ایرانی انقلاب کے حق میں تہران کے انقلاب اسکوائر پر بڑی ریلی
شیئر کریں
ایران کا امریکا اور صیہونی حکومت کیخلاف مزاحمت میں شہید ہونیوالوں کی یاد میں 3روزہ سوگ کا اعلان
برطانوی سفیر کی ایران کی وزارت خارجہ میں طلبی،ایران کا پرچم اتارنے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کیا گیا
ایران نے امریکا اور صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت میں شہید ہونے والوں کی یاد میں 3روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ ایران میں بگڑتی ہوئی داخلی صورتحال کے خلاف دنیا بھر میں ایرانی باشندوں کا احتجاج شروع ہوگیا،لاس اینجلس میں مظاہرے کے دوران ٹرک کی ٹکر سے متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے ۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی انقلاب کے حق میں تہران کے انقلاب اسکوائر پر بڑی ریلی نکالی گئی ۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری بدامنی کے دوران ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کا الزام ایران نے امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ ایرانی میڈیا سے گفتگو میں صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھاکہ امریکا اور اسرائیل ایران میں افراتفری اور بیامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل اپنے مذموم مقاصد کیلئے ایران میں فسادات کرا رہے ہیں، ایرانی عوام فسادیوں اوردہشت گردوں سیخود کو دور رکھیں۔ایرانی صدر کا کہنا تھاکہ عوام فسادیوں کو انتشار پھیلانیکی اجازت نہ دیں، ایرانی عوام کو یقین رکھنا چاہیے کہ ہم انصاف قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ایران میں 14 روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہے اور ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں 192 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ امریکی انسانی حقوق تنظیم ایچ آر اے این اے کا دعوی ہے کہ ایران میں 2 ہفتے سے جاری مظاہروں میں 500 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر لندن میں ایرانی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی ریلی اور اسلامی جمہوریہ کا جھنڈا اتارے جانے کے بعد تہران میں برطانوی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا ۔ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ملک کے سفارتی مقامات کے تحفظ میں ناکام رہی ہے اور مظاہروں کے بارے میں مداخلت پسند بیانات دے رہی ہے۔خیال رہے ہفتے کے روز، مغربی لندن میں ایرانی سفارت خانے کی عمارت کے سامنے ایک ریلی کے بعد، ایک مظاہرین نے سفارت خانے کی بالکونی پر چڑھ کر اسلامی جمہوریہ کے جھنڈے کو نیچے اتارا، اور اس کی جگہ شیر اور سورج کے نشان کے ساتھ جھنڈا لگا دیا۔لندن پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور اب وہ تجاوزات کے الزام میں ایک اور شخص کی تلاش کر رہی ہے۔ایک اور ریلی میں، مغربی لندن کے کنسنگٹن میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت کے سامنے مظاہرین کے ایک گروپ نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے لگائے اور اس پر اشیا پھینکیں۔ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی سیکرٹری خارجہ کے ریمارکس کی بھی مذمت کی۔برطانوی وزیر خارجہ نے پہلے ایران میں مظاہرین کی ہمت کی تعریف کی تھی اور لکھا تھا کہ جو لوگ ایران کے رہنماں پر تنقید کرتے ہیں ان کے ساتھ تشدد، دھمکی یا انتقامی سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں بھی ایرانی کمیونٹی سڑکوں پر نکل آئی، جہاں یونانی پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے تہران میں نوجوانوں پر فائرنگ کے واقعات کی شدید مذمت کی۔


