میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں بلند عمارتوں کا جنگل

لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں بلند عمارتوں کا جنگل

ویب ڈیسک
هفته, ۲۳ اگست ۲۰۲۵

شیئر کریں

شہری مسائل بڑھ گئے ،ذمہ دار ادارے حسبِ روایت خاموش ہو گئے
سی ون ایریا پلاٹ 2/15 رہائشی پلاٹ پر کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر

لیاقت آباد کی تنگ و تاریک گلیوں میں بلند عمارتوں کی یلغار نے شہریوں کی زندگی عذاب بنا دی ہے جہاں پہلے رکشہ مشکل سے گزرتا تھا ،اب وہاں آسمان کو چھوتی عمارتیں اُگ آئی ہیں جیسے زمین کی زرخیزی ختم ہو گئی ہو اور صرف سیمنٹ اور سریے کے درخت باقی رہ گئے ہوں۔رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سورج کی روشنی اب کھڑکیوں کے بجائے صرف بجلی کے بلوں میں ملتی ہے اور ہوا کا گزر ایسے بند ہو گیا ہے جیسے گلیوں پر تالے لگا دیے گئے ہوں۔ ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس یا فائر بریگیڈ کا پہنچنا ناممکن ہے مگر بلڈنگ مافیا کا پہنچنا دن رات ممکن ہے۔ اہلِ علاقہ طنز کرتے ہیں کہ شاید یہ عمارتیں رہائش کے لیے نہیں بلکہ پنجرے بنانے کے منصوبے ہیں جہاں انسان بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس دیے جائیں گے۔ دوسری طرف ذمہ دار ادارے حسبِ روایت خاموش ہیں جیسے لیاقت آباد کے عوام نہیں بلکہ ان کے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہو۔ سی ون ایریا کے رہائشی پلاٹ 2/15 پر کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ وسطی میں جاری غیر قانونی دھندوں پر موقف لینے کے لئے جرأت سروے ٹیم کی جانب سے ڈائریکٹر سید ضیاء سے رابطے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں