میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۳ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

تختِ مظفرآباد کیلئے سیاسی بساط بچھ گئی، امیدواروں کے ناموں پر پراسرار خاموشی،اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے، آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ
30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے،نون لیگ اپنا صدر لائے گی(راجا فاروق حیدر) صدارتی منصب کے حصول کیلئے دونوں پارٹیوں میں سیاسی تناؤ شدت اختیار کر گیا

آزاد جموں و کشمیر میں نئے صدرِ کے انتخاب کے معاملے پر سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں تاہم دو بڑی جماعتوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے صدارتی امیدوار سامنے لانے بارے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی حالاں کہ دونوں جماعتیں اس سلسلے میں مشاورتی اجلاس منعقد کر چکی ہیں ۔ سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات کے بعد خالی ہونے والے اس اہم ترین عہدے کے لیے پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار لانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اس سلسلے میںاسلام آباد میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور سمیت پارلیمانی وفد نے شرکت کی۔ وفد نے صدر زرداری سے پارٹی معاملات اور مستقبل کے سیاسی اقدامات پر تفصیلی مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق، اس اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر کا اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی مشاورت شروع کر دی ہے وزیر امور کشمیر امیر مقام کی سربراہی میں اجلاس بھی ہو چکا ہے، پاکستان مسلم لیگ ن ازاد کشمیر کے رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کہہ چکے ہیں کی مسلم لیگ ن اپنا صدر لائے گی سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات 31جنوری کو ہوئی تھی آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے 30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے نام پہلے ہی چیرمین کشمیر کونسل وزیر اعظم پاکستان کو ارسال کیے جا چکے ہیں اور اس پر جلد فیصلہ متوقع ہے۔پیپلز پارٹی کی قیادت نے صدارتی امیدوار کے نام کا ابھی تک باقاعدہ اعلان نہیں کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی مزید مشاورت کے بعد کسی’سرپرائز’نام کے ساتھ سامنے آئے گی۔ دوسری جانب، ن لیگ کے ساتھ اس عہدے پر ہونے والی کھینچا تانی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا دونوں جماعتیں کسی ایک نام پر متفق ہو پائیں گی یا آزاد کشمیر کے ایوان میں صدارتی معرکہ آمنے سامنے کا ہوگا۔ صدارتی منصب کے حصول کے لیے ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی تناؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس اہم ترین عہدے کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی طرف سے اپنا اپنا امیدوار لانے کے فیصلے سے ریاست کے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو گیا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں