عمران خان سے ملاقات کرواکرقیاس آرائیوں کو ختم کیا جائے، محمود اچکزئی
شیئر کریں
حکومت نے خامخواہ ضد پکڑی ہوئی ہے، وزیراعظم سے میری ملاقات مشروط نہیں ہونی چاہئے،اپوزیشن لیڈر کی میڈیا سے گفتگو
بلوچستان میں جہاں سے گیس نکل کر پاکستان کو جاتی ہے وہاں کی خواتین لکڑیوں پر کھانا پکاتیہیں، قومی اسمبلی میں اظہار خیال
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیٔرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کی حوالے سے قیاس آرائیوں کو ملاقات کروا کر ختم کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت نے خامخواہ ضد پکڑی ہوئی ہے، وزیراعظم سے میری ملاقات مشروط نہیں ہونی چاہئے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات خوش آئند ہے، اس طرح معاملات بہتر ہوتے ہیں، بلوچستان کے معاملے پر سب کو مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ حکومت دو ماہر ڈاکٹروں کو جیل بھیجیں تاکہ عمران خان کا معائنہ کرسکیں۔انھوں نے مزید کہا میں وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھوں گا کہ بانی چیٔرمین پی ٹی آئی کے ذاتی ڈاکٹرزکو معائنہ کرنے دیا جائے۔ اگر ایک قیدی کو اس کے فیملی ڈاکٹرز چیک کرلیں گے تو کون سی قیامت جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اتنا بڑا حملہ ہوا اور ٹی وی پر کرکٹ کی بات ہو رہی تھی، ہمارے جاسوسی ادارے اتنے نا اہل نہیں کہ انہیں اتنی بڑی کارروائی کا علم نہ ہو، اگر انہیں علم تھا تو انہوں نے دہشتگردوں کو روکا کیوں نہیں؟ سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ اتنا بڑا واقع ہوا، کسی نے استعفیٰ نہیں دیا جو جو ذمہ دار ہیں انہیں استعفیٰ دینا چاہئے۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچوں کو یقین دہانی کرائی جائے کہ صوبے کے وسائل پر آپ ہی کا حق ہے، پاکستان ایک بہترین گلدستہ بن جائے گا۔بلوچستان کی تازہ صورت حال پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال میں محمود خان اچکزئی نے شکوہ کیا کہ جناب اسپیکر میں آپ کے پاس نہیں آسکا آپ بھی نہیں آئے، ہمارے درمیان یہ فاصلے کم ہونے چاہئیں۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان ہمارے پورے ملک کے لیے ایک بلائنڈ اسپاٹ بن چکا ہے جس کی تاریخ کافی پرانی ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ گندمک معاہدے کے تحت خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقے افغانستان سے کاٹے گئے تھے، 1970 میں بلوچستان میں بلوچوں اور پشتونوں کو اکٹھا کیا گیا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان میں آپ کسی سردار کی مرضی کے خلاف اس کے علاقے میں جلسہ تک نہیں کرسکتے آپ نے ان راجواڑوں کو ہمارے ساتھ شامل کیا۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ گیس بلوچستان کے علاقے سوئی سے نکلتی ہے اور پورے پاکستان تک پہنچ گئی لیکن وہاں کی عورتیں اب بھی لکڑی جلا کر روٹیاں پکاتی ہیں، ان حالات میں کون آپ کو چھوڑے گا؟ میں دہشت گردی کی سپورٹ نہیں کرتا لیکن ان حالات میں بلوچ کیا کرے گا۔محمود خان اچکزئی نے اسپیکر اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس ایوان کو مضبوط کریں تو کوئی پاگل نہیں جو جنگ کرنے اور لڑنے مرنے پر آمادہ ہو۔محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ صرف پاکستان زندہ باد کے نعروں سے پاکستان نہیں بنے گا۔ پشتون بلوچستان کا پچاس فیصد ہیں، بلوچوں کو یقین دہانی کرائی جائے کہ صوبے کے وسائل پر آپ ہی کا حق ہے۔ پاکستان ایک بہترین گلدستہ بن جائے گا، ان باتوں پر ہمارے جھگڑے ہوچکے ہیں خان آف قلات کو ان باتوں کا اندازہ تھا۔اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ کل جو مسلح افراد آئے تھے وہ مرنے کے لیے آئے تھے انھیں اپنی موت کا پورا یقین تھا پھر بھی آئے تھے۔محمود خان اچکزئی نے سوال اُٹھایا کہ کیسے مسلح لوگ 15 ضلعوں میں آزادانہ دندناتے رہے دو گھنٹوں تک کچھ بھی نہیں ہوا۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کیوں پتہ نہیں چلا کہ کیا ہوا۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی شریف آدمی ہوتا تو حکومت چھوڑ دیتا اگر قصدا یہ سب کچھ ہوا تو بہت بڑی زیادتی ہوئی۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بلوچستان میں اتنا بڑا سانحہ ہوا، قیمتی جانیں گئیں لیکن کسی ٹی وی نے کل گانے بند نہیں کیے۔انھوں نے کہا کہ آج دہشت گردی سے ہم تنگ ہیں کیا اس دہشت گردی کو ہم امریکا کے ساتھ مل کر نہیں لائے؟ کیا ہم نے طالبان کو تربیت نہیں دی؟محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کیا جنرل ضیا الحق نے افغانستان میں لڑنے والوں کو حریت پسند نہیں کہا تھا۔ کیا کلاشنکوف کلچر افغان جہاد کے بعد نہیں آیا۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کیا ہماری ریاست نے عسکریت پسندوں کو چھاؤنیوں میں گھسنے مرنے مارنے کی تربیت نہیں دی۔


