میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
زرعی و آبپاشی اراضی پر غیرقانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری

زرعی و آبپاشی اراضی پر غیرقانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری

ویب ڈیسک
جمعه, ۳۰ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

غیرقانونی اقدامات کے باعث زرعی نظام اور آبپاشی کا پورا ڈھانچہ تباہ ہونے لگا
نجی ہاؤسنگ اسکیموں اور باؤنڈری وال کی منظوری پر سنگین الزامات،قوانین نظرانداز

(رپورٹ: اظہر رضوی)سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) پر زرعی اور آبپاشی کے لیے مختص اراضی پر غیرقانونی طور پر نجی ہاؤسنگ اسکیموں اور باؤنڈری وال کی منظوری دینے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ یہ ہاؤسنگ اسکیمیں نیشنل ہائی وے اور سٹی لطیف آباد کے مختلف علاقوں میں قائم کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق مذکورہ اراضی نہ صرف زرعی مقاصد کے لیے مختص تھی بلکہ اس میں آبپاشی کے باقاعدہ واٹر کورسز بھی موجود تھے ۔ قوانین کے تحت زرعی اور آبپاشی اراضی پر کسی بھی قسم کی رہائشی یا کمرشل اسکیم کی اجازت نہیں دی جا سکتی، تاہم اس کے باوجود ایس بی سی اے نے ان منصوبوں کی منظوری دے دی۔دوسری جانب سندھ بورڈ آف ریونیو کے قواعد و ضوابط کے مطابق سرکاری زمین اور بھاڑے (لیز) کی اراضی پر ہاؤسنگ اسکیمیں قائم کرنے پر پابندی عائد ہے ، مگر ان قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے سرکاری، بھاڑہ اور زرعی اراضی کو نجی ہاؤسنگ اسکیموں میں شامل کر لیا گیا۔ماہرین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان غیرقانونی اقدامات کے باعث زرعی نظام اور آبپاشی کا پورا ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے ، جس سے کسانوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور مستقبل میں پانی کی قلت کا خطرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے ۔متاثرہ افراد اور شہریوں نے حکومتِ سندھ، چیف سیکریٹری اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی اور آبپاشی اراضی پر قائم تمام غیرقانونی ہاؤسنگ اسکیموں کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں