سب سے بڑی بغاوت شعور ہے!
شیئر کریں
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
فرانز کافکا کا ناول The Trialجدید دنیا کی اُس ہمہ گیر فکری کیفیت کا استعارہ ہے جسے مارٹن ہائیڈیگر نے انسان کی ”پھینکے گئے وجود” کی حالت کہا تھا،یعنی ایسا وجود جو خود کو ایک ایسے نظام میں پاتا ہے جس کے قواعد اس نے خود نہیں بنائے مگر جن کے نتائج اسے بہرحال بھگتنا پڑتے ہیں، ناول کے آغاز میں جوزف K کی گرفتاری محض ایک قانونی واقعہ نہیں بلکہ وجودی اعلان ہے کہ اب انسان کا سب سے بڑا جرم خود اس کا موجود ہونا ہے،جیسا کہ ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ انسان آزادی پر مجبور ہے اور یہی آزادی اس کی سزا بن جاتی ہے،جوزف K آزاد بھی ہے اور قید بھی،وہ عدالت کے پنجے میں ہے مگر اس عدالت کا چہرہ نظر نہیں آتا،یہی وہ کیفیت ہے جسے میکس ویبر نے جدید بیوروکریسی کا فولادی پنجرہ کہا تھا جہاں نظام انسان کے لیے نہیں رہتا بلکہ انسان نظام کے لیے ایک فائل بن جاتا ہے،کافکا کی عدالت اسی فولادی پنجرے کی علامت ہے،ایسا ادارہ جو بظاہر قانون کی خدمت کرتا ہے مگر درحقیقت اطاعت پیدا کرتا ہے،یہاں قانون انصاف کا مترادف نہیں بلکہ طاقت کی زبان ہے،جیسا کہ مشیل فوکو نے تاریخ کے تناظر میں واضح کیا کہ جدید طاقت تلوار سے نہیں بلکہ ضابطے،نگرانی اور خاموش قبولیت سے کام لیتی ہے۔ دی ٹرائل میں الزام کی عدم موجودگی دراصل اسی جدید طاقت کا سب سے خوفناک ہتھیار ہے کیونکہ جب جرم واضح نہ ہو تو دفاع ناممکن ہو جاتا ہے،جوزف K آہستہ آہستہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے لگتا ہے اور یہ وہی داخلی گرفت ہے جسے سینٹ آگسٹین نے انسانی روح میں پیوست گناہ کی حالت کہا تھا اور جسے جدید دنیا میں مذہب سے نکال کر ریاست اور اداروں نے اپنا لیا،ناول کا مشہور استعارہ ”قانون کے سامنے” دراصل پوری انسانی تاریخ کا خلاصہ ہے، قدیم مصر کے فرعونوں سے لے کر رومی قانون،قرونِ وسطیٰ کی کلیسائی عدالتوں،انکوئزیشن،نوآبادیاتی عدالتوں،سوویت شو ٹرائلز اور نازی جرمنی تک انسان ہمیشہ کسی نہ کسی دروازے کے سامنے کھڑا رہا ہے جہاں وعدہ دیا گیا کہ اندر سچ ہے مگر اندر جانے کی اجازت کبھی نہیں ملی۔
ہیگل نے کہا تھا کہ تاریخ آزادی کی شعوری پیش رفت ہے مگر کافکا اس دعوے کوالٹ کر دکھاتا ہے کہ جدید تاریخ آزادی نہیں بلکہ ذمہ داری کے بغیر طاقت کی ترقی ہے،ناول میں عورتوں کا کردار بھی محض رومانوی نہیں بلکہ ساختیاتی ہے،وہ عدالت سے جڑی ہوئی ہیں،راستہ دکھاتی ہیں مگر نجات نہیں دیتیں،یہ وہی فریب ہے جسے فرائڈ نے خواہش اور اختیار کے باہمی تعلق میں دیکھا تھا کہ انسان اپنی نجات کو بھی اسی طاقت کے ذریعے تلاش کرتا ہے جو اسے قید کیے ہوئے ہے،جوزف کے وکیل،عدالتی مصور اور پادری سب اسے مختلف فلسفیانہ راستے دکھاتے ہیں مگر کوئی بھی راستہ باہر نہیں جاتا،یہاں کیرکیگارڈ کی آواز سنائی دیتی ہے کہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش میں انسان جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی اضطراب میں گرتا جاتا ہے،آخرکار جوزف K کا انجام کسی فیصلے کے بغیر قتل ہے اور اس کا آخری جملہ ”کتے کی طرح” صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری جدید انسانیت کی تذلیل ہے،ایسا انسان جو ہنّا آرنٹ کے الفاظ میں ”بدی کی معمولی پن” کا شکار ہو چکا ہے جہاں ظلم کسی شیطان کے چہرے کے ساتھ نہیں بلکہ فائل،دستخط اور خاموش حکم کے ذریعے آتا ہے۔
دی ٹرائل ہمیں بتاتا ہے کہ تاریخ نے جتنے بھی عظیم نظام بنائے ہیں انہوں نے آخرکار انسان کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے،آج جب الگورتھم فیصلے کر رہے ہیں،ریاستیں شفافیت کے بغیر نگرانی کر رہی ہیں اور فرد مستقل قانونی و سماجی معطلی میں ہے تو کافکا کا ناول مستقبل کی پیش گوئی نہیں بلکہ حال کی تشریح بن جاتا ہے،یہ کوئی مکمل کہانی نہیں کیونکہ جیسا کہ نطشے نے کہا تھا کہ حتمی سچ ایک انسانی وہم ہے،دی ٹرائل دراصل ایک آئینہ ہے اور اس آئینے میں جو چہرہ نظر آتا ہے وہ جوزف K کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے جو اب بھی قانون کے دروازے پر کھڑی اجازت کا انتظار کر رہی ہے۔
فرانز کافکا کا دی ٹرائل اگر محض ایک یورپی ناول ہوتا تو شاید آج پاکستانی سماج پر اس قدر صادق نہ آتا مگر المیہ یہ ہے کہ یہ کہانی یہاں روزانہ
زندہ ہو کر چلتی پھرتی نظر آتی ہے،پاکستانی ریاست اور سماج ایک ایسے کافکائی مقدمے میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں شہری جرم جانے بغیر ملزم ہے، جہاں گرفتاری پہلے اور وضاحت کبھی نہیں آتی،جہاں عدالتیں موجود ہیں مگر انصاف غائب ہے اور جہاں قانون کتابوں میں تو ہے مگر زندگی میں
نہیں، یہاں جوزف K کسی ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک اجتماعی شناخت ہے،کبھی وہ لاپتہ شخص ہے جس کے بارے میں خاندان برسوں پوچھتا رہتا
ہے مگر جواب نہیں ملتا،کبھی وہ مزدور ہے جس پر ریاستی پالیسیوں کا جرم ڈال دیا جاتا ہے،کبھی وہ طالب علم ہے جسے سوال کرنے پر مشکوک بنا دیا جاتا
ہے اور کبھی وہ صحافی ہے جو سچ بولنے کے جرم میں خاموش کرا دیا جاتا ہے،پاکستانی ریاست میں الزام کی سب سے خطرناک صورت وہ ہے جو تحریر
میں نہیں آتی،یہاں فائلیں چلتی ہیں،نوٹس بنتے ہیں،ادارے حرکت میں آتے ہیں مگر شہری کو کبھی نہیں بتایا جاتا کہ اس کا قصور کیا ہے،یہی وہ غیر مرئی
عدالت ہے جسے کافکا نے صدی پہلے محسوس کر لیا تھا،یہ عدالت وردی میں بھی آ سکتی ہے اور سوٹ میں بھی،یہ قانون کے نام پر بھی بول سکتی ہے اور قومی مفاد کے نام پر بھی،مگر اس کا مقصد انصاف نہیں بلکہ اطاعت پیدا کرنا ہوتاہے، پاکستانی سیاست اسی اطاعت کے گرد گھومتی ہے جہاں انتخابات ہوں یا نہ ہوں، فیصلہ کہیں اور ہو چکا ہوتا ہے اور عوام محض تماشائی بن کر نتائج قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں،یہ وہی کیفیت ہے جسے میکس ویبر نے بیوروکریسی کی غیر شخصی طاقت کہا تھا اور جسے یہاں طاقت کے حقیقی مراکز نے مزید بے رحم بنا دیا ہے،پارلیمان ہو یا عدالت،میڈیا ہو یا نصاب،
سب ایک ایسے دائرے میں گھومتے نظر آتے ہیں جہاں سوال کرنے والا ہی مشکوک ہو جاتا ہے،یہاں بھی جوزف K کی طرح شہری شروع میں خود کوبے قصور سمجھتا ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ یہ ماننے لگتا ہے کہ شاید قصور اسی کا ہے کہ اس نے خاموشی اختیار نہیں کی۔
یہ داخلی گرفت پاکستانی سماج کا سب سے گہرا المیہ ہے جہاں لوگ ظلم کو قسمت،ناانصافی کو مجبوری اور جبر کو معمول سمجھنے لگتے ہیں،کافکا کے ناول کی طرح یہاں بھی مذہب، قانون اور اخلاقیات کو طاقت کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،کبھی احتساب کے نام پر،کبھی سلامتی کے نام پر اور کبھی نظریے کے نام پر،مگر احتساب ہمیشہ کمزور کا ہوتا ہے اور سلامتی ہمیشہ طاقتور کے لیے خطرے میں پڑتی ہے،پاکستانی تاریخ اگر دیکھی جائے تو یہ مسلسل التوا کا سفر ہے،آئین معطل ہوتے رہے، جمہوریت مؤخر ہوتی رہی،انصاف کے وعدے بار بار کیے گئے مگر دروازہ کبھی نہیں کھلا،یہی وہ ”قانون کے سامنے” والی کیفیت ہے جہاں عوام نسل در نسل کھڑے ہیں اور ہر بار بتایا جاتا ہے کہ ابھی وقت نہیں آیا،کافکا کے جوزف K کی طرح یہاں بھی وکیل ہیں جو امید دلاتے ہیں مگر نتیجہ نہیں دیتے، یہاں بھی مصور ہیں جو انصاف کی تصویر بناتے ہیں مگر حقیقت میں کچھ نہیں بدلتا اور یہاں بھی واعظ ہیں جو صبر کا درس دے کر ظلم کو مقدس بنا دیتے ہیں،آخرکار سب سے خطرناک انجام وہی ہوتا ہے جو خاموشی سے آتا ہے،جسمانی قتل سے پہلے ذہنی قتل،سیاسی قتل سے پہلے اخلاقی قتل اور آئینی قتل سے پہلے شعوری قتل،دی ٹرائل ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ جب ریاست خود کو جواب دہ سمجھنا چھوڑ دے تو شہری محض ایک فائل،ایک نمبر اور ایک مشتبہ وجود بن جاتا ہے،پاکستانی سماج آج اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں سب کچھ بظاہر معمول کے مطابق چل رہا ہے مگر اندر سے سب کچھ مقدمہ بن چکا ہے،یہ ناول ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ سب سے بڑی بغاوت شور نہیں بلکہ شعور ہے اور سب سے بڑا جرم سوال کرنا نہیں بلکہ سوال سے دستبردار ہو جانا ہے، اگر جوزف K کا انجام ”کتے کی طرح” ہوا تو یہ محض ایک ادبی جملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی انتباہ ہے کہ جو معاشرے اپنے شہری کو انسان نہیں سمجھتے وہ آخرکار خود بھی تاریخ میں اسی طرح ذلیل ہو جاتے ہیں،دی ٹرائل پاکستانی ریاست اور سماج کے لیے آئینہ ہے اور سوال یہ نہیں کہ ہم اس میں کیا دیکھتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم کب تک دیکھنے سے انکار کرتے رہیںگے۔
٭٭٭


