوئے اہم ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ مراسلے کے مطابق اینٹی کرپشن حکام نے 21 مئی 2026 کو متعلقہ افسران کو طلب کرتے ہوئے متعدد اہم دستاویزات، سروس ریکارڈ، پنشن کیسز، بقایاجات کی ادائیگیوں اور ترقیوں سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے ۔خط میں جی جی پی ایس عرب دونگر گوٹھ بچل چانڈیو قاسم آباد کی ٹیچر صنم دہریج کی ذاتی فائل، جاری کردہ سرٹیفکیٹس، بقایاجات بل، ریٹائرڈ تدریسی و غیر تدریسی عملے کی فہرست، فیملی پنشن کیسز اور بلال گن نامی اہلکار کی ترقی سے متعلق ڈی پی سی ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے ۔اینٹی کرپشن حکام کے مطابق شکایات سندھ اینٹی کرپشن رولز 1993 کے تحت موصول ہوئیں، جن پر انسپکٹر انکوائری آفیسر آغا حسین کی نگرانی میں تحقیقات جاری ہیں اور ریکارڈ کی جانچ کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور غیر قانونی امور کے انکشافات کے بعد متعلقہ حلقوں میں تشویش پائی جارہی ہے ۔


