چین کی انسان بردار خلائی پرواز ، خلاء میں نئی تحقیقات کے لیے کوشاں
شیئر کریں
چین کے انسان بردار خلائی منصوبے کے ترجمان جی چھی منگ نے کہا ہے کہ چین کی انسان بردار خلائی پرواز نہ صرف زمین کے قریبی مدار میں رہے گی بلکہ اس کے بعد زمین سے زیادہ دور اور مستحکم پرواز کرتے ہوئے نئی تلاش کرے گی، خلا کی تسخیر کے میدان میں چاند انسانوں کیلئے پہلے مثالی بنیادی مقام کا درجہ رکھتا ہے، چاند کی تحقیق ہمیشہ سے ہی دنیا میں انسان بردار خلائی پروازوں کی ترقی کا مرکز و محور رہی ہے۔ چین کے شینزوـ 15 انسان بردار مشن کے حوالے سے تعارفی پریس کانفرنس جیو چھوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر میں منعقد ہوئی۔ جی چھی مِنگ نے کہا کہ چینی حکومت کی طرف سے منظور شدہ ترقیاتی حکمت عملی کے مطابق ہم نے انسان کے چاند پر اترنے، چاند پر تحقیق کرنے سمیت تمام اہم ٹیکنالوجیز کا شاندار تجربہ حاصل کر لیا، ابتدائی مراحل میں انسان براد خلائی جہاز کی تیاری، لانچنگ راکٹس کی تیاری، چاند پر لینڈنگ، چاند پر چہل قدمی کے لیے لباس اور انسان بردار مشن کی دیگر بنیادی ٹیکنالوجیز کی تیاری میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ ان کامیابیوں نے چین کے چاند کی تحقیق کے انسان بردار منصوبے کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ چائنا مینڈ اسپیس انجینئرنگ آفس کے مطابق شینزو ـ15 خلائی جہاز انیس نومبر کی شام گیارہ بج کر آٹھ منٹ پر لانچ کرنے کے لیے تیار ہے۔ خلائی اسٹیشن کے مرحلے وار مشن کے ہیڈ کوارٹر کے مطابق تین خلا باز فی جون لونگ ، ڈینگ چھِنگ مِنگ اور چانگ لو شینزو 15 انسان بردار مشن کو انجام دیں گے، مشن کے کمانڈر فی جون لونگ ہوں گے۔