میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
روس یوکرین جنگ کو ختم کرنے کی کوششیں

روس یوکرین جنگ کو ختم کرنے کی کوششیں

ویب ڈیسک
پیر, ۲۴ فروری ۲۰۲۵

شیئر کریں

جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت میں آنے سے پہلے اعلان کر دیا تھا کہ وہ کینیڈا کو 51 ویںاسٹیٹ بنائیں گے اور گرین لینڈ کو بھی اپنے زیر اثر لے لیں گے اور وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر کے دم لیں گے، آج کل امریکہ اور کینیڈا کے درمیان لفظی گولہ باری جاری ہے ۔کینیڈا کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کینیڈا ایک آزاد ملک ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو اس طرح کے بیان دینے سے گریز کرنا چاہیے جبکہ گرین لینڈ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین جنگ پر مذاکرات سعودی عرب میں شروع ہو گئے ہیں۔ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اس حوالے سے بات چیت کرنے کے لیے آمنے سامنے ہونے والی یہ پہلی ملاقات ہو سکتی ہے لیکن یہ مذاکرات آخر سعودی عرب میں ہی کیوں ہو رہے ہیں؟ یہ بات تو سب لوگ جانتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے وہ اپنے روسی ہم منصب سے سعودی عرب میں ملنا چاہیں گے۔ یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔ چند روز قبل انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پیوٹن سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم شاید پہلی بار سعودی عرب میں ملاقات کریں گے۔ ٹرمپ کا یہ بیان روسی صدر پیوٹن اور یوکرین کے صدرزیلنسکی کے ساتھ الگ الگ فون کالز کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے دونوں صدور سے امن کے امکانات پر بات کی تھی۔ واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے نائب صدر پال کا کہنا ہے کہ ٹرمپ پیوٹن ملاقات کے لیے سعودی عرب کا انتخاب اس کا غیر جانبدار ہونا ہے۔ یہ معاملہ مغربی یورپ میں ممکن نہیں کیونکہ ان کا یوکرین کے حق میں سخت موقف ہے ۔دوسری جانب پروفیسر ڈاکٹر خطر کے مطابق اس قسم کی ملاقات کے لیے عموما ً جینوا یا دیگر غیر جانبدار یورپی شہروں کا انتخاب کیا جاتا تھا لیکن سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ماسکو کے تعلقات کی خرابی اور بعض یورپی ممالک کے بدلتے ہوئے موقف نے سعودی عرب کے انتخاب کو زیادہ ممکن بنایا ہے۔ سعودی عرب پیوٹن کے ساتھ اعتماد کا رشتہ بنانے میں کامیاب ہوا اور اس کے علاوہ وہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کا رکن بھی نہیں۔ 2023میں بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی نے یوکرین میں جنگ کے سلسلے میں پیوٹن کے لیے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا اور انہیں جنگی جرائم کا ملزم ٹھہرا لیا تھا ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب گزشتہ برسوں میں عالمی سفارت کاری میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اپنی پوزیشن ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے اور حال ہی میں روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں ثالثی کرنے میں بھی کامیاب رہا ہے جس سے اسے دونوں فریقوں کا اعتماد حاصل ہوا ہے۔ سعودی عرب نے کئی مواقع پرزیلنسکی اور پیوٹن دونوں کی میزبانی بھی کی اور دیر پا قیام امن کے حل تک پہنچنے کی کوشش میں اس نے جدہ شہر میں متعدد ممالک کے نمائندوں کے لیے ایک اجلاس کی میزبانی کی 2023میں پیوٹن کے ریاض کے دورے کے دوران محمد بن سلمان نے انہیں مہمان خصوصی اور سعودی حکومت اور عوام کے کے لیے بہت پیارے شخص کے طور پر بیان کیا ۔خلیجی ممالک اور مشرق وسط کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سلطنت عمان قطر اور امارت کی طرح اب سعودی عرب بھی ثالث کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور ایک اہم علاقائی ریاست کے طور پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہتا ہے ۔ ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات کی میزبانی سے سعودی عرب کو سفارتی فائدہ ہو سکتا ہے اور بدلے میں سعودی عرب امریکہ کے اسٹریٹیجک مفادات میں زیادہ تعاون کرے گا جیسے چار عرب ممالک اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہم معاہدہ پر دستخط وغیرہ ڈونلڈ ٹرمپ اقتصادی اور اسٹریٹیجک وجوہات کی بنا پر سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور وہ ایک دن امریکہ سعودی اسرائیل معاہدہ چاہتے ہیں۔ ٹرمپ اور پیوٹن نے اپنی ملاقات کے لیے ریاض کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ تمام ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کے لیے موضوع ترین جگہ ہے اور یہ کہ یہ ملک بہت سے علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجز کے درمیان ایک مضبوط اور ایماندار سفارتی ثالث کے طور پر ابھرا ہے ۔سعودی عرب کو اس بات کا احساس ہے کہ سربراہی اجلاس کی کامیابی سے مسئلہ فلسطین سمیت دنیا بھر میں کشیدگی کے کئی محاذوں پراثر پڑے گا کیونکہ یہ خطہ دو طاقتوں یعنی امریکہ اور روس کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔سعودی عرب مشرقی وسطیٰ میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے لیے ایک اہم ملک ہے ۔خاص طور پر جب مسئلہ فلسطین اور صدی کی ڈیل کی بات کی جائے وہ یہ ڈیل پاس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے آگے بڑھنے کی صورت میں عرب اور اسلامی دنیا پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
عالمی توانائی کی منڈیوں پر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے اثرات کے پیش نظر ماہرین نے نشاندہی کی کہ سعودی عرب نے تیل کی منڈیوں کے استحکام اور توازن کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور روس تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کے طور پر ایک دوسرے کے مفادات کا پاس رکھتے ہیں اور ان کے تعلقات نے اوپیک پلس اتحاد کے اندر کئی معاہدوں کو انجام دینے میں مدد کی ہے ۔وہ توقع کرتے ہیں کہ ٹرمپ پیوٹن سربراہی ملاقات میں نہ صرف یوکرین جنگ کے خاتمے بلکہ تیل کی عالمی قیمتوں اور اقتصادی تعاون پر بھی توجہ مرکوز ہوگی ۔ٹرمپ امریکی توانائی کمپنیوں کے لیے تیل کی ترجیحی قیمتوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔اس سے پہلے وہ کم قیمتوں کا مطالبہ کر چکے ہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنی پہلی مدت کے دوران 2017میں پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا تھا جس نے دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مقابلے کی روشنی میں مملکت کو اپنے عزائم کے مطابق سفارتی حیثیت دی۔ ٹرمپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ ان کے دوسرے دور حکومت میں ان کا پہلا غیر ملکی دورہ دوبارہ سعودی عرب کا ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے انہوں نے ایک شرط رکھی ہے انہوں نے جنوری میں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر سعودی عرب 450یا 500 ارب ڈالر کی ہماری مصنوعات خریدنا چاہتا ہے تو میں وہاں جاؤں گا ۔اس کے بعد سعودی ولی عہد نے انہیں فون کیا۔ مملکت کی طرف سے اگلے چار سالوں میں امریکہ کے ساتھ اپنی سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات کو 600 بلین ڈالر تک بڑھانے کی خواہش کی تصدیق کی گئی جبکہ اس میں اضافہ بھی متوقع ہے لیکن ٹرمپ نے ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فارم کے دوران کہا میں ولی عہد شہزادہ سے کہوں گا جو ایک شاندار شخص ہے کہ اس رقم کو تقریبا ایک کھرب ڈالر تک بڑھا دیں۔ انہوں نے مزید کہا مجھے لگتا ہے کہ وہ ایسا کریں گے کیونکہ ہمارے تعلقات ان کے ساتھ بہت اچھے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سعودی عرب نے واضح کر دیا ہے کہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ختم نہیں کرے گا لیکن ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب اور پورے خطے میں امریکہ کے اثر رسوخ کومستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کے روس اورسعودی عرب کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں لیکن اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر بے چینی پائی جاتی ہے ۔روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے سعودی عرب میں جاری اجلاس میں یوکرین کے صدرزیلنسکی یا کوئی بھی اور یوکرینی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔ اس سے واضح اشارے ملتے ہیں کہ سعودی عرب میں جاری میٹنگ کے کامیاب ہونے کے امکان کم ہیں ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یوکرین کے صدرزیلنسکی نے پہلے ہی اس کی وضاحت کر دی تھی کہ ہم کسی معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں ہماری شرکت نہ ہو۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی ترکی کے صدر طیب اردگان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا سعودی عرب اور روس کے تعاون کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کی جنگ کو ختم کرانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں