منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند
شیئر کریں
ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک
ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئلہ نہیں اور ستمبر 2027 تک دوست ممالک کے ڈالر ڈپازٹس رول اوور ہوتے رہیں گے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں بھی رول اوور کی مکمل ایشورنس شامل ہے۔ اسٹیٹ بینک ہیڈ آفس کراچی میں سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ پاکستان اب تک بیرونی قرض اور سود کی ادائیگی کی مد میں 6 ارب ڈالر ادا کرچکا ہے جبکہ رواں مالی سال کے باقی مہینوں میں 4۔5 ارب ڈالر کی ادائیگی کے لیے مکمل انتظامات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ منی چینجرز ملک کا ایک بڑا مسئلہ تھے، جس پر قابو پاتے ہوئے 140 منی ایکسچینج کمپنیوں کو بند کر دیا گیا ہے اور اب ملک میں صرف 26 ایکسچینج کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ بینکوں کو بھی واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ آئندہ دو سال کے دوران پاکستان کے معاشی اشاریے مزید بہتر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ شرح سود میں کمی سے حکومت کو مکمل مالی فائدے کا تاثر درست نہیں کیونکہ ایک طرف فائدہ ہوتا ہے تو دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے منافع میں کمی سے نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو ملائشیا کی طرز پر اسلامک بینکنگ ماڈل تجویز کیا گیا ہے اور ایسٹ پول کے قیام کے بدلے سکوک بانڈ جاری کرنے کی بھی سفارش دی گئی ہے۔ میرا گھر میرا آشیانہ اسکیم کی حد میں آئندہ بجٹ میں اضافے کا امکان ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کابینہ کے پاس موجود ہیں، منظوری کے بعد پرنٹنگ اور اسٹاک میں کچھ وقت لگے گا۔ نئے نوٹ ایسے ہوں گے کہ عام آدمی بھی آسانی سے اصلی اور نقلی میں فرق کر سکے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تین ممالک کے بڑے بینکس نے پاکستان میں اپنے بینکس کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، تاہم اس مرحلے پر ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال ترسیلات زر 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ برآمدات میں کمی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں کا نظام تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہا ہے جس سے معیشت مزید دستاویزی شکل اختیار کر رہی ہے۔


