میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جعفر ایکسپریس حملہ، کلیئرنس آپریشن میں ہلاک دہشت گردوں کی تصاویر منظر عام پر

جعفر ایکسپریس حملہ، کلیئرنس آپریشن میں ہلاک دہشت گردوں کی تصاویر منظر عام پر

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۴ مارچ ۲۰۲۵

شیئر کریں

 

12؍مارچ کو دوران کلیئرینس ہلاک ہونے والے دہشت گرد غیر ملکی اسلحہ سے لیس تھے
دہشت گرد دوران آپریشن افغانستان اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں تھے، ذرائع

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں کامیاب ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے جعفر ایکسپریس کو یرغمال بنانے والے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جب کہ کلیئرنس آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تصاویر منظر عام پر آگئیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس حوالے سے بتایا تھا کہ دہشت گردوں نے 11مارچ کو تقریباً ایک بجے کے قریب بولان کے علاقے اوسی پور میں ریلوے ٹریک دھماکے سے اڑا دیا اور جعفر ایکسپریس کو روکا، ریلوے حکام کے مطابق اس ٹرین میں 440افراد سوار تھے ۔انہوں نے بتایا کہ یہ علاقہ آبادی سے دور دشوار گزار ہے ، دہشت گردوں نے پہلے یرغمالیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ بازیابی کا آپریشن فوری طور پر شروع کردیا گیا، جس میں آرمی، ایئرفورس، فرنٹیئر کور اور آج ایس ایس جی کے جوانوں نے حصہ لیا اور یرغمالیوں کو مرحلہ وار رہا کروالیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ یہ دہشت گرد دوران آپریشن افغانستان میں اپنے سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈ سے سٹیلائٹ فون کے ذریعے رابطے میں تھے ۔رپورٹ کے مطابق اب فائنل کلیئرنس آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تصاویر منظر عام پر آگئیں ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ 12 مارچ کو دوران فائنل کلیئرنس آپریشن میں مارے جانے والے دہشت گرد غیر ملکی اسلحہ سے لیس تھے ، تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کے دہشت گرد ٹرین کے ارد گرد مارے گئے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں