بلدیہ اتحاد ٹاؤن میں جعلی کھاد بنانے والی فیکٹری کا انکشاف ،6ملازمین گرفتار
شیئر کریں
اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میںوفاقی ادارے اور پولیس چھاپے کے دوران جعلی کھاد کو چیک کیا تو مٹی کا ڈھیر بن گئی
مختلف ناموں کے ہزاروں بیگز، مشینیں، یوریا کو اصلی دکھانے کیلئے بنائے گئے جعلی اسٹیکرز و دیگر سامان برآمد
کراچی میں جعلی زرعی کھاد بنانے والی فیکٹری پکڑی گئی، بڑی مقدار میں کھاد، مشینری اور دیگر سامان برآمد کرتے ہوئے 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اتحاد ٹاؤن میں وفاقی حساس ادارے کی اطلاع پر ڈپٹی کمشنر کیماڑی کی ٹیم نے کھاد بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ مارا۔ کارروائی اسسٹنٹ کمشنر مراد گل کی سربراہی میں پولیس نے کی، محکمہ زراعت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر بھی کارروائی کے دوران موجود تھے۔فیکٹری سے بڑی تعداد میں مشینری اور کھاد کے تھیلے برآمد کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر کیماڑی راجا طارق چانڈیو کے مطابق کھاد بنانے والی 8 ڈرم مشینیں، STK اینگرو فرٹیلائزر کی 2 رسید بکس، جعلی ڈی اے پی ؍ این پی کے 4 ہزار تھیلے، سلفر کے 20 تھیلے اور کیمیکل کے 25 تھیلے قبضے میں لیے گئے۔فیکٹری سے فاسٹ ایگرو دانہ دار کھاد کے 10 کلو والے 1500 تھیلے، لال رنگ کے 10 تھیلے، کراپ بوسٹر دانہ دار کھاد کے 5000 خالی تھیلے بھی برآمد ہوئے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق فیکٹری سے مختلف کمپنیوں کے جعلی اور خالی تھیلے بھی برآمد ہوئے جن میں چیمپئن این پی کے 500، اینگرو یوریا کے 10، بیسٹ فرٹیلائزر SKT کے 3000، امونیم سلفیٹ کے 3000، اسٹاکیٔر فاطمہ فرٹیلائزر کے 5000، ایزا میکس گولڈ فرٹیلائزر کے 5000، آرگن گرین کے 3000، نیلو این پی کے 2000، کل آؤٹ دانہ دار کے 5000، کلر دانہ دار SKT کے 5000 تھیلے شامل ہیں۔فیکٹری سے کارروائی کے دوران سرسبز این پی کے 2000 خالی تھیلے بھی برآمد ہوئے۔ ملزمان جعلی کھاد تیار کر کے مارکیٹ میں فروخت کر رہے تھے۔ڈی سی راجا طارق چانڈیو کا کہنا ہے کہ جعلی کھاد کی وجہ سے کاشتکاروں کو بڑا نقصان پہنچ رہا ہے۔ پولیس نے برآمد شدہ سامان کو تحویل میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔


