میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ میں سولر انرجی پراجیکٹ میں اربوں کی بے قاعدگیاں

سندھ میں سولر انرجی پراجیکٹ میں اربوں کی بے قاعدگیاں

ویب ڈیسک
بدھ, ۳۱ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

این جی اوز کے تحت سولر پروجیکٹ میں 27 ارب کی کرپشن کے ثبوت ملے ہیں،حکام پلاننگ ڈویژن
غریب لوگوں کو سولر پینل ملنے تھے، بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں ہر لیول پر پائی گئی ہیں،سینیٹ قائمہ کمیٹی

سندھ میں 27 ارب روپے کے سولر انرجی پراجیکٹ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں سندھ میں 27 ارب روپے کے سولرانرجی پروجیکٹ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیا۔حکام پلاننگ ڈویژن سندھ نے بتایا کہ سولر پروجیکٹ میں اربوں روپے کی کرپشن کے ثبوت ملے ہیں، اس پروجیکٹ کی دو مرتبہ انکوائریاں مکمل کی گئی ہیں، یہ این جی اوز کے تحت پروجیکٹ دیا گیا تھا، اس پروجیکٹ کے تحت غریب لوگوں کو سولر پینل ملنے تھے، اس میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں ہر لیول پر پائی گئی ہیں۔سینیٹرکامل علی آغا کا کہنا تھا کہ غریب کا پیسہ کھانا بڑا ظلم ہے، ایسا کرنا بڑا جرم ہے۔ سیف اللہ ابڑو کا کہنا تھا کہ این جی اوز کی سلیکشن بغیر ٹینڈر کے ہوئی اور کچھ لوگوں میں بندربانٹ کی گئی، 21 ہزار میں ملنے والا پینل 60 ہزار میں لیا گیا، اپنی مرضی کے لوگوں کو نوازنے کے لیے پورا پلان بنایا گیا۔قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تمام ریکارڈ کے ہمراہ سیکرٹری کو دوبارہ طلب کرلیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں