میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گل پلازہ میں اتشزدگی ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے، تاجر برادری

گل پلازہ میں اتشزدگی ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے، تاجر برادری

ویب ڈیسک
منگل, ۲۰ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

عمارت 1980 میں تعمیر کی گئی تھی اس کے بعد 1998 میں عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی
شاپ ایسوسی ایشن کا صدر تنویر پاستہ ہر ماہ دکانداروں سے ساڑھے 5 ہزار مینٹیننس کے نام پر لیتا تھا

(کرائم رپورٹر اسد رضا) گل پلازہ شاپ ایسوسی ایشن کے صدر اور عہدے داران مارکیٹ میں اگ بجھانے والے الات کہ انتظامات کرتے تو کافی حد تک جانی نقصان سے بچا جا سکتا تھا ۔تفصیلات کے مطابق گل پلازہ سانحہ ایک قومی سانحہ ہے اب تک 25 سے زائد لاشیں عمارت سے نکال لی گئی ہیں جس میں 15 سے زائد لاشیں مکمل باقی جسمانی اعضاء ہیں متعدد زخمی مختلف ہسپتالوں میں پہنچائے گئے جبکہ ابھی تک 50 سے زائد افراد لاپتا ہیں انسانی جانوں کا ضیاع اربوں روپے کا نقصان دکانیں جل کر خاکستر ہو گئی کون ذمہ دار؟ جس وقت گل پلازہ میں اگ لگی خریداری میں مصروف بڑی تعداد میں خواتین اور مرد حضرات پلازہ میں موجود تھے اگ بجھانے کے بروقت نظام نہ ہونے سے بڑی تعداد میں جانی اور مالی نقصان ہوا گل پلازہ انتظامیہ اور حکمران ایک دوسرے پر ملبہ ڈالتے رہے 1200 دکان جل کر راکھ ہو گئی تاجروں کا اربوں روپے سے زائد نقصان ہوا قانون نافذ کرنے والے ادارے گل پلازہ ایسوسییشن کے صدر تنویر پاستہ سے پوچھیں کہ اس نے پلازہ کے اندر اگ بجھانے والے الات کا انتظام کیوں نہیں کیا ہر دکان سے ساڑھے پانچ ہزار روپے مینٹیننس کے نام پر وصول کرتا تھا، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق گل پلازہ کی عمارت 1980 میں تعمیر کی گئی تھی جبکہ 1998 میں عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی پارکنگ ایریا میں دکانیں بنی اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا نقشے کے مطابق پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اور اسی کے ساتھ ایک ہزار 21 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی نقشے کے برخلاف گل پلازہ میں 1200 دکانیں تعمیر کی گئیں پلازہ میں 180 دکانیں منظور شدہ نقصے سے زائد تعمیر ہوئی پلازہ میں راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائی گئیں پلازہ کے اندر فائر سیفٹی کا کوئی نظام موجود نہیں تھا، کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیلر ایسوسییشن کہ صدر منہاج گلفام کا کہنا تھا گل پلازہ سانحہ میں جو بھی ملوث ہوا جس کی بھی کوتاہی یا غفلت سے یہ واقعہ پیش ایا ہے اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے اس سانحہ پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں