میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی وزارتی اجلاس ، غزہ کی تعمیر نو کی حمایت

اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی وزارتی اجلاس ، غزہ کی تعمیر نو کی حمایت

ویب ڈیسک
اتوار, ۹ مارچ ۲۰۲۵

شیئر کریں

اجلاس میں فلسطینیوںکی نقل مکانی، الحاق، جارحیت اور تباہی کی پالیسیاں مسترد
خطے میں مستقل اور جامع امن فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی حاصل ہو سکتا ہے

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے وزرائے خارجہ اجلاس میں رکن ممالک نے عرب منصوبے کے تحت غزہ کی تعمیر نو کی حمایت کردی۔ سعودیہ عرب کے شہر جدہ میں او آئی سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔اس موقع پر سربراہ او آئی سی نے کہا کہ فلسطینی عوام کی جبرا نقل مکانی جیسے بیانات کو مسترد کرتے ہیں۔ اجلاس میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت پر تبادلہ خیال کیا گیا اورفلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت اور فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے اور فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نقل مکانی، الحاق، جارحیت اور تباہی کی پالیسیوں کو مسترد کیا گیا۔ اجلاس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ فلسطین کا مسئلہ اسلامی قوم کا مرکزی مسئلہ ہے۔یہ اجلاس قاہرہ میں ہونے والے عرب سربراہی اجلاس کے بعد منعقد ہوا ہے۔ عرب سربراہی اجلاس نے اپنے حتمی بیان میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ غزہ میں سکیورٹی کا انتظام غزہ کی انتظامیہ کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔عرب سربراہی اجلاس کے حتمی بیان میں غزہ کے انتظام اور فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کی کوششوں اور انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک کمیٹی بنانے کے فلسطینی فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ اجلاس میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کرنے کے مطالبات اور خیالات کو مسترد کرنے کی تجدید کردی،سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ان کا ملک دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی اتحاد کے ذریعے ممالک کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا خطے میں مستقل اور جامع امن صرف ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو اور جس کی سرحدیں چار جون 1967 والی ہوں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں