سندھ بلڈنگ، کورنگی میں غیرقانونی عمارتوں کا جال، قوانین سے انحراف
شیئر کریں
ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف کے درمیان ہم آہنگی ،غیرمعیاری تعمیرات کو تحفظ
اللہ والا ٹاؤن کے ڈی اے ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی رہائشی پلاٹ R1138 پر دکانیں تعمیر
ضلع کورنگی میں تعمیراتی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں ایک منظم طریقے سے جاری ہیں، جہاں متعلقہ محکموں کے کارکنان اور عہدیداروں کی جانب سے ان غیرقانونی سرگرمیوں پر خاموشی یا معاونت کے شواہد ملے ہیں۔محلے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ متعدد جگہوں پر بغیر منظوری کے منزل در منزل عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جن میں سے بیشتر میں بنیادی سہولیات جیسے کہ مناسب راستہ، پارکنگ اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات تک موجود نہیں ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے اللہ والا ٹاؤن میں واقع کے ڈی اے ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کے ایک بزرگ شہری محمد یوسف نے بتایا کہ رہائشی پلاٹ نمبر آر 1138 پر غیر قانونی طور پر دکانیں تعمیر کی جارہی ہیں جب ہم نے احتجاج کیا تو پتہ چلا کہ تمام دستاویزات ‘ترتیب’دے دی گئی ہیں۔ متعلقہ دفتر سے کوئی مدد نہیں ملی، بلکہ ہمیں ہی ڈرایا دھمکایا گیا۔”سرکاری ذرائع کے مطابق، اس معاملے میں دو اہم افسران ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی کے نام بار بار سامنے آ رہے ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ ان غیرقانونی تعمیرات کو جاری رکھنے میں معاونت کر رہے ہیں۔ ایک سابق محکمانہ ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ کوئی اچانک یا انفرادی واقعہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک مربوط نظام کام کر رہا ہے ، جہاں مختلف سطحوں پر موجود افراد اپنے اپنے حصے کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔”ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں نہ صرف شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے ، بلکہ شہری ڈھانچے پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ پانی، بجلی اور گیس کی لائنیں غیرمنصوبہ بند تعمیرات کی وجہ سے مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔ماہرین شہری منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ان غیرقانونی تعمیرات پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے وقتوں میں بڑے پیمانے پر انسانی اور مالی نقصان کا خطرہ ہے ۔شہری حقوق کے کارکنان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں ایک شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے ، اور تمام غیرقانونی تعمیرات کو نشانہ بنایا جائے ، چاہے ان کے پیچھے کسی بھی سطح کا فرد کیوں نہ ہو۔عوام کو امید ہے کہ متعلقہ حکام اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دیں گے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں گے ۔


