پیٹرولیم کا بحران
شیئر کریں
امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کے بعدجوابی وارکے طور پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کئے جانے کے بعد پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی توانائی کا بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے اور حکومت کے اس واضح اعلان کے باوجود کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا قابل اطمینان ذخیرہ موجود ہے اور فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا کوئی اندیشہ نہیں ہے لیکن پیٹرولیم کا قابل اطمینان ذخیرہ موجود ہونے کی یقین دہانی کے باوجود حکومت نے پیٹرولیم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیاہے ،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بہانے پیٹرولیم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے اعلان کا سب سے زیادہ قابل اعتراض پہلو یہ ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم کی قیمتوں میں جو اضافہ کیاہے وہ اضافہ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ اس اضافے کا بڑا حصہ پیٹرولیم پر وصول کی جانے والی سرکاری لیوی کی شرح اضافہ ہے، یعنی اگر حکومت لیوی کی قیمت میں اضافہ کرنے کے بجائے لیوی کی شرح میں کچھ کمی کردیتی توعوام کو غیرضروری بوجھ سے محفوظ رکھا جاسکتا تھا ، سرکاری طورپر وصول کی جانے والی لیویز کی شرح میں اضافے کے اعلان سے موقع کی تاک میں رہنے والے مبینہ منافع خور حلقوں کو ملک کے مختلف حصوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرکے عوام کو ہیجان میں مبتلا کرنے کا ایک بہانہ مل گیاہے ،اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے اگرچہ وزیراعظم نے گزشتہ روزپیٹرولیم مصنوعات سے متعلق اعلی سطح کے اجلاس میں صوبائی حکومتوں کو پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کردی ہے لیکن مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھا م کیلئے حکومت کے احکامات کا جو حشر ہوتا رہاہے پیٹرول کے سلسلے میں بھی صورت حال اس کے برعکس نظر نہیں آتی۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں اور جو بھی پٹرول پمپ مصنوعی قلت کے اس مکروہ دھندے میں ملوث ہو اُس کو فوراً بند کیا جائے اور اس کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔ وزیراعظم نے وزیر پیٹرولیم کوبھی ہدایت دی ہے کہ وہ صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور ان کی عوام کو بلاتعطل فراہمی کے حوالے سے لائحہ عمل و منصوبہ بندی تیار کریں لیکن سوال یہ ہے کہ پیٹرولیم کی ضرورت کے مطابق فراہمی کو یقینی بنائے بغیرکوئی منصوبہ بندی کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے ۔ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے، جس کے ذریعے صوبوں کے ساتھ ریل ٹائم ڈیٹا شیئر ہو اور پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے گی۔وزیراعظم کی اس ہدایت سے ملک میں پیٹرولیم کی دستیابی کے حوالے سے نازک صورت حال کا اندازہ ہوتاہے ۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ایران جنگ کے اثرات نے پوری خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث نہ صرف تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان کی رسد بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے تیل اور گیس کی سپلائی بری طرح محدود ہو کر رہ گئی ہے اورپاکستان میں توانائی کا ایک بحران تیزی سے جنم لے رہا ہے، جس کا ابھی صرف آغاز ہے اور آگے چل کریہ بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔
ہمارے ملک میں حکومت کی جانب کیاگیا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ جہاں تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق ہے تو بلاشبہ اس میں ہوشربا اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ چند روز قبل ہی ڈیزل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی تھیں، جبکہ پیٹرول کی قیمتیں 100 ڈالر کی سطح کے قریب پہنچ رہی تھیں۔ یہ سب اس کے باوجود ہو رہا ہے کہ برینٹ کروڈ (خام تیل) کی قیمت اب بھی 80 ڈالر کی رینج میں ہے۔اگرچہ ملک کے پاس پٹرولیم مصنوعات کا تقریباً 3 سے 4 ہفتوں اور خام تیل کا قریباً 10 دنوں کا ذخیرہ موجود ہے لیکن ریٹیل کی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قلت اس سے کہیں پہلے ظاہر ہورہی ہے۔ خاص طورپر اطلاعات کے مطابق شمالی علاقوں میں پیٹرول پمپوں نے ابھی سے سپلائی کی راشننگ (مقررہ مقدار میں فراہمی) شروع کردی ہے۔ جبکہ ڈیلرز آنے والے دنوں میں قیمتوں میں شدید اضافے کی توقع کے پیشِ نظرجارحانہ انداز میں خریداری کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر اسٹاک ذخیرہ کر رہے ہیں۔ اس صورتحال سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظر ثانی کرکے قیمتوں کو بین الاقوامی قیمتوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اقدامات کرے۔حکومت قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ ایسا کرنا اپنی جگہ درست ہے لیکن عالمی منڈی میں قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے پیش نظر حکومت کو پہلے ہی قیمتوں کو بین الاقوامی قیمتوں سے ہم آہنگ کردینا چاہئے تاکہ زیادہ منافع کی امید پر ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔ ساتھ ہی حکومت کو چاہئے کہ تیل کی قیمتوں میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے اضافے کا تمام تر بوجھ صارفین پر منتقل نہ کرے کیونکہ یہ بہت زیادہ گراں گزرے گا۔ یہ بوجھ عوام کو منتقل کرنے کے بجائے حکومت کوپٹرولیم مصنوعات پرلیوی کی شرح میں کمی اور خام تیل و پٹرولیم مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی کو یا تو ختم کردییا پھر اسے فیصد کے بجائے روپوں میں فکس کر دے ، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف کارروائیوں کی ہدایت کرکے عوام کو مطمئن کرنے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنائیں اور ملک کے ہر علاقے کے پیٹرول پمپس کو ان کی ضرورت کے مطابق بروقت پیٹرول کی فراہمی کا انتظام کریں اس طرح منافع خوروں کی امیدیں خود ہی خاک میں مل جائیں گی اور وہ ذخیرہ شدہ ذخائر ظاہر کرنے پر مجبور ہوں گے جس سے سپلائی پر بوجھ خود بخود کم ہوجائے گا ،تاہم حکومت جو بھی فیصلہ کرے، اسے اس میں زیادہ وقت نہیں لگانا چاہیے۔قیمتوں سے متعلق فوری فیصلہ پٹرولیم کی فوری قلت کو ٹالنے اور مالیاتی اثرات کو محدود کرنے میں مدد دے گا۔اس کے باوجود یہ بات اپنی جگہ اٹل ہے کہ اگر یہ جنگ صدر ٹرمپ اور ان کے وزرا کے دعوے کے مطابق طویل ہوتی ہے تو توانائی کے شعبے میں وسیع ترقلت کا خدشہ ناگزیر ہوجائے گا حکومت کو ایسی متوقع صورت حال کا مقابلہ کرنے کیلئے فوری ہنگامی حکمت عملی تیار کرنی چاہئے اور تیل کے حصول کیلئے ممکنہ متبادل روٹس کا انتخاب کرنے میں دیر نہیں لگانا چاہئے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی طلب ورسد کا توازن بگڑنے نہ پائے۔ اگرچہ قطر کی جانب سے آر ایل این جی کی فراہمی روک دئے جانے اور پٹرولیم اور خام تیل کی رسد کا ایک بڑا حصہ معطل ہو نے کی وجہ سے سنگین مسائل پیداہوئے ہیں لیکن آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود کچھ کارگو متبادل راستوں سے پہنچ سکتے ہیں ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کو صنعتوں کے لیے توانائی کی مناسب فراہمی یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے ، کیونکہ بعض شعبوں کو گیس کی فراہمی میں پہلے ہی کٹوتی کی جارہی ہے۔ حکومت کو فرنس آئل پر لیوی کم کرنی چاہیے اور صنعتوں کو اسے متبادل ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔ فرنس آئل کی برآمد پر پابندی عائد ہونی چاہیے اور یہ سپلائی مقامی صنعتوں کی طرف موڑ دینی چاہیے۔ اس اقدام سے ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔اس صورتحال میں ایک جامع نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں۔ مہنگائی کا دباؤ اور شرحِ تبادلہ (ڈالر کی قیمت) میں ممکنہ تبدیلیاں اب ناگزیر ہو چکی ہیں۔ اس بحران کو انتہائی احتیاط سے سنبھالنا ہوگا جس کا آغاز توانائی کی قیمتوں میں بروقت ردّ و بدل اور طلب کو قابو میں رکھنے کے اقدامات سے ہونا چاہیے۔ امید کہ ہمارے ماہرین اس حوالے سے اپنی بہترین توانائیاں بروئے کار لانے کی کوشش کریں گے۔
٭٭٭


