میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
انسان اپنے انجام سے غافل رہتا ہے!

انسان اپنے انجام سے غافل رہتا ہے!

ویب ڈیسک
پیر, ۱۶ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

لوگ خدا نہیں ہوتے سب سے بڑی نیکی اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اس دنیا میں سارااختیار صرف ایک خدا کو حاصل ہے اور
انسان بالکل عاجز اور بے بس ہے۔ پہلا شخص جس نے ایورسٹ پراپنا قدم رکھنے کی سنجیدہ کوشش کی وہ ایک انگریز موریس ولسن تھا ،اس
نے 1934 میں اس کے اوپر چڑھائی کی مگر جس چیز کو اس نے اپنی زندگی کاکلا ئمیکس سمجھا تھا وہ اس کے لیے اینٹی کلا ئمیکس بن گیا۔
موریس ولسن پہلی جنگ عظیم میں ایک سپاہی تھا اس کو دنیا کی ” آخری بلندی ”پر پہنچنے کااتنا زیادہ شو ق تھا کہ اس نے اپنے خاندان کی
کامیاب تجارت کو اس کے اوپر قربان کردیا۔ اس نے اپنا تمام سر مایہ خر چ کرکے ذاتی طورپر ایک سیکنڈ ہینڈ ہوائی جہاز خریدا،وہ برطانیہ
سے ہندوستان تک چھ ہزار میل کاسفر طے کرکے پورنیہ میں اترا۔ اس کو اپنا ہوائی جہاز آگے لے جانے کی اجازت نہیں ملی ،چنانچہ اس
نے اپنا ہوائی جہاز فروخت کر دیا۔ اس کے بعد اس نے دار جیلنگ اور تبت کے راستے سے ایورسٹ کی طرف سفر شروع کر دیا ۔ آخر میں
اس کے پاس ایک چھوٹا خیمہ ، کچھ چاول ، کیمرا اور چنددوسری چیزیں باقی رہ گئیں، تاہم وہ اوپر چڑھتا رہا ،وہ کامیابی کے ساتھ 19500 فٹ کی بلندی تک پہنچ گیا ۔21 اپریل 1934 کو اس کی 36 ویں سالگرہ تھی اس کا منصوبہ تھا کہ وہ اپنی زندگی کے اس
تاریخی دن کو ایورسٹ کی چوٹی پر کھڑا ہواس نے اپنی ڈائری میں چند دن پہلے یہ الفاظ لکھے ” صرف تیر ہ ہزار فٹ جانا اور باقی ہے، مجھے
یہ واضح محسوس ہورہاہے کہ میں21 اپریل 1934 کو چوٹی پر پہنچ جائوں گا”۔ ان سطروں کو لکھنے کے بعد ہمالیہ کا سخت طوفان اور موسم کی
شدت اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے وہ مجبور ہوگیا کہ پیچھے لوٹے۔ چنانچہ وہ اتر کر نیچے آگیا، پھر اس کے بعد اس کودوبارہ اوپر چڑھنا
نصیب نہ ہوا ۔اس کے بعد اس کے ساتھ کیا پیش آیا اس کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ ایک سال بعد جب تن زنگ نارگے ایوریسٹ پراوپر
چڑھ رہا تھا کہ اس کو ایک مقام پر موریس ولسن کی لاش ملی اور اس کے ساتھ اس کی ڈا ئر ی بھی جس کا آخری جملہ و ہ تھا جو آپ پڑھ چکے ہیں ۔
یہ ہی کہانی بدلی ہوئی صورت میں ہر آدمی کی کہانی ہے۔ ہر آدمی یہ ہی سمجھتا ہے کہ وہ کامیابی کی چوٹی پرپہنچنے کی طرف بڑھ رہاہے ،
حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے ۔یہاں ہر آدمی صرف ایک ایسی منزل کی جانب چلا جارہا ہے جہاں موت کے سوا کوئی دوسری

چیز نہیں جو اس کا استقبال کرنے کے لیے موجود ہو ۔ سکندر اعظم نے بڑی بڑی فتو حات کیں مگر جب آخروقت آیا تو اس نے کہا ” میں
دنیا کو فتح کرنا چاہتا تھا مگر موت نے مجھ کو فتح کرلیا”۔ نپو لین بونا پارٹ کے آخری احساسات یہ تھے ” انسان کی زندگی اگریہ ہی ہے جو
مجھ کو ملی تو یقینا انسانی زندگی ایک بے معنی چیز ہے کیونکہ اس کاانجام مایوسی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ” ۔ ہارون الرشید بہت بڑی
سلطنت کا مالک تھا مگر آخر عمر میں اس نے کہا ”میں نے بے حد غم اور فکر کی زندگی گزاری ہے، زندگی کا کوئی دن ایسا نہیں جو میں نے بے
فکری کے ساتھ گزارا ہو،اب میں موت کے کنارے پر ہوں، جلد ہی قبر میرے جسم کو نگل لے گی ۔ یہ ہی ہر انسان کا آخری انجام ہے مگر
ہرانسان اپنے انجام سے غافل رہتاہے ”۔
خلیفہ منصور عباسی کی موت کا وقت آیا تو اس نے کہا ” اگر میں کچھ دن اور زند ہ رہتا تو اس حکومت کو آگ لگا دیتا جس نے باربار مجھے
سچائی سے ہٹادیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک نیکی اس ساری حکومت سے بہتر ہے ”31 اکتوبر 1984 کو صبح سوا نو بجے تھے، نئی دہلی میں
وزیراعظم ہندوستان کی سر کاری رہائش گاہ میں حسب معمول پولیس اور اسٹاف کی سر گرمیاں اپنے شباب پر تھیں، پیشگی اپائٹمنٹ کے
مطابق وسیع اور شاندار لان میں پیٹرا سٹیو ف اپنی پارٹی کے ساتھ آچکے تھے ۔وہ وزیراعظم اندرا گاندھی پر ایک فلم بنارہے تھے ،
وزیراعظم اپنے وقت پر اپنے کمرے سے برآمد ہوئیں وہ لان میں داخل ہونے ہی والی تھیں کہ گولیوں کی آواز سنائی دینے لگی۔
مسزاندراگاندھی کی حفاظتی پولیس کے دو مسلح جوانوں نے اچانک ان پر حملہ کردیا ایک نے پستول سے فائر کیا دوسرے نے اپنے اسٹین
گن کی 20 گولیاں ان کے اوپر خالی کردیں خون میں لت پت اندرا گاندھی کوئی آخری جملہ نہ بول سکیں وہ بے ہوش حالت میں
اسپتال میں لے جائی گئیں، صرف اس لیے کہ ڈاکٹر ان کی طبعی موت کاآخری اعلان کرسکیں۔ اس سلسلے میں اخبارات میں جور رپورٹیں
شائع ہوئیں ان میں سب سے زیادہ عبرت انگیز پیٹراسٹینوف کا واقعہ تھا۔ مسٹر اسٹینوف ان کے لان میں بیٹھے ہوئے تھے وہ ان سے
انٹرویو کے منتظر تھے، انہوں نے کہا کہ میں ان سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ واحد اولاد ہونے کے انہوں نے کس طرح اپنے اکیلے پن کے
ساتھ نباہ کیا ،عین اسی وقت اسٹینوف نے موت کی آواز سنی۔کوئی آدمی اپنے وقت سے پہلے نہیں مرتا لیکن اپنی ساری عمر اس کے پاس
اس وقت کے لیے سو چنے کا وقت ہی نہیں ہوتا، اس وقت سے پہلے آپ اپنے تما م فیصلوں کے مالک خود ہوتے ہیں اور اس وقت کے
بعد آپ صرف کٹہر ے میں کھڑے ہوئے مجرم کی مانند ہوتے ہیں، جسے اپنے ہر کیے کا حساب دینا ہوتاہے ۔
آپ آخری وقت تک یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کی زندگی کی کہانی آپ کی عین مر ضی کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے لیکن اصل
میں حقیقت اس کے بالکل عکس ہوتی ہے ،یاد رہے کہ وقت پر آپ کی صرف زندگی ختم ہوتی ہے آپ کا کردار نہیں مرتا بلکہ وہ آپ کے
مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے ۔آج غلام محمد ، اسکندر مرزا، ایوب خان، یحییٰ خان ، ضیاالحق کو مرے سالوں بیت چکے ہیں لیکن ان کے
کردارآج بھی ہم سب میں زندہ ہیں کیونکہ کردار کبھی نہیں مرتے ۔ اور یہ ایک نسل سے دوسری نسل خود بخود منتقل ہوتے رہتے ہیں ۔ اسی
لیے ہمارے آج کے کرداروں کے کرداربھی کبھی نہیں مریں گے۔ لہٰذا اس وقت سے پہلے جب آپ کے پاس وقت نہ رہے آپ اپنے
کردار کو تبدیل کر سکتے ہیں، آج آپ کے پاس وقت ہے آپ لوگوں کی دعائیں لے سکتے ہیں ۔ان کی زندگیاں تبدیل کرسکتے ہیں۔
اپنے کردار کو یادگار اور لافانی بناسکتے ہیں تاکہ نسل در نسل آپ کے لیے دعائوں کاسلسلہ جاری رہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آنے
والے وقت میں آ پ کا ذکر کس طرح سے ہو ۔ لوگ آپ کو کس طرح سے یاد کریں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں