افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت
شیئر کریں
افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ
کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ہم اس عزم پر قائم ہیں، ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کو یقین دہانی
افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حالیہ کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کابل حکومت بارہا اس بات پر زور دے چکی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل کا پُرامن اور سفارتی حل تلاش کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے متعدد بار پُرامن حل پر زور دیا اور اب بھی چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ ہم اب بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔طالبان حکومت کے ترجمان نے کہا کہ افغان حکومت خطے میں استحکام اور امن کی خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتی ہے۔ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ہم ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کو بارہا یقین دلاتے رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ہم اب بھی اس عزم پر قائم ہیں۔یاد رہے کہ افغانستان سے دراندازی کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا ہے جس میں طالبان رجیم کے سیکڑوں اہلکار مارے گئے۔


