وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم
شیئر کریں
15 دن کے اندراندر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا کسی ٹرانسپورٹ پر لگے نشانات ہٹا دیں
کسٹم کی کارروائی کے بعد بڑا اقدام،سندھ بار کونسل کاخلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ
کسٹم حکام کی جانب سے ایڈووکیٹ مونوگرام لگی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے بعد سندھ بار کونسل نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے وکلاء کو اپنی گاڑیوں سے ایڈووکیٹ ہائی کورٹ آف سندھ اور ممبر سندھ بار کونسل کے نام سے نصب تمام مونوگرام اور دھاتی تختیاں فوری ہٹانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ سندھ بار کونسل کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق ایسی تختیاں اور مونوگرام قانونی طور پر ممنوع ہیں اور لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 اور متعلقہ قواعد کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ کونسل نے واضح کیا ہے کہ تمام وکلاء 15 دن کے اندر اندر اپنی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا کسی بھی ٹرانسپورٹ پر لگے یہ نشانات ہٹا دیں۔ سرکلر میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد بھی ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ عدالتوں کے احاطوں میں ایسی گاڑیوں کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔ مزید برآں، سندھ بار کونسل نے یہ بھی واضح کیا کہ کونسل کا مونوگرام وزٹنگ کارڈز پر استعمال کرنا بھی پیشہ ورانہ بدانتظامی تصور ہوگا اور اس پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔ البتہ استثنیٰ کے طور پر صرف سندھ بار کونسل کے منتخب اراکین کو مونوگرام استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔


