پاکستان پوسٹ آفس کراچی سے حیدرآباد چھالیہ سپلائی کا ذریعہ بن گیا
شیئر کریں
اسپیشل ریلوے پولیس کی حیدرآباد پوسٹ آفس کے گودام میںکارروائی ،بڑی مقدار میں مضر صحت چھالیہ برآمد
ملزمان الطاف شاہ اور بشیر احمد ودیگر ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے ،مضر صحت چھالیہ قبضے میں لے کر مقدمہ درج
( رپورٹ: افتخار چوہدری) پاکستان پوسٹ آفس کے ذریعے کراچی سے حیدرآباد مضر صحت چھالیہ سپلائی ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ریلوے پولیس نے حیدرآباد پوسٹ آفس کے گودام میں چھاپہ مار کاروائی کے دوران بڑی مقدار میں مضر صحت چھالیہ برآمد کر لی ریلوے پولیس نے 1ماہ کے دوران تیسری دفعہ پوسٹ افس کے گودام سے مضر صحت چھالیہ برامد کی ہے تا حال پوسٹ افس کے کسی بھی ملازم کے خلاف کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ تفصیلات کے مطابق سپیشل برانچ ریلوے پولیس کراچی ڈویژن نے چیکنگ کے دوران حیدراباد ریلوے اسٹیشن کی حدود سے پلیٹ فارم نمبر 1 پر واقع ریل میل سروس RMS کے دفتر سے 13 عدد سفید بورے جن کے اندر بڑی مہارت سے ممنوع مضر صحت چھالیہ چھپائی گئی تھی برامد کر لی۔ریلوے پولیس کے مطابق مضر صحت چھالیہ کراچی سے حیدراباد پوسٹ افس کے ذریعے لائی گئی ہے۔مضر صحت چھالیہ پوسٹ افس کے ذریعے بھیجنے والے ملزم کا تعلق کراچی کے علاقے جوڑیا بازار سے ہے۔جس کی شناخت الطاف شاہ کے نام سے بتائی جاتی ہے۔اور حیدراباد میں وصول کرنے والے ملزم کی شناخت بشیر احمد کے نام سے ہوئی ہے ۔پولیس نے مضر صحت چھالیہ قبضے میں لے کر مقدمہ درج کر لیا اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔واضح رہے کہ ممنوعہ مضر صحت چھالیہ 1 ماہ کے دوران تیسری بار پاکستان پوسٹ افس سے برامد ہوئی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس مضرصحت چھالیہ کی بکنگ کرنے والے پاکستان پوسٹ افس کے ملازمین کو شامل تفشیش کرنا چاہیے۔تاکہ اس غیر قانونی کام میں ملوث اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دے کر سرکاری محکمے کی بدنامی بننے والے عناصر کو منظر عام پر لا کر سدباب کیا جائے ۔ایس ار پی کراچی ڈویژن امین عالم کے مطابق اس گروہ کے خلاف ریلوے پولیس مکمل چھان بین کر رہی ہے ۔ اگر کوئی سرکاری اہلکار اس گھناونے کاروبار میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔


