18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم
شیئر کریں
8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات
چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہنما اسے صوبوں کے حقوق پر حملہ قراردے رہے ہیں، باخبر ذرائع کا دعویٰ
ملک میں ایک بار پھر آئین پاکستان کی 18ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں باخبر ذرائع کے مطابق بعض حکومتی حلقوں میں اس ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو نہ صرف صوبوں کے اختیارات متاثر ہوں گے بلکہ طاقت کا توازن دوبارہ وفاق اور بیوروکریسی کی جانب منتقل ہو سکتا ہے۔2010 میں منظور ہونے والی 18ویں ترمیم پاکستان کی تاریخ کی ایک اہم آئینی تبدیلی تھی جس کے تحت صوبوں کو خودمختاری دی گئی،Concurrent Listختم کی گئی ،تعلیم، صحت، زراعت، بلدیات جیسے شعبے صوبوں کے حوالے کیے گئے اور وفاقی حکومت کے اختیارات محدود کیے گئے۔ذرائع کے مطابق ممکنہ تبدیلیوں میں اختیارات کی واپسی سمیت تعلیم اور صحت جیسے بڑے شعبے دوبارہ وفاق کے کنٹرول میں جا سکتے ہیں جبکہ صوبائی خودمختاری کم ہونے سے فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات ہیں ۔چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا صوبوں کو ملنے والا مالی حصہ کم جبکہ وفاقی حکومت مالی وسائل پر زیادہ کنٹرول حاصل کر سکتی ہے اسی طرح بعض اہم پالیسی معاملات میں صوبوں کی قانون سازی محدود ہو سکتی ہے۔اگر 18ویں ترمیم کمزور ہوتی ہے توپاکستان ایک بار پھر مرکزی کنٹرول کی طرف جا سکتا ہے اور صوبائی حکومتیں محض انتظامی یونٹ بن سکتی ہیں جبکہ اصل طاقت اسلام آباد اور بیوروکریسی کے پاس آ جائے گی ۔ماہرین اس معاملے پر منقسم ہیں حامیوں کا موقف ہے کہ یکساں پالیسی سازی ہوگی کرپشن اور نااہلی کم ہوگی قومی سطح پر بہتر ہم آہنگی پیدا ہوگی جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ صوبائی خودمختاری ختم ہو جائے گی چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھے گا ۔دوسری جانب سیاسی جماعتوں میں بھی اس معاملے پر اختلاف پایا جاتا ہے بعض وفاقی حلقے اصلاحات کے حق میں ہیں جبکہ کئی صوبائی رہنما اسے صوبوں کے حقوق پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔18ویں ترمیم کا ممکنہ خاتمہ یا تبدیلی پاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف اختیارات کی تقسیم بلکہ ملک کے وفاقی نظام کی بنیادوں کو بھی متاثر کرے گا۔


