سندھ بلڈنگ ،لیاقت آباد میں خلاف ضابطہ کمرشل تعمیرات جاری، حکام خاموش
شیئر کریں
پلاٹ نمبر 518اور 546پر رہائشی علاقے میں تجارتی تعمیرات ، بنیادی سہولیات متاثر
ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی پر دفتری ریکارڈ میں گڑبڑ کے سنگین الزامات،رہائشی ناراض
ضلع وسطی کے گنجان آباد علاقے لیاقت آباد کے رہائشی علاقوں میں تنگ گلیوں کے درمیان رہائشی پلاٹوں پر خلاف ضابطہ کمرشل پورشن اور تجارتی یونٹس کی تعمیر نے عوامی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی ملی بھگت سے یہ غیرقانونی تعمیرات دن کے اجالوں میں کھڑی کی جا رہی ہیں۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، لیاقت آباد نمبر 4 میں پلاٹ نمبر 518 اور 546 پر بلا اجازت تجارتی تعمیرات کا سلسلہ بلا روک ٹوک تیزی سے جاری ہے ۔یہ دونوں پلاٹ رہائشی زون میں واقع ہیں جہاں اس قسم کی تعمیرات کی قطعی ممانعت ہے ۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان غیر قانونی تعمیرات نے گلیوں کی گزرگاہ سمیٹ دی ہے اور بنیادی سہولیات کو شدید متاثر کیا ہے ۔علاقہ مکینوں نے ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی پر دفتری ریکارڈ میں گڑبڑ کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ان غیرقانونی تعمیرات کو جاری رکھنے کے لیے نہ صرف آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر دفتری ریکارڈ میں ہیرا پھیری کی راہ ہموار کرتے ہیں۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان تعمیرات کی وجہ سے ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے رسائی ناممکن ہو چکی ہے ۔ شہری حقوق کے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر بلدیات فوری طور پر سخت کارروائی کرتے ہوئے عمران رضوی سمیت تمام ملوث افسران کے خلاف انکوائری کریں اور تمام غیرقانونی تعمیرات کو بلا تاخیر منہدم کروائیں ۔


