سندھ بلڈنگ ،گلستان جوہر میں خطرناک تعمیرات کا جاں لیوا سلسلہ
شیئر کریں
15منزلہ عمارتیں بغیر فائر سسٹم کے زیر تعمیر،بلڈنگ انسپکٹراورنگزیب خان کی ملی بھگت
بلاک 3A پلاٹ SD 5/2موت کے گھرہنگامی راستوں سے محروم، حکام خاموش
ضلع شرقی کے علاقے گلستان جوہر میں تعمیراتی مافیا اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے انسپکٹر اورنگزیب خان کی مبینہ ملی بھگت کے باعث حفاظتی ضوابط کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے بلند عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق انسپکٹر اورنگزیب خان مالی مفادات کے عوض خطرناک تعمیراتی منصوبوں کو منظوری دیتے ہیں اور غیرمعیاری تعمیرات پر جان بوجھ کر چشم پوشی برتتے ہیں۔گلستان جوہر کے مختلف بلاکس میں تعمیر ہونے والی 10 سے 15 منزلہ رہائشی عمارتوں میں جدید فائر فائٹنگ سسٹم، اسموک ڈیٹیکٹرز، فائر ہائیڈرنٹس اور ہنگامی اخراج کے راستے سرے سے موجود نہیں ہیں۔ یہ تمام عمارتیں غیرمعیاری تعمیراتی مواد اور غلط ڈھانچے پر کھڑی کی گئی ہیں، جس سے آگ لگنے یا زلزلہ آنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا شدید خطرہ لاحق ہے ۔بلاک 3A کے پلاٹ SD5/2 پر بلند عمارت کی تعمیر جاری ہے ،مقامی رہائشیوں نے ایس بی سی اے کے دفتر میں اورنگزیب خان سمیت اعلیٰ افسران کے نام متعدد تحریری شکایات درج کرائی ہیں، مگر ہر بار کارروائی کی بجائے معاملے کو التوا کا شکار بنا دیا جاتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شکایات درج کرانے کے بعد تعمیراتی عمل میں اور تیزی آ جاتی ہے ۔ ایک مقامی رہائشی کے مطابق، "اورنگزیب صاحب خود معائنے کے لیے آئے ، مگر انہوں نے کسی کمی کی نشاندہی کرنے کی بجائے کنٹریکٹر کے ساتھ گپ شپ لگاتے رہے ۔”ہر 15 منزلہ عمارت میں تقریباً 50 سے 60 خاندان رہائش پذیر ہیں، یعنی ہر عمارت میں 300 سے 400 افراد کا روزانہ کا گزر ہے ۔ سیڑھیوں کی تنگی، تاریک راستے اور فرار کا کوئی متبادل نظام نہ ہونے کی صورت میں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے ۔شہری حقوق کے کارکنوں اور مقامی رہائشیوں نے فوری مطالبہ کیا ہے کہ ایس بی سی اے انسپکٹر اورنگزیب خان کے خلاف فوری محکمہ جاتی کارروائی اور تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔ تمام غیرمعیاری اور غیرقانونی تعمیرات پر فوری پابندی عائد کی جائے ۔پہلے سے تعمیر شدہ خطرناک عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر معائنہ کرکے انہیں یا تو محفوظ بنایا جائے یا انہیں ڈھایا جائے۔ گلستان جوہر کے لیے ایک خصوصی حفاظتی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جس میں مقامی نمائندے بھی شامل ہوں۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے پر اب تک سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا ہے ، جبکہ دن رات غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔


