میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ ،گلستان جوہر میں بلڈنگ مافیا کی اجارہ داری ،افسران سے ساز باز

سندھ بلڈنگ ،گلستان جوہر میں بلڈنگ مافیا کی اجارہ داری ،افسران سے ساز باز

ویب ڈیسک
جمعه, ۳۰ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسپکٹر اورنگزیب پر چمک کے سنگین الزامات دفعہ 144اور عدالتی احکامات نظر انداز
بلاک 10پلاٹ 704 کی پرانی عمارت پر بالائی منزل کی بلا روک ٹوک تعمیر جاری

گلستان جوہر کے علاقے میں ہونے والی غیر قانونی اور خطرناک تعمیرات کی تحقیقات نے ایک سنگین انکشاف کیا ہے ۔ مقامی رہائشیوں، سرکاری ریکارڈز اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ایک انسپکٹر اورنگزیب پر الزام ہے کہ وہ بلڈنگ مافیا سے ساز باز رکھتے ہوئے ، نہ صرف خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کرتا ہے بلکہ رشوت لے کر ان غیرقانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کر رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق، اورنگزیب کا تعلق علاقے کی نگرانی کرنے والے ایس بی سی اے یونٹ سے ہے ۔ رہائشیوں اور تعمیراتی ٹھیکیداروں کے متعدد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ باقاعدہ طور پر "پروٹیکشن منی” وصول کرتا ہے ۔ اس کے بدلے میں، وہ نہ تو غیر منظور شدہ منزلیں بنانے سے روکتا ہے ، نہ ہی زمینی منصوبوں پر تجاوزات کو ہٹواتا ہے ، اور نہ ہی خطرناک بجلی کے غیر قانونی کنکشنوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے ۔ مزید یہ کہ جب بھی کوئی رہائشی یا رضاکار تنظیم ایس بی سی اے میں اس کی خلاف ورزیوں کی لکھتی رپورٹ دائر کرتی ہے ، وہ اسے دبا دیتا ہے یا دفعات میں الجھا کر بے اثر کر دیتا ہے ۔جرأت سروے کے دوران حاصل کی گئی زیر نظر تصویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بلاک 10 کے پلاٹ نمبر 704 پرانی عمارت پر بالائی منزل کی تعمیر کا عمل جاری ہے ۔یہ صورت حال اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب دیکھا جائے کہ بعض مقامات پر تو ڈپٹی کمشنر کے دفعہ 144 کے تحت پابندی کے احکامات اور حتیٰ کہ عدالتوں کے تعمیراتی کام روکنے کے احکامات بھی موجود ہیں۔ مگر اورنگزیب اور اس جیسے دیگر افسران کی مبینہ ساز باز اور نگرانی میں، بلڈنگ مافیا رات کی تاریکی میں ہی نہیں بلکہ دن دہاڑے ان احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتی ہے اور تعمیرات جاری رکھتی ہے ۔ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "جب انسپکٹر صاحب ہی مافیا کے ساتھ ساز باز رکھیں، تو ہم کس سے شکایت کریں؟ وہ آتے ہیں، کاغذات دیکھتے ہیں، پھر ساز باز کرکے چلے جاتے ہیں۔ انہیں بھی حصہ ملتا ہے اور مافیا بھی بے خوف ہو کر عمارتیں کھڑی کرتی چلی جاتی ہے ۔ "شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت، اینٹی کرپشن اتھارٹی اور ایس بی سی اے کے اعلیٰ حکام فوری طور پر انسپکٹر اورنگزیب اور دیگر مبینہ طور پر ملوث افسران کے خلاف تفتیش کا احکام جاری کریں، ان کے تمام غیرقانونی معاملات اور اثاثوں کا جائزہ لیں، اور انہیں فوری طور پر معطل کرکے عدالت کے حوالے کیا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک اداروں کے اندر بیٹھے "بدعنوان عناصر” باہر نہیں نکالے جاتے ، گلستان جوہر سمیت پورے شہر میں تعمیراتی ضابطے کبھی نافذ نہیں ہو سکیں گے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں