سندھ بلڈنگ ،ڈسٹرکٹ سینٹرل میں جعلی نقشوں کا انکشاف ، بیٹرز متحرک
شیئر کریں
67سے زائد جعلی نقشے تیار، ڈپٹی کمشنر سینٹرل سمیت متعلقہ ادارے اندھیرے میں
ڈپٹی ڈائریکٹر زبیر مرتضیٰ اور بلڈنگ انسپکٹر ندیم اختر کی ملی بھگت ، کارنامے بے نقاب
ڈسٹرکٹ سینٹرل میں غیرقانونی تعمیرات کے تحفظ کے لیے جعلی نقشوں کی بھرمار کا انکشاف ہوا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) کے ڈپٹی ڈائریکٹر زبیر مرتضیٰ اور بی آئی ندیم اختر نے ملی بھگت کر کے 67سے زائد جعلی نقشے تیار کیے اور ڈپٹی کمشنر سینٹرل سمیت متعلقہ اداروں کو اندھیرے میں رکھا۔اطلاعات کے مطابق ان جعلی نقشوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی بھاری رشوت وصول کی گئی۔ بی آئی ندیم اختر کو ’’جعلی نقشوں کا بے تاج بادشاہ‘‘ کہا جاتا ہے جو اپنے ڈپٹی ڈائریکٹر کے ساتھ مل کر غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کرتا رہا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ زبیر مرتضیٰ نے پرائیویٹ بیٹر سسٹم دوبارہ متعارف کروا دیا، جس کے ذریعے پرانے بدنام زمانہ بیٹرز ایک بار پھر متحرک ہو گئے اور مبینہ طور پر گاڑیوں میں ہی رشوت کی رقوم وصول کی جانے لگیں۔مزید برآں، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ندیم اختر نے ڈائریکٹر سینٹرل کو اعتماد میں لے کر جعلی نقشوں کے اجرا میں کلیدی کردار ادا کیا اور ڈپٹی کمشنر سینٹرل کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔ دوسری جانب زبیر مرتضیٰ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر دور میں سسٹم کے قریب رہے ہیں اور اسی ’’مضبوط تعلق‘‘ کو اپنی پشت پناہی قرار دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں بھی وہ ڈسٹرکٹ سینٹرل کے نظام کو سنبھالتے رہے اور آج بھی طاقتور نیٹ ورک کی بدولت اپنے اثرورسوخ کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔


