میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ ،شہر قائد میں غیر قانونی تعمیرات کا عفریت بے قابو

سندھ بلڈنگ ،شہر قائد میں غیر قانونی تعمیرات کا عفریت بے قابو

ویب ڈیسک
پیر, ۲۹ ستمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

ڈپٹی عمران رضوی شہریوں کی جانوں کے لیے مسلسل خطرے کا سبب، وسطی میں نمائشی انہدام
ازسرنو تعمیر کے نام پر خطیر رقم کی وصولیاں، سی ون ایریا 10/5 اور 7/7پر تعمیراتی لاقانونیت

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں غیر قانونی اور بے ہنگم تعمیرات نے شہری انتظامیہ اور عوام کے لیے ایک بحران کی شکل اختیار کر لی ہے ، جس کے نتیجے میں ہر سال قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔شہر کے مصروف اور گنجان علاقے لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی کے جاری غیر قانونی دھندوں نے انسانی قیمتی جانوں کیلئے مسلسل خطرے کا سامان پیدا کردیا ہے ۔نمائشی انہدام اور منہدم کی جانے والی عمارتوں کی ازسرنو تعمیر کی چھوٹ ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر دے رکھی ہے ۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات اور زمینی حقائق کے مطابق لیاقت آباد سی ون ایریا کے پلاٹ 10/5 اور 7/7 پر غیر قانونی امور کی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔مافیا ملی بھگت سے کمزور بنیادوں کی پرانی عمارتوں پر بالائی منزلوں کی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہ تعمیرات نہ صرف شہر کے اساسی ڈھانچے پر دباؤ کا باعث بن رہی ہیں بلکہ آتشزدگی اور گرنے کے واقعات میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔اگرچہ وقتاً فوقتاً غیر قانونی تعمیرات کے خلاف انہدامی کاروائیاں ہوتی رہتی ہیں، لیکن یہ کارروائیاں محض” نمائشی” ثابت ہوتی ہیں۔ اور کچھ ہی روز میں منہدم کی جانے والی عمارتوں کی ازسرنو تعمیر کی چھوٹ دے دی جاتی ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے اسد نامی مقامی شہری کا کہنا ہے کہ بے ہنگم عمارتوں کی تعمیر کی وجہ سے ان کی روزمرہ کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ۔ "سڑکیں اور گلیاں اتنی تنگ ہو گئی ہیں کہ ایمبولینس یا فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کا داخلہ ممکن نہیں رہا،”شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے محض عمارتیں گرانا کافی نہیں ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، شہر کے لیے ایک جامع ماسٹر پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے سستی رہائش کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے تاکہ لوگ غیر قانونی تعمیرات کی طرف مجبور نہ ہوں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر غیر قانونی تعمیرات کے اس رجحان پر فوری اور مؤثر طریقے سے قابو نہ پایا گیا تو کراچی جیسے کروڑوں آبادی کے شہر کے لیے بڑے پیمانے پر انسانی المیے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ،خاص طور پر زلزلے یا سیلاب جیسے قدرتی حالات میں۔حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مزید مہم کا منصوبہ زیرغور ہے ، تاہم شہریوں کا اصرار ہے کہ اب نہ صرف منصوبہ بندی بلکہ ٹھوس اور شفاف عمل کی ضرورت ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں