تبا ہ کن سیلابی ریلہ سندھ کی جانب بڑھنے لگا،مکینوں کو گھر خالی کرنے کا حکم
شیئر کریں
کوٹری بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال ،5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب یہ سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہوگا، سکھر ڈویژن میں 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوں گے،این ڈی ایم اے
8 سے 10 لاکھ کیوسک کا ریلا آیا تو کچے کے علاقے زیر آب آجائیں گے، اعلانات کے باوجود لوگ گھروں کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں،لائیو اسٹاک کو تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا، مراد علی شاہ نے خبردار کر دیا
کوٹڑی بیراج پر سیلابی صورتحال کے باعث دریائے سندھ کے قریب مکینوں کو گھر خالی کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، ضلعی انتظامیہ نے قریب کے مکینوں کو گھروں سے فوری خالی کرنے کی ہدایت کردی۔انتظامیہ کی جانب سے ملاح گوٹھ، شہمیر شورو گوٹھ، ڈیتھا گوٹھ، سحرش نگر اور حسین آباد کے علاوہ لطیف آباد نمبر 4 اور نمبر 10 میں بھی اعلانات کیے گئے ہیں۔مکینوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مال مویشیوں سمیت محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں کیونکہ کسی وقت بھی نقصان کا خطرہ موجود ہے۔خیال رہے پنجاب میں تباہی پھیلانے والا سیلاب اب سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 60 ہزار کیوسک، سکھر بیراج پر 2 لاکھ 80 ہزار کیوسک جبکہ کوٹری بیراج پر 2 لاکھ 73 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔دو روز بعد پنجاب سے آنے والا سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہوگا۔ سندھ حکومت نے سپر فلڈ کی تیاری شروع کر دی ہے۔میٔر سکھر ارسلان شیخ کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح میں اضافے سے سکھر ڈویژن میں 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوں گے، جن کے لیے 155 ریلیف کیمپس قائم کیے جارہے ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب یہ سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر 8 سے 10 لاکھ کیوسک کا ریلا آیا تو کچے کے علاقے زیر آب آجائیں گے۔ کچے میں رہنے والے افراد کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم انتظامیہ کے مسلسل اعلانات کے باوجود بیشتر لوگ گھروں کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کے ساتھ لائیو اسٹاک کو بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔


