سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں قاتل عمارتیں، مکینوں کی جان ہتھیلی پر
شیئر کریں
ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی اور بلڈنگ انسپکٹر لطافت مرزا کی تعمیراتی مافیا سے ملی بھگت
سی ون ایریا کے پلاٹ نمبر 1/6 اور 43/5 پر خلاف ضابطہ چھ منزلہ عمارتوں کی تعمیر
ضلع وسطی کے معروف رہائشی علاقے لیاقت آباد کی تنگ و تاریک گلیوں میں تعمیراتی مافیا کے بلند و بالا منصوبے علاقہ مکینوں کے لیے آہستہ آہستہ قفس بنتے جا رہے ہیں۔شہر کے وسط میں واقع اس قدیم رہائشی علاقے کی گلیاں، جو پہلے ہی تنگ ہیں، ان پر تعمیر ہونے والی غیر قانونی منزلیں مکینوں کے سانسوں کو روک رہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق، لیاقت آباد سی ون ایریا میں پلاٹ نمبر 1/6 اور 43/5پر تعمیراتی مافیا نے ضابطہ تعمیرات کی تمام تر حدود پامال کرتے ہوئے سرکاری طور پر منظور شدہ نقشوں سے کہیں بلند چھ منزلہ عمارتیں کھڑی کر دی ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے ان کے گھروں میں دن کے وقت بھی اندھیرا رہنے لگا ہے اور ہوا کے راستے بند ہو گئے ہیں۔مکینوں نے الزام لگایا ہے کہ اس خلاف ورزی کی جڑ میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی ملی بھگت شامل ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی اور بلڈنگ انسپکٹر لطافت مرزا کی خاموشی اور مبینہ سرپرستی نے مافیا کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑا رہا ہے ۔علاقہ مکین احمد علی کا کہنا ہے کہ "ہماری گلی میں فائر بریگیڈ کی گاڑی یا ایمبولینس کا گزرنا محال ہو گیا ہے ۔ اگر کبھی آگ لگی یا کوئی مریض ہوا تو ہم اس عمارت کے ملبے تلے دب کر رہ جائیں گے ۔” ایک اور مقامی خاتون نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے بچوں کو کھیلنے کی جگہ نہیں رہی، یہ عمارتیں ہم پر مسلط ہو گئی ہیں”۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو فوری نوٹس لیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر ان غیر قانونی تعمیرات کو نہ گرایا گیا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور سڑکوں پر آنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے ۔


