کوشش کرکے تو دیکھیں!
شیئر کریں
صحن چمن
۔۔۔۔۔
عطا محمد تبسم
ملک میں سائنس کی تعلیم کا مسئلہ محض نصاب کا نہیں، سوچ کا ہے ۔ ہم اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر چند ذہین افراد اپنی سطح پر کوشش کریں گے تو سب کچھ بدل جائے گا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک اجتماعی فیصلے ، اجتماعی ترجیحات اور اجتماعی سرمایہ کاری نہیں ہوگی، تبدیلی کا پہیہ آگے نہیں بڑھے گا۔پاکستان میں تقریباً دو کروڑ 60 لاکھ بچے ، جن کی عمریں 5 سے 16 سال کے درمیان ہیں، اسکول سے باہر ہیں۔ یہ تعداد ملک کی اسکول جانے کی عمر کے بچوں کی مجموعی آبادی کا ایک تہائی سے بھی زیادہ بنتی ہے ۔سال 2016-17 میں یہ تعداد تقریباً
2 کروڑ 20 لاکھ تھی، مگر آبادی میں اضافے کی وجہ سے اب یہ بڑھ گئی ہے ، حالانکہ اسکول سے باہر بچوں کی شرح (فیصد) میں کچھ کمی آئی ہے ۔ اس مسئلے کا سب سے زیادہ اثر بچیوں پر پڑ رہا ہے ، جو لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں تعلیم سے محروم ہیں۔ یونیسیف کی ایک رپورٹ کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 2 کروڑ53 لاکھ 70 ہزار سے 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکول نہیں جا رہے ۔یہ صورتحال تعلیمی نظام، معاشی مسائل اور صنفی عدم مساوات کی عکاسی کرتی ہے ، اسکولوں میں سائنس کی تعلیم کے لیے لیبارٹری سرے سے موجود نہیں ہیں۔ ہمارے بچے پوچھتے ہیں کی لیب کیا ہوتی ہے ۔
گذشتہ دنوں طارق جمیل نے محفل مکالمہ پاکستان کے تحت ایک نشست میں ملک میں سائنس کی تعلیم کی کامیابی اور ناکامی پر بحث کے لیے مکالمہ کیا ۔ بزم مکالمہ ہرماہ رباط لائبیری میں ایسی محفل منعقد کرتی ہے ۔ سائنس کی تعلیم میں ہماری ناکامی پر یہ گفتگو ہمارے قومی المیہ کا اظہار تھی۔ یہی بات معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر فیاض وید بار بار اجاگر کرتے رہے ۔وہ بزم مکالمہ پاکستان کی اس ماہانہ نششت سے مخاطب تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی گفتگو بہت حقیقت پسندانہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ فرد کی کوشش ضروری ہے مگر کافی نہیں۔معاشرہ افراد سے بنتا ہے ، اور افراد کے درمیان رشتہ زبان، مکالمے اور برداشت سے قائم ہوتا ہے ۔اختلاف رائے ہی مشورے کو جنم دیتا ہے اور مشورہ ہی بہتر نظام کی بنیاد رکھتا ہے ۔ اگر ہم واقعی سائنسی مزاج پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں سوال کرنا جرم نہ ہو، جہاں استاد اور شاگرد دونوں سیکھنے کے عمل میں شریک ہوں، اور جہاں مختلف خیالات کو برداشت کیا جائے ۔ سائنسی ترقی دراصل اسی سماجی رویے کا نام ہے ۔
ہم اکثر بڑے ممالک کی مثالیں دیتے ہیں، مگر بنیادی حقیقت سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک اپنی قومی آمدنی کا اوسطاً دو سے تین فیصد تحقیق اور ترقی پرخرچ کرتے ہیں، جبکہ ہم اعشاریوں میں اٹکے رہتے ہیں۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے ،اسکول کم، کالج ناکافی، جامعات محدود، لیبارٹریاں کمزور، اور تحقیق کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر۔ ایسے میں اگر ہم عالمی معیار کی کامیابیوں کا خواب دیکھیں تو یہ محض خواہش رہے گی۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دنیا میں بڑے کام افراد اکیلے نہیں کرتے ۔ ان کے پیچھے ادارے ہوتے ہیں، فنڈنگ ہوتی ہے ، انفراسٹرکچر ہوتا ہے ، اور ایک معاون ماحول ہوتا ہے ۔ سائنس دان کو یہ فکر نہیں ہوتی کہ بجلی ہوگی یا نہیں، آلات ملیں گے یا نہیں، یا تنخواہ وقت پر آئے گی یا نہیں۔ ہمارے ہاں باصلاحیت لوگ موجود ہیں، مگر نظام ان کی صلاحیتوں کو جلا نہیں دیتا۔ڈاکٹر فیاض وید نے ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا تھا کہ اگر سرکاری اہلکاروں کو پابند کر دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں تو شاید نظام خود بخود بہتر ہونا شروع ہو جائے۔ جب فیصلہ سازوں کے اپنے مفادات نظام سے جڑ جائیں گے تو وہ اسے بہتر بنانے پر مجبور ہوں گے ۔ اسی طرح سرکاری اسکولوں کو کمیونٹی کی بنیاد پر چلانے کی تجویز بھی قابلِ عمل ہے ۔ محلے کے لوگ، والدین اور اساتذہ مل کر مینجمنٹ کمیٹیاں بنائیں اور اپنے اسکول کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ پہل کون کرے گا۔
ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ جدید تعلیم کا مطلب چھوٹے بچوں کو لیپ ٹاپ پکڑا دینا ہے ۔ ایسا نہیں۔ تعلیم ہمیشہ درجہ بدرجہ آگے بڑھتی ہے ۔ کوئی بھی آٹھ سال کے بچے کو پیچیدہ سائنسی نظریات نہیں پڑھاتا۔ نصاب عمر اور ذہنی سطح کے مطابق بنایا جاتا ہے ۔ ہمیں کوئی نئی دنیا ایجاد نہیں کرنی، ہمیں وہی طریقے اپنانے ہیں جو دنیا پہلے ہی آزما چکی ہے ۔ پہیہ دوبارہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ اصل مقصد کیا ہے ؟ تعلیم کا مقصد شعور پیدا کرنا ہے ، سوال اٹھانے کی ہمت دینا ہے ، تجسس کو زندہ رکھنا ہے ۔ اگر ہم سائنس کو دلچسپ نہیں بنائیں گے ، اگر ہم بچے کے
اندر دریافت کا شوق پیدا نہیں کریں گے ، تو وہ محض رٹا لگائے گا اور امتحان کے بعد سب بھول جائے گا۔پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، کمی ہے تو سمت، منصوبہ بندی اور اجتماعی ارادے کی۔ جس دن ہم نے فیصلہ کر لیا کہ سائنس کی تعلیم ہماری ترجیح ہے ، اسی دن سے راستے نکلنا شروع ہو جائیں گے ۔ پہلے قدم کے لیے صرف نیت اور جرأت چاہیے کوشش تو کر کے دیکھیں۔
٭٭٭


