کراچی ، دوا ساز کمپنیوں نے آپس میں مل کر ادویات کی قیمتیں بڑھا لیں
شیئر کریں
روز مرہ استعمال اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں من مانا ہوشربا اضافہ، مریضوں کی پہنچ سے دور ہونے لگیں
شوگر کیلئے استعمال ہونیوالی دوا سیٹامیٹ کا پیکٹ 650 روپے میں فروخت، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی شدیدمذمت
(رپورٹ :صفدر بٹ ) مہنگائی کے مارے شہریوں کی پہنچ سے ادویات بھی دور ہونے لگیں۔روز مرہ استعمال اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہونے سے مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ۔تفصیلات کے مطابق ادویات بنانے والی کمپنیز من مانی قیمتوں کا تعین کرنے لگی ، ہر ماہ ادویات کی قیمتوں اضافے کا انکشاف ہوا ہے _ ذرائع کے مطابق نیوروبیان انجیکشن کی قیمت 1100 روپے سے بڑھا کر 1400 روپے کر دی گئی ہے اسی طرح پیٹ کے امراض میں استعمال کی دوا فلیجل ٹیبلٹ کے پیکٹ کی قیمت 803 سے سے بڑھاکر 923 روپے کر دی گئی خون کی کمی کے مریضوں کیلئے استعمال ہونیوالے کیپسول سینگوبیان کی قیمت 230 سے بڑھاکر 300 روپے کر دی گئی _ اسی طرح پونسٹان فورٹ کا پیکٹ 865 سے 1095 اور پونسٹان سادہ 1800 سے بڑھاکر 2108 روپے کر دی گئی ہے _ خون پتلا کرنے کی دوااسکارڈ پلس کی قیمت 156 سے 256 روپے کر دی گئی ہے _ ڈیکلوران ٹیبلٹ 170 روپے سے 365 روپے کر دی گئی ہے ۔شوگر کے مرض کیلئے استعمال ہونیوالی دوا سیٹامیٹ کا پیکٹ 470 سے 650 روپے کر دیا گیا ہے ۔ اسی طرح معدے میں جلن کے مرض میں استعمال کا میو کین سیرپ 156 سے بڑھا کر 173 روپے کر دیا گیا ہے _ پینا ڈول ٹیبلٹ کا پیکٹ 600 روپے سے بڑھاکر 843 روپے کا کر دیا گیا ہے _ ادویات کی قیمتوں میں بیتحاشہ اضافے پر ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے شدید مذمت کی ہے۔ ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیشن کرنے کے بعد، ادویہ ساز کمپنیاں مبینہ طور پر اپنی صوابدید پر قیمتیں مقرر کر رہی ہیں، جس سے ماہانہ اضافہ ہو رہا ہے جس کا عوام پر ناقابل برداشت بوجھ پڑ رہا ہے۔ پی ایم اے کو متعدد عام ادویات کی قیمتوں میں حیران کن اضافے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور بعض ادویات کی قیمتیں اصل قیمت سے تقریباً دگنی ہوگئی ہیں۔ یہ ادویات زندگی کی ضرورت ہیں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو ان کی ضروری ادویات کی قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔ موجودہ حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو بلا تفریق قابل رسائی اور سستی صحت کی سہولیات فراہم کرے۔ پاکستان کے شہری بالخصوص متوسط اور غریب طبقے پہلے ہی شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ قیمتوں میں یہ بلاجواز اضافہ ان لوگوں پر ایک اور کرشنگ بوجھ کے طور پر کام کرے گا جو پہلے سے ہی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔پی ایم اے حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فی الفور مداخلت کرے اور قیمتوں میں اضافے کو واپس لے۔ ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک شفاف اور منصفانہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار دوبارہ قائم کرے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ زندگی بچانے والی ادویات ہر پاکستانی کی پہنچ میں رہیں۔


