کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ
شیئر کریں
جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی
فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کیلئے کراچی اہم اہداف میں شامل ہے،آزاد خان کی میڈیا سے گفتگو
(رپورٹ :افتخار چوہدری) ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے دہشت گردی کے ممکنہ خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھریٹ لیول ہائی ہے، تاہم پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔کراچی پولیس آفس میں میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ جرائم کی روک تھام میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا کیونکہ پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اس پر کام جاری ہے۔ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کے لیے کراچی اہم اہداف میں شامل ہے، دہشت گردی کا خطرہ ہے، تھریٹ لیول ہائی ہے، تاہم پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیںآزاد خان نے کہا کہ شہر میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے دشمن اپنی پراکسیز کو زیادہ رقوم ادا کرتا ہے، ان گروہوں کا ہدف آسان ٹارگٹ اور اپنے علاقے ہوتے ہیں، جبکہ دہشت گردوں کی زیادہ توجہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان پر ہے جہاں وہ زیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔انہوں نے پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اہل اور پیشہ ور افسران کی تعیناتی ناگزیر ہے کیونکہ سفارش سے گورننس متاثر ہوتی ہے۔ آزاد خان نے خواہش ظاہر کی کہ تھانہ کلچر ختم کرکے عوام کو زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔ایک سوال کے جواب میں ایڈیشنل آئی جی نے واضح کیا کہ انسداد منشیات، اسمگلنگ، تجاوزات اور گداگری روکنا پولیس کی بنیادی ذمہ داری نہیں، پولیس کا اصل کام جرائم کی روک تھام، تفتیش اور عوام کا تحفظ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پولیس اپنے اصل فرائض پر توجہ دے تو نہ صرف کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ محکمہ پولیس سے رشوت کے خاتمے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔


