سندھ بلڈنگ،پی آئی بی کالونی قانون شکنی اور تعمیراتی بدعنوانی کا کھلا میدان
شیئر کریں
اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ کھلم کھلا تعمیراتی مافیا کا آلہ کار، ڈھٹائی کی انتہا!
پلاٹ J-51اور J-10پر غیرقانونی تعمیرات جاری،شہری حقوق پر کھلا ڈاکہ
ضلع شرقی میں قائم پی آئی بی کالونی آج کل قانون شکنی اور بدعنوانی کا کھلا میدان بنی ہوئی ہے ،جہاں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی آصف شیخ نام کا ایک سرکاری افسر اپنے عہدے کی آڑ میں کھلی ڈاکہ زنی کر رہا ہے ۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں، بلکہ ہر آنکھوں دیکھا واقعہ ہے کہ یہ افسر اور تعمیراتی مافیا ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر شہریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا کراچی میں کوئی قانون نہیں؟ کیا کوئی باز پرس کرنے والا نہیں؟پلاٹ نمبر J-51 اور J-10 پر کھڑی عمارتیں نہ تو کسی نقشے کی محتاج ہیں، نہ کسی اجازت نامے کی، بلکہ صرف اور صرف ایک سرکاری افسر کی سرپرستی میں کھڑی ہو رہی ہیں۔یہ صرف عمارتیں نہیں، بلکہ قانون کی توہین کے کھلم کھلا نشان ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کہاں ہیں وہ اعلیٰ افسران جو اس بے ہودہ کھیل کو روکنے کے بجائے تماشہ دیکھ رہے ہیں؟کیا اس شہر میں انصاف کا کوئی ادارہ بچا ہے ؟ آصف شیخ جیسے لوگ نہ صرف اپنے عہدے کی عزت کو پاؤں تلے روند رہے ہیں، بلکہ پورے نظام کو کھلا چیلنج دے رہے ہیں۔رہائشیوں کا خون پسینہ یکجا کر کے بنائی گئی کالونی کو مافیا اور ان کے سرپرستوں نے اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے ۔یہ صرف تعمیراتی جرم نہیں، بلکہ منظم بدعنوانی کا ایک کھلا ثبوت ہے جسے ہر آنکھ دیکھ رہی ہے ، مگر ہر زبانیں خاموش ہیں۔آخر کب تک؟ کب تک عوام کو یہ ڈراما برداشت کرنا پڑے گا؟ کب تک سرکاری ملازم جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے رہیں گے ؟ وقت آ گیا ہے کہ نہ صرف ان غیرقانونی تعمیرات کو مسمار کیا جائے ، بلکہ آصف شیخ سمیت تمام ملوث افراد کے خلاف فوری محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔


