میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مولانا کی ''میں''

مولانا کی ''میں''

ویب ڈیسک
منگل, ۱۰ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

جہان دیگر
۔۔۔
زریں اختر

گھریلو تشدد (روک تھام اور تحفظ) ایکٹ ٢٠٢٦ء کے نفاذ پر پاکستان پیپلز پارٹی ،رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی اور سینیٹر شیری رحمان انتہائی مبارک باد و خراج ِ تحسین کی مستحق ہیں۔ قانون سازی ظلم کے خلاف پہلا سنگ بنیادہے جو رکھ دیا گیا ہے اور یہ سنگِ میل بنے اس کے لیے معاشرے کے دانش مندوں،اساتذہ ، ادباء ، شعراء ،وکلاء اور بنیادی ، انسانی اور خواتین کے لیے کام کرنے والی تمام تنظیموں کو یک زبان ہو جانا چاہیے۔ مذہبی روشن خیال حلقے بھی اپنا موقف پیش کریں، کراچی آرٹس کونسل کے روح ِ رواںدواں سید احمد شاہ کانفرنس کریں، بلیک ہول پلیٹ فار م اس پر بات کرے ،ادی نورالھدیٰ شاہ ، کشور ناہید ،جسٹس ناصرہ اقبال،مہناز رحمن ، حنا جیلانی ،حارث خلیق اور سنجیدہ وی لاگر سید مزمل،۔۔۔خدارا! اس پر سب بولیں ،لکھیں،جو جو کرسکتاہے وہ کرے۔ اس ایکٹ کو آئین ِ پاکستا ن کے باب دوم بنیادی حقوق میں اضافے کا باب بناناہے ، اسلام آباداور سندھ کے ساتھ پنجاب ،خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں بھی اسے لاگو کروانا ہے ، اب رکنا نہیں ہے۔
(مندرجہ بالا پارہ آج لکھا ہے ، کل جہاں سے شروع کیا تھا وہ مندرجہ ذیل ہے ، قاری کو تحریر پڑھتے ہوئے جھٹکے نہ لگیں اس لیے یہ وضاحت ضروری تھی)۔
مسئلہ سنجیدگی کا متقاضی ہے ، دل یہ بھی چاہ رہا تھا کہ ہنسی میں اُڑائوںلیکن گھریلو تشدد اور لڑکیوں لڑکوں کی شادی کی عمر کا تعین اور اس پر قانون سازی کوئی ہنسی ٹھٹھے کی بات نہیں۔بڑوں کی عزت اپنی جگہ اور خبر کے شش کاف کی اندوہ ناکی اپنی جگہ:
کہاں : قومی اسمبلی ، اسلام آباد
کیا: حقوقِ نسواںایکٹ کی مخالفت میں خطاب
کون: ممبر قومی اسمبلی ، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن
میرے نزدیک چھ کاف میں سے یہ تین کاف اسی ترتیب سے اہم ہیں جیساکہ مندرجہ بالا بیان کی ہیں۔مولاناذاتی حیثیت میں کہیں بھی بیٹھ کر کچھ بھی کہیں یاکریں ،متعلقہ لوگ جانیں۔ مذہب کے نام پر بنی سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت میں کیوںکہ اثر کے دائرے میںاب عام لوگ بھی آرہے ہیں تو وہ اپنا کام کریں ،دوسرے اپنا کام کریں گے اور حکومتوںکو اپنے کرنے والے کام کرنے چاہئیںورنہ معاشرے کا توازن بگڑے گا(جو کہ نظر آرہاہے)، مولانا ممبر قومی اسمبلی کی حیثیت سے کسی رسمی مقام پر خطبہ فرمائیں گے تو کان دھرے جائیں گے،لیکن جب یہ خطاب قانون ساز اسمبلی کے مقام سے بہ حیثیت ممبر اسمبلی ہوگا ۔۔۔اور خطاب کا موضوع قومی اسمبلی سے پاس کیے گئے ، سینیٹ میں پیش کیے گئے ،صدر کی جانب سے دستخط کے بعد منظورکیے گئے گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ اور کم عمر بچوں اور بچیوں کی شادی کے قانون کے نفاذ پر دلیل سے بات کرنے کے بجائے اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی دھمکی سے ہوگا۔۔ تو ۔۔اب ۔۔ منظر نامہ بدل چکاہے اور یہ بیان پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ اور ریکارڈ پر ہے ۔
مولانا فرماتے ہیں: ”میں ” اس کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔
ہمیشہ مسائل کاسبب یہ ”میں ” ہوتی ہے۔یہ ‘میں’ خود کو اتنا کامل سمجھتی ہے کہ باقی سب باطل کے کھاتے کا رہ جاتاہے۔سماجی و معاشی ماہرین کے نزدیک پاکستان کی آبادی میں اضافہ ” دیو قامت جن” کی شکل اختیار کرچکاہے تو مولانا کی ‘میں ‘کے نزدیک یہ امت مسلمہ میں اضافہ ہے ۔پینے کا صاف پانی ، خوراک ، غذائیت میں کمی ، سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت ِ زار ،روزگار کے مسائل ، مہنگائی میں اضافہ ۔۔۔لیکن مولانا کی ‘میں ‘کے نزدیک تو مومن ہوتو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی،مولانا علامہ اقبال کوبھی غلط اس بکھیڑے میں گھسیٹ لائیں گے۔صد افسوس کے مولانا کو مسئلے کی سنگینی کا شعور ہے نہ احساس۔
مولانامجلس قانون ساز میں اس کے رکن کی حیثیت سے کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ” میں سرعام ان کی خلاف ورزی کروں گا۔ پندرہ سال، سولہ سال بلکہ دس سال کے لڑکو ں کی شادیاں کرائوں گا بلکہ اس میں خود بیٹھوں گا”۔
میرامولانا سے سوال ہے کہ آپ کے نزدیک کیا اسلام محض جسمانی بلوغت کے بعد نکاح مسنون کرانے کے لیے ہی آیا تھا؟
مولانا یہ بھی فرماتے ہیں کہ ”آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں؟۔” یہ پھر اسی ‘میں ‘ کی للکارو جھنکار ہے کہ سماجی حالات ،قانون سازی اور شریعت کاجیسا شعور و حق وہ رکھتے ہیں ویسا کوئی اور نہیں رکھتا۔
جانور کی بلوغت جسمانی سے ہی ناپی جائے گی ،لیکن انسان کی بلوغت ناپنے کا پیمانہ اگرمحض جسمانی بلوغت سے لگایا جائے گا تو ۔۔۔ انسان اور حیوان میں دو بھوکیں ہی مشترکہ جبلتیں ہیں تو کیا انسان کو بھی اسی پر پرکھیں گے؟ کیا بھیڑ بکریوں کے ریوڑ اور انسانی سماج میں کوئی فرق نہیں کریں گے؟ اقبال کو یہاں بھی یاد کرلیں کہ
بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہوسکا وہ تو کر
مولانا کو چاہیے کہ فطرت کی بے ذوقی و بد مذاقی سے نکلیں۔جنس کو درسی کتب میں موضوع بنایا جائے تووہ ان کو بے حیائی لگے ، محبت یہاں ممنوع، غیرت کے نام پر یہ پسند کی شادی کرنے والے منکوحہ جوڑوں بلکہ ان کے بچوں کو قتل کردیں،ولی کا اختیار پسند کی شادی کے بیچ یہ لاتے ہیں، باقی کیا بچتا ہے ، اس جنسی جذبے کا اظہار جو حیوان میں بھی پایا جاتا ہے ،یہ بس اس جذبے کی اسی سطح کی تسکین کے لیے نکاح کرائیں گے وہ بھی دھڑا دھڑ۔
ولی کی مرضی شامل ہوگئی ،گھروالوں کی پسند سے جہاں انہوں نے کہا شادی کرلی ، عزت بچ گئی ،خلع یا طلاق خدا کے غضب کے برابر ، ایسا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔باقی کیا بچا،جوڑا ناخوش، ذمہ داریاں بوجھ، زندگی پہاڑ؛ بچی بہت فرماں بردار ہے ،ماشاء اللہ میرے تو بیٹے بھی سعادت مند ہیں، یہ تمغے سجاتے رہیں ،کبھی کچھ اُ ن سے بھی پوچھا؟ یا سنا؟ یا سمجھا؟
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مولانا کے پر زور و پر جلال خطاب کی خبر ٢٤ ء جنوری کی ہے ۔ یہ دوسری جوشیلی خبر ٢٧ء جنوری کی ہے ۔جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ کو بھی جوش چڑھا کہ ان کو بھی کچھ نہ کچھ کہنا چاہیے ( مجھے لگتا ہے کہ اس کے پیچھے صحافیوں کی شرارت ہے ) پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”مجھے اگر غصّہ آیا تو میں بھی سولہ سالہ لڑکی سے دوسری شادی کروں گا۔”
یہ قانون پر اپنا غصہ سولہ سال کی لڑکی سے شادی کرکے نکالیں گے؟ لڑکی ان کے نزدیک انسان ہے یا بھیڑ بکری؟ یہ ایساسوچ اور کہہ بھی کیسے سکتے ہیں؟
انتظار حسین زیدی کا ایک کالم بعنوان ”تشدد کی زبان” یاد آیا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ جب سیاسی جماعتوں کے رہنما ٹیلی وژن مذاکروں میں ایسی زبان بولیں گے تو ان کے کارکن سڑکوں پر کیا کریں گے ۔ اب سے نہیں جانے کب سے سے ایسی زبان ممبران اسمبلی ایوانوں میں بولتے رہے ہیں،بعد میں نجی ٹی وی چینلوں کے ذریعے یہ گھروں میں بھی پہنچ گئی۔
یہ ان کی اخلاقیات کا اشاریہ ہے ،سماج میں ترقی کا اشاریہ وہ ایکٹ ہے جو منظور کیا گیا۔
مولانا ،ان کے حواری ،ان کے کارکن یہ جسمانی تشدد کہیں (بہ ظاہر شریعت کی سر بلندی کے نام پر) نکاح کی آڑ میں شروع نہ کردیں؟
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں