
عالمی معاشی جنگ کا آغاز!
شیئر کریں
جاوید محمود
اچانک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ کا ہدف واضح ہو گیا ہے۔ دنیا میں سب کے خلاف محاذ کھولنے کے بجائے اب یہ جنگ امریکہ اور چین کے درمیان ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ درجنوں ممالک پر چند دن قبل لگائے جانے والے اضافی ٹیرف کو 90دن کے لیے روک دیا گیا ۔اگرچہ سب ہی ممالک کو 10 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا لیکن آئی فون سے لے کر بچوں کے کھلونے بنانے والے ملک یعنی چین جو مجموعی امریکی درآمدات کا 14 فیصد سامان مہیا کرتا ہے کہ ساتھ سخت برتاؤ کے تحت 125فیصد ٹیرف کے لیے چنا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ چین کی جانب سے امریکی سامان پر جوابی کاروائی کرتے ہوئے 84فیصد ٹیرف لگانے کی وجہ سے کیا گیا ۔ چین کے اقدام پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ عزت نہ دکھانے جیسا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی کمپنی کے لیے امریکہ میں منتقل کرنے کا بہترین وقت ہے ۔انہوں نے مزید لکھا کہ زیرو ٹیرف اور تقریبا ًفوری طور پر بجلی یا توانائی کے کنکشنز اور منظوری جہاں نہ ماحولیات کے باعث تاخیر نہ انتظار،دیر نہ کریں۔ لیکن ٹرمپ کے لیے یہ معاملہ صرف عزت یا سادہ جوابی کارروائی کا نہیں، یہ وہ ادھورا کام ہے جو وہ اپنی پہلی صدارتی مدت میں نہیں کر پائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس درست کام کرنے کے لیے وقت نہیں تھا اور اب ہم یہ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا مقصد عالمی تجارت کے اس طے شدہ نظام کو ختم کرنا ہے جس میں چین کو دنیا کی فیکٹری کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ساتھ ہی ساتھ ٹرمپ اس تصور کو بھی چیلنج کر رہے ہیں جس کے تحت یہ مانا جاتا ہے کہ زیادہ تجارت ایک اچھی چیز ہے ۔ٹرمپ کی سوچ اس حوالے سے کیا ہے یہ سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی میں اس وقت میں جانا ہوگا جب کسی نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ امریکی صدر بنیں گے۔
2012 میں دنیا میں ہر کوئی چین سے تجارت کرنے کا خواہشمند تھا تجارتی رہنما چینی حکام سربراہان مملکت اور تجارتی وفود سمیت غیر ملکی نامہ نگاروں اور ماہرین معیشت سب کا ہی اس بات پر اتفاق تھا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ عالمی معیشت چین کی وجہ سے ترقی پا رہی تھی۔ سستا سامان میسر ہو رہا تھا۔ عالمی رسد مسلسل بڑھ رہی تھی جس سے ایک جانب چین میں فیکٹری ملازمین کی فوج تیار ہو رہی تھی اور دوسری جانب ملٹی نیشنل کمپنیوں کو نئے صارفین کی شکل میں بیش قیمت مواقع مل رہے تھے۔ چند ہی سال کے اندر چین امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں رولز رائس جنرل موٹرز اور واکس ویگن کی سب سے بڑی منڈی بن چکا تھا اور اس سب کے پیچھے ایک سوچ یہ بھی تھی کہ جیسے جیسے چین میں لوگوں کے پاس زیادہ پیسہ آئے گا وہ سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کریں گے اور ان کی نئی سوچ چینی معاشرے کو بھی بدل دے گی تاہم ایسا نہیں ہو سکا اور چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اقتدار پر اپنی گرفت کو اور مضبوط کر لیا۔
2015 میں میڈ ان چائنا 2025 پالیسی شائع ہوئی جس میں اہم مصنوعات کے شعبوں میں بشمول الیکٹرک گاڑیوں کے ریاست کی مدد سے عالمی رہنما بننے کا خواب ظاہر کیا گیا تھا۔ ایک سال بعد دنیا کے لیے ایک غیر معروف امریکی سیاسی شخصیت نے صدر کے عہدے پر نظر جمائی اور ساتھ ہی یہ تصور پیش کیا کہ چین کے عروج نے امریکی معیشت کو کھوکھلا کر دیا ہے اور مقامی ملازمین نوکریاں اور عزت نفس کھو رہے ہیں۔ ٹرمپ صدر بنے تو تجارتی جنگ کے پہلے دور کا آغاز ہوا اور چین کی معیشت پر عالمی اتفاق رائے ٹوٹ گیا۔ ان کے بعد آنے والے صدر جو بائیڈن نے چین پر ٹرمپ کے عائد کردہ زیادہ تر ٹیرف کو ختم نہیں کیا۔ اس کے باوجود اگرچہ چین کو بہت تکلیف پہنچی معیشت کے ماڈل کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ چین دنیا بھر میں 60فیصد الیکٹرک گاڑیاں تیار کر رہا ہے اور ان کی اکثریت مقامی کمپنیاں خود بنا رہی ہیں جبکہ 80فیصد بیٹریاں بھی چین میں ہی بنتی ہیں ۔اب ٹرمپ واپس آ چکے ہیں اور جنگ کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے ۔شاید یہ عالمی تجارتی نظام کو پہنچنے والا سب سے بڑا دھچکا ہوتا ۔اگر ٹرمپ نے چند دن قبل بہت سے ممالک پر لگائے جانے والے ٹیرف کا فیصلہ واپس نہ لیا ہوتا لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اب کیا ہوگا ۔اس کا دارومدار بھی دو سوالوں پر ہے۔ پہلا یہ کہ کیا چین امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو قبول کرے گا اور دوسرا یہ کہ اگرچین ایسا کرتا ہے تو کیا وہ ایسی رعایت دینے کو تیار ہوگا جو امریکہ چاہتا ہے ۔ان میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ چین برآمدات کے معاشی ماڈل کو تبدیل کرے۔ اس سوال کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت ہم ایسی جگہ موجود ہیں جہاں شاید بہت کم لوگ ہی اس سے پہلے موجود ہوں اور کوئی نہیں جانتا کہ چین کا رد عمل کیا ہوگا تاہم بہت سی وجوہات ہیں جو ہمیں محتاج رہنے پر مجبور کرتی ہیں چین کی معاشی مضبوطی کا دارومدار برآمدات سمیت مقامی منڈی پر ہے اور یہ دونوں ملک کے سیاسی نظام کی بقا کے ساتھ ساتھ ملکی سالمیت سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ اطلاعات پر کنٹرول برقرار رکھنے کی خواہش کی وجہ سے یہ مشکل ہے کہ چین امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے دروازہ کھولے لیکن ایک تیسرا سوال یہ بھی ہے اور اس کا جواب امریکہ کو دینا ہوگا ،وہ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اب بھی ایک آزادانہ تجارتی نظام یعنی فری ٹریڈ پر یقین رکھتا ہے۔ ٹرمپ اکثر کہتے ہیں کہ ٹیرف اچھے ہوتے ہیں وہ مقامی طور پر سرمایہ کاری کو فروغ دیتے اور امریکی کمپنیوں کو ملک میں کام کرنے کی ترویج دیتے ہیں تاکہ ٹیکس میں اضافہ ہو سکے اور اگر چین کو یہ لگا کہ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف لگانے کا اصل ہدف وہی ہے تو پھر شاید ان کے پاس مذاکرات کی کوئی وجہ نہ ہو،ایسے میں دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتیں شراکت داری کے بجائے ایک ایسی جنگ میں داخل ہو جائیں گی جس میں فتحیاب ہونے والا عالمی معیشت کی سب سے بڑی طاقت بن جائے گا اور اگر ایسا ہی ہوا تو یقینا ایک بہت مختلف اور ممکنہ طور پر خطرناک مستقبل ہمارے سامنے ا سکتا ہے۔ چین کے حالیہ اعلان کے مطابق امریکہ سے آنے والی تمام اشیاء پر 34فیصد سے بڑا کر 84فیصد ٹیرف کا اطلاق کیا گیا ہے ،یقینا یہ ہر اس امریکی کمپنی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو اس وسیع منڈی میں سامان فروخت کرنا چاہتے ہیں اور بلا شبہ یہ خبر منڈیوں میں مزید ہلچل پیدا کرے گی اور خاص طور پر امریکہ میں ممکن ہے کہ بیجنگ کی جانب سے مزید اقدامات بھی سامنے آئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکومت پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں ہے ۔بیجنگ پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی اشیاء پر امریکی ٹیرف کو 104 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا تو چین سخت جوابی اقدامات کرے گا اور اب ہم اس رد عمل کی شروعات دیکھ رہے ہیں ۔چین میں ریاستی میڈیا کو سوشل میڈیا پر ان ممالک میں مذاق اڑا کے دیکھا جا رہا ہے جو واشنگٹن سے ٹیرف ختم کرنے کی التجا کر رہے ہیں ۔ان کا دعویٰ ہے کہ یہ سب ٹرمپ کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ کثیر الجہتی تجارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جہاں قوانین سب پر یکساں لاگو ہوتے ہوں۔ اس موقف پر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک مثلا تھائی لینڈ کمبوڈیا اور ویتنام کی حمایت مل سکتی ہے جنہیں امریکی ٹیرف کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹیرف کے لگنے سے عالمی منڈی میں بے چینی پائی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف چین کے رد عمل کے بعد عالمی معاشی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔