بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
بھارتی معاشرے میں امتیازی قوانین، تعصبی بیانات اور اقلیتوں کی حقوق سے محرومی عام ہے۔ بھارت میں تعصب، بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر ، بے دخلی اور تشدد عروج پر ہے جبکہ بھارتی سول سروس میں مسلمانوں کی کم نمائندگی ، انٹرنیٹ پابندیاں، نفرت انگیز واقعات اور مکانات کا انہدام بڑے پیمانے پر تشدد کی تیاری کو ظاہر کرتے ہیں۔ جینوسائیڈ واچ کے مطابق کل آبادی کا 14.2فیصد ہونے کے باوجود مسلمانوں کی نمائندگی سول سروس میں صرف 3فیصد اور پولیس میں 4فیصد ہے۔ لاکھوں مسلمان قانونی تحفظ اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہیں ہو سکتے۔
آسام میں 70لاکھ سے زائد افراد کی شہریت ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ آسام میں 10 نئے حراستی مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جبکہ سب سے زیادہ بنگالی مسلمانوں کو شہریت سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔ ہندوتوا رہنما ہندوؤں کو اسلحہ اٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں اور تشدد کو دفاع کے نام پر جائز قرار دیتے ہیں۔ دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمانوں کے قتل کے لیے آن لائن ویڈیوز، گانے اور پیغامات وائرل کیے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں پر ہندو جتھوں کے حملوں میں پولیس نے زیادہ تر مسلم متاثرین کو گرفتار کیا۔ بھارت کی جیلوں میں مسلمان قیدیوں کی تعداد 19فیصد ہے۔جینوسائیڈ واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں نفرت انگیز تقریبات اور تربیتی کیمپ فوری طور پر بند کیے جائیں۔
بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں رام نومی کے جلوس کے دوران ہندو انتہاپسندوںنے مسلمانوں اور ان کی املاک پر حملہ کیا، لوٹ مار کی اور کئی دکانوں کونذرآتش کردیا یہ واقعہ ضلع مرشدآباد میں جنگی پور سب ڈویژن کے علاقے پھولتلہ میں پیش آیا جہاں زیادہ تر مکانات، چھوٹے کاروبار، پھلوں کے سٹالز اور کھانے پینے کی دکانوں کا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے۔کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب رام نومی کا جلوس ایک مسجد کے سامنے سے گزرا جہاں نماز جمعہ جاری تھی اور جلوس میں شریک ہندو انتہاپسند بلند آواز میں موسیقی بجاتے او ر رقص کرتے رہے۔ نمازیوں نے مبینہ طور پر اعتراض کیا اور درخواست کی کہ جلوس کو نماز کے اختتام تک موخر کیا جائے لیکن ہندو انتہاپسندوں نے انکارکردیا۔جیسے ہی جلوس پھولتلہ موڑ کی طرف بڑھا تو صورتحال مزید بگڑ گئی کیونکہ ہندو انتہاپسندمسلمانوں کے گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے،ہندوتوا جھنڈے لہرائے، املاک کی توڑ پھوڑ کی، دکانوں کو نذرآتش کردیا اور رہائشیوں پر حملہ کیا۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بھارتی پولیس اور پیراملٹری فورسز کی موجودگی کے باوجود حملہ کافی عرصے تک جاری رہا لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہ واقعہ رگھوناتھ گنج پولیس اسٹیشن سے محض 500 میٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔جنگی پور کے رکن اسمبلی اور ترنمول کانگریس کے امیدوار ذاکر حسین نے کہا کہ یہ تشدد آئندہ انتخابات سے پہلے جان بوجھ کر بھڑکایاگیا۔ بی جے پی نے انتخابات سے پہلے جان بوجھ کر یہ کارروائی کی۔ پارٹی کو جنگی پور میں اندرونی دھڑے بندی کا سامنا ہے اور وہ فرقہ وارانہ بدامنی پھیلا کر ہندو ووٹوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس واقعے سے ریاست میں خاص طور پر اپریل کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں مسلمانوں پر ٹارگٹڈ حملوں کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہوئی ہے۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز نے 2021 سے 2025 تک 249 افراد کو دوران حراست اور اور جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہے۔یہ اعداد وشمار بھارتی حکومت کی طرف سے فراہم کر دہ اعداد و شمار کے بالکل برعکس ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جموںوکشمیر میں اپریل 2021سے اب تک صرف آٹھ افراد دوران حراست مارے جاچکے ہیں۔
بھارتی وزیر مملکت برائے امور داخلہ، نتیا نند رائے نے 24 مارچ 2026 کو پارلیمنٹ کے ایوان زیرین لوک سبھا کو مطلع کیا کہ جموں و کشمیر میں اپریل 2021 سے اب تک صرف آٹھ حراستی اموات کی اطلاع ملی ہے۔
بھارت کے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) کے اعداد و شمار 2021ـ22، 2022ـ23، 2023ـ24، اور 2024ـ25 میں ہر سال دو حراستی اموات کو ظاہر کرتے ہیں، 15 مارچ 2025 تک کسی حراستی موت کی اطلاع نہیں دی گئی۔تاہم ”کے ایم ایس” کی رپورٹ ان اعداد و شمار سے یکسر مختلف ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ” این ایچ آر سی ”مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی فورسز کے تشدد کی کارروائیوں کو چھپا رہا ہے۔2021میں 65،2022میں 59، 2023میں 41، 2024 میں50، 2025 میں34کشمیریوںکو دوران حراست اور جعلی مقابلوںمیں شہید کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار واضح پتہ دیتے ہیںکہ بھارت کشمیریوں کو آزادی کے مطالبے کی پاداش میں کس قدر بے رحمی سے نشانہ بنارہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خواتین سمیت 5ہزار سے زائد کشمیری اس وقت مقبوضہ جموں وکشمیراور بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ ان میں سے تقریباً 32سو کو آزادی پسند سرگرمیوں سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔ بیشتر کشمیری ”پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) اور یواے پی اے” جیسے کالے قوانین کے تحت بند ہیں۔
بھارتی فورسز اہلکاروں کو کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز زیکٹ کے تحت بے لگام اختیارات حاصل ہیں اور انہیں مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر کسی قسم کی جوابدہی کے عمل سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ جینوسائیڈ واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت نسل کشی کے دس مراحل میں سے سات مرحلے عبور کر چکا ہے۔ جینوسائیڈ واچ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو دنیا بھر میں نسل کشی کی نگرانی اور روک تھام کرتی ہے۔ جینوسائیڈ واچ کا دس مراحل پر مبنی فریم ورک نسل کشی کی علامات کی نشاندہی کرتا ہے۔ تنظیم نے فروری 2026 کی رپورٹ خاص طور پر بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی پر توجہ مرکوز کی ہے جس میں بتایا گیا کہ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے نفرت انگیز تقاریر اور مسلم مخالف ریلیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
٭٭٭


