میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آئی ایم ایف نے تجارتی پالیسیوں اور کسٹمزاسٹرکچر پر سوالات اٹھا دیے

آئی ایم ایف نے تجارتی پالیسیوں اور کسٹمزاسٹرکچر پر سوالات اٹھا دیے

ویب ڈیسک
منگل, ۱۶ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

پاکستان کے بلند ترین ٹیرف کو در آمدی شعبے کے لیے خطرہ قرار دے دیا،برآمد متاثر ہونے کی بڑی وجہ قرار، وسائل کا غلط استعمال ہوا،ٹیرف 10.7 سے کم ہو کر 5.3 یا 6.7 فیصد تک آنے کی توقع
پانچ سالہ ٹیرف پالیسی کے تحت کسٹمز ڈیوٹیز کی شرح بتدریج کم کی جائے گی، جس کے بعد کسٹمز ڈیوٹی سلیبز 5 سے کم ہو کر 4 رہ جائیں گی، بین الاقوامی مالیاتی ادارے کو پاکستان کی یقین دہانی

آئی ایم ایف نے پاکستانی تجارتی پالیسیوں اور کسٹمزسٹرکچر پر سوالات اٹھا دیٔے، اور واضح کیا کہ ٹیرف کا موجودہ نظام چند سیکٹرزاوربڑِی فرمز کو فائدہ پہنچا رہا ہے، جبکہ پاکستان کی تجارتی پالیسیاں بھاری اور پیچیدہ ٹیرف سٹرکچر سے مقامی مصنوعات کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں کسٹمز ڈیوٹیز میں بتدریج کمی کے منفی اثرات سامنے آئے، بعد ازاں ریگولیٹری ڈیوٹیز کے بے تحاشا اضافے سے پالیسی بے اثر ہوگئی، 2025 کے مالی سال میں پاکستان کے مجموعی ٹیرف خطے کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ رہے، اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی برآمدات میں کمی آئی، وسائل کا بھی غلط استعمال ہوا۔آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق آٹوسیکٹر، زراعت اور فوڈ سیکٹرپرسب سے زیادہ درآمدی ٹیرف عائد ہے، آٹو سیکٹر پر150 فیصد سے بھی زیادہ درآمدی ٹیرف عائد ہے، اس بلند ترین ٹیرف کی وجہ سے پاکستان کی برآمدی کارکردگی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستانی تجارتی پالیسیوں اور کسٹمزسٹرکچر پر سوالات اٹھا دیٔے، جس پر پاکستان کی جانب سے نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 میں اصلاحاتی عمل کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے، اور بتایا گیا کہ پالیسی کے تحت ٹیرف میں بڑے پیمانے پر اصلاحاتی عمل کا پلان شامل ہے۔پاکستان کی جانب سے کی جانیوالی یقین دہانی میں بتایا گیا ہے کہ پانچ سالہ ٹیرف پالیسی کے تحت کسٹمز ڈیوٹیز کی شرح بتدریج کم کی جائَے گی، جس کے بعد کسٹمز ڈیوٹی سلیبز 5 سے کم ہو کر 4 رہ جائیں گی، کسٹمز ڈیوٹی سلیبز میں زیادہ سے زیادہ شرح 15 فیصد تک محدود رہے گی۔آئی ایم ایف کو کرائی جانیوالی یقین دہانی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز مرحلہ وار ختم، جبکہ پانچویں شیڈول کے تحت خصوصی ڈیوٹیز بھی مالی سال 2030 تک ختم کرنے کا پلان مدنظر رکھا گیا ہے، اس سلسلے میں نیشنل ٹیرف پالیسی کے مکمل نفاذ سے اوسطاً ٹیرف تقریباً آدھا رہ جانے کا امکان ہے۔حکومتی پلان جو کہ آئی ایم ایف سے شیٔر کیا گیا ہے اس کے مطابق اوسطاً ٹیرف 10.7 فیصد سے کم ہو کر 5.3 تا 6.7 فیصد تک آنے کی توقع ہے، ٹیرف پالیسی کے تحت آٹو سیکٹر میں سب سے زیادہ ٹیرف میں کمی کا امکان بھی ہے، اور دوسری طرف نیشنل ٹیرف پالیسی پر عملدرآمد سے سرمایہ جاتی اشیا پر بھی نمایاں ٹیرف کمی متوقع ہے۔حکومت کی جانب سے جاری ہونے والی دستاویزت میں بتایا گیا ہے کہ ٹیرف اصلاحات سے طویل مدت میں تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی نمو کو فروغ ملے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں