لیاری ایکسپریس وے کی زمین پر قبضہ مافیا نے نظریں گاڑ لیں
شیئر کریں
ری سیٹلمنٹ منصوبے کی سرکاری زمین پر نامعلوم افراد کا حملہ ، واٹر بورڈ اور یو سی آفس کو توڑ دیا
ہزاروں رفاہی اور کمرشل پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور جعلی فائلیں بنا کر خرید و فروخت ہو چکی
لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ کی قیمتی زمین پر ایک بار پھر قبضہ مافیا کی نظریں گڑ گئی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی سرکاری زمین پر نامعلوم افراد کے حملہ کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق تیسر ٹاؤن میں بنائے گئے واٹر بورڈ اور یو سی آفس کو توڑ دیا گیا ہے، 2006 میں اس زمین پر لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ منصوبے کا آفس تھا اور 2008 سے واٹر بورڈ آفس اور یو سی آفس قائم تھا۔اس منصوبے کے تحت لیاری ایکسپریس وے کے 30 ہزار سے زائد متاثرین کو پلاٹ دیے جانے تھے، ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی لیاری ایکسپریس وے ریسٹلمنٹ منصوبے کی قیمتی زمین پر قبضہ ہو چکا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہاں ہزاروں رفاہی اور کمرشل پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور جعلی فائلیں بنا کر خرید و فروخت ہو چکی ہے، اور یہ معاملہ گزشتہ 8 برس سے نیب سست روی کا شکار ہے، نیب کی تحقیقات میں تاخیر سے ہزاروں شہری پریشان اور سرکاری خزانے کے کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔


